بین الاقوامیاہم خبریں

چین کی کوئلہ کان میں خوفناک گیس دھماکہ، 82 کانکن ہلاک، درجنوں زیر زمین پھنس گئے

چینی حکام نے فوری طور پر بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔ امدادی ٹیمیں پھنسے ہوئے مزدوروں تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہیں۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

Published : May 23, 2026 at 12:02 PM IST

بیجنگ: چین کے شمالی صوبہ شانشی میں ایک کوئلہ کان میں ہونے والے خوفناک گیس دھماکہ نے بڑے سانحہ کی شکل اختیار کرلی، جس میں کم از کم 82 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ درجنوں مزدور اب بھی زیر زمین پھنسے ہوئے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق حادثہ جمعہ کی شام چانگژی شہر کی ’’لیوشین یو‘‘ کوئلہ کان میں پیش آیا۔

ابتدائی اطلاعات میں 8 افراد کی ہلاکت اور 38 مزدوروں کے پھنسے ہونے کی خبر دی گئی تھی، تاہم بعد میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 82 ہوگئی۔ رپورٹس کے مطابق حادثہ کے وقت کان کے اندر مجموعی طور پر 247 مزدور موجود تھے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ کان کے کئی حصے منہدم ہوگئے اور بڑی تعداد میں مزدور ملبہ اور دھوئیں میں پھنس گئے۔

چینی حکام نے فوری طور پر بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔ امدادی ٹیمیں جدید آلات اور خصوصی حفاظتی سامان کے ساتھ پھنسے ہوئے مزدوروں تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہیں، تاہم کان کے اندر گیس، دھواں اور ملبہ ریسکیو کارروائیوں میں شدید رکاوٹ بن رہا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے حادثہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے لاپتہ مزدوروں کو بچانے کے لیے ’’ہر ممکن کوشش‘‘ کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے حادثہ کی فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی تاکید کی۔

واضح رہے کہ چین میں کوئلہ کانوں میں حفاظتی انتظامات کے دعووں کے باوجود اس طرح کے حادثات مسلسل پیش آتے رہتے ہیں۔ ناقص حفاظتی معیار، گیس اخراج، پرانی مشینری اور بعض مقامات پر حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی ایسے سانحات کی بڑی وجوہات سمجھی جاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین نے حالیہ برسوں میں کانکنی کے شعبہ میں حفاظتی اقدامات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن ملک کی تیز صنعتی ضرورتوں کے باعث بعض علاقوں میں اب بھی مزدوروں کی جان خطرے میں رہتی ہے۔ اس تازہ حادثہ نے ایک بار پھر چین کی کانکنی صنعت میں حفاظتی نظام پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button