پاکستاناہم خبریں

پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں تیز، آرمی چیف عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان مغربی ایشیا کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ دورہ انتہائی حساس وقت میں کیا گیا ہے، کیونکہ خطے میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران۔امریکہ تنازع کے تناظر میں پاکستان نے ایک مرتبہ پھر فعال سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے امن کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی “ایرنا” کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان تہران میں ایک اہم اور طویل ملاقات ہوئی، جس میں مغربی ایشیا میں جاری تنازع، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی حکام کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت رات گئے تک جاری رہی، جس میں خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تناؤ، آبنائے ہرمز کی صورتحال، علاقائی سلامتی اور جنگ بندی کے مستقبل پر غور کیا گیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملاقات کا بنیادی مقصد خطے میں “مزید کشیدگی کو روکنا اور امن و استحکام کو فروغ دینا” تھا۔

ایرانی قیادت سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں

دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کی اعلیٰ سیاسی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالباف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی شامل تھے۔

ملاقاتوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال، عالمی توانائی بحران، جنگ بندی کے مستقبل اور ایران و امریکہ کے درمیان جاری سفارتی تعطل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد نے تمام فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کو تیز کرنے اور کسی حتمی مفاہمت تک پہنچنے کی ضرورت پر زور دیا۔

“تعمیری اور مثبت ماحول” میں مذاکرات

پاکستانی حکام کے مطابق تمام ملاقاتیں انتہائی خوشگوار، مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئیں۔ دونوں ممالک کی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں مزید کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور معیشت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی گہری مشاورت کے نتیجے میں فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے عمل میں پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ کسی ممکنہ حتمی مفاہمت کی جانب بھی حوصلہ افزا اشارے سامنے آئے ہیں۔

ایرانی قیادت نے مذاکرات میں سہولت کاری، سفارتی رابطوں کے فروغ اور علاقائی تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے “مخلصانہ، متوازن اور تعمیری” قرار دیا۔

عاصم منیر کا اہم دورہ اور پاکستانی سفارت کاری

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر جمعہ کے روز ایک اہم سفارتی مشن پر تہران روانہ ہوئے تھے۔ ذرائع کے مطابق یہ دورہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ثالثی کوششوں کا حصہ ہے، جس میں پاکستان پس پردہ ایک متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔

تہران پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔ اس موقع پر پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی تہران میں موجود تھے اور ایرانی قیادت کے ساتھ مختلف ملاقاتوں میں شریک رہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ دورہ انتہائی حساس وقت میں کیا گیا ہے، کیونکہ خطے میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔

ایران۔امریکہ تنازع اور عالمی تشویش

یاد رہے کہ 28 فروری سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا، جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے بعض حساس مقامات پر مشترکہ کارروائیاں کی گئیں۔ ایران نے بھی اس کے جواب میں متعدد جوابی حملے کیے، جس کے نتیجے میں پورا خطہ شدید عدم استحکام کا شکار ہو گیا۔

ماہرین کے مطابق اس تنازع کا سب سے بڑا اثر عالمی توانائی کی ترسیل پر پڑا ہے۔ آبنائے ہرمز، جو دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، مسلسل کشیدگی کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے اس راستے پر جہاز رانی محدود کر دی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

اگرچہ 8 اپریل سے ایران اور امریکہ کے درمیان ایک نازک جنگ بندی نافذ ہے، تاہم بحری نقل و حمل اور سیکیورٹی خطرات اب بھی برقرار ہیں۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان کسی بھی وقت صورتحال کو دوبارہ خراب کر سکتا ہے۔

پاکستان کا ثالثی کردار اہم کیوں؟

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا ہے جسے تہران اور واشنگٹن دونوں کا اعتماد حاصل ہے۔ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ دفاعی اور سفارتی تعلقات موجود ہیں جبکہ ایران کے ساتھ بھی سرحدی، مذہبی اور اقتصادی روابط انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے سینئر نمائندوں کے درمیان بیک ڈور مذاکرات بھی ہوئے تھے، جو 1979 کے بعد اپنی نوعیت کا ایک غیرمعمولی واقعہ قرار دیا گیا۔ اگرچہ ان مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا، تاہم انہیں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھا گیا۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول جیسے معاملات اب بھی دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازعات ہیں۔

ایران پہنچنے پر پرتپاک استقبال

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران آمد پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر ایران کے اعلیٰ سول اور عسکری حکام بھی موجود تھے۔ مبصرین کے مطابق استقبال کی نوعیت دونوں ممالک کے قریبی تعلقات اور باہمی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

امن و استحکام کے لیے مشترکہ عزم

دورے کے اختتام پر دونوں ممالک نے خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان آئندہ دنوں میں بھی خطے کے اہم ممالک کے ساتھ رابطے جاری رکھے گا تاکہ موجودہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کی ثالثی کوششیں کامیاب رہتی ہیں تو یہ نہ صرف خطے میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہوگی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی وقار میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔

خطے کے امن کے لیے نئی کوششیں

مبصرین کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا مختصر عرصے میں دوسرا دورۂ ایران اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر رہا ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کسی بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل نہ ہو، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنی ثالثی کوششوں میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف خطے میں امن کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوگی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی مزید مضبوط کرے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button