سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں مقیم پاکستانی شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنائے جانے کے کوئی شواہد موجود نہیں، جبکہ حالیہ ڈی پورٹیشن کیسز کو یو اے ای حکام کی جانب سے معمول کی انتظامی اور قانونی کارروائیوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا اور بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ دعوے کیے جا رہے تھے کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے اور ہزاروں افراد کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ اس معاملے پر جمعرات کے روز سینیٹ اجلاس میں گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جہاں اپوزیشن اراکین نے حکومت سے فوری وضاحت اور سفارتی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایوان بالا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جنوری سے اپریل 2026 کے دوران تقریباً 3 ہزار 494 پاکستانی شہریوں کو یو اے ای سے بے دخل کیا گیا، تاہم ان افراد میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جو مختلف قانونی مقدمات، ویزا خلاف ورزیوں یا انتظامی مسائل میں ملوث تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس تعداد کو پاکستانیوں کے خلاف کسی منظم یا امتیازی مہم سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات ایک خودمختار ریاست ہے جس کے اپنے قوانین اور ضوابط ہیں اور ہر غیر ملکی شہری کو ان قوانین کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔
حکومت نے “منفی پروپیگنڈا” قرار دے دیا
طارق فضل چوہدری نے اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنائے جانے کی خبریں “بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا” ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ ایران-امریکہ کشیدگی اور خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث کئی کاروباری ادارے اور کمپنیاں متاثر ہوئی ہیں، جس کے اثرات خلیجی ممالک میں کام کرنے والے مختلف غیر ملکی کارکنوں پر بھی پڑے ہیں۔
وزیر نے مزید بتایا کہ پاکستان کے سفارتی مشنز یو اے ای حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور بے دخل کیے گئے پاکستانی شہریوں کے لیے ہنگامی سفری دستاویزات جاری کیے گئے تاکہ ان کی وطن واپسی اور ریکارڈ کو یقینی بنایا جا سکے۔
اپوزیشن کا سخت ردعمل
اپوزیشن رہنماؤں نے حکومتی وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا۔ اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے سینیٹ میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران تقریباً 2 ہزار پاکستانی شہریوں کو یو اے ای سے بے دخل کیا گیا جبکہ بعض افراد کے بینک اکاؤنٹس اور مالی اثاثے بھی منجمد کر دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو اس کے پاکستان کی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں کام کر کے زرمبادلہ وطن بھیجتے ہیں۔
اپوزیشن ارکان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر یو اے ای حکومت کے ساتھ اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کرے اور متاثرہ پاکستانی کارکنوں کو قانونی معاونت فراہم کی جائے۔
پاکستانی کمیونٹی کا اہم کردار
وفاقی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں دو ملین سے زائد پاکستانی مقیم ہیں، جو وہاں کی دوسری بڑی غیر ملکی برادری شمار ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی یو اے ای کی تعمیر و ترقی، کاروبار، ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات موجود ہیں۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق درست ویزا اور قانونی دستاویزات رکھنے والے پاکستانی شہری بدستور یو اے ای میں قانونی طور پر ملازمت کر رہے ہیں اور ان کے لیے کسی نئی پابندی یا امتیازی پالیسی کی اطلاعات درست نہیں۔
مزید تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان
وزیر برائے پارلیمانی امور نے کہا کہ وزارت خارجہ سے مکمل تفصیلات موصول ہونے کے بعد حکومت پارلیمنٹ میں جامع اور تصدیق شدہ اعداد و شمار پیش کرے گی تاکہ اس معاملے پر تمام ابہام دور کیے جا سکیں۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستانی سفارتی مشنز قونصلر رسائی، قانونی معاونت اور سفری سہولیات کی فراہمی کے ذریعے یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کی ہر ممکن مدد جاری رکھے ہوئے ہیں۔



