پاکستانتازہ ترین

بھارتی میڈیا پر پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے الزامات، ماہرین نے غیر مصدقہ بیانیوں پر تشویش کا اظہار کیا، رپورٹ

حساس سکیورٹی واقعات کے بعد بغیر تحقیقات مکمل ہوئے کسی بھی ملک یا فریق پر الزام عائد کرنا ذمہ دارانہ صحافت کے اصولوں کے مطابق نہیں سمجھا جاتا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی اور اطلاعاتی محاذ پر مقابلے کے تناظر میں بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف نئے الزامات اور بیانیے سامنے آئے ہیں، جنہیں پاکستانی مبصرین اور ماہرین نے غیر مصدقہ اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی ذرائع ابلاغ کے بعض ادارے حالیہ دنوں میں ایسے دعوے اور رپورٹس نشر کر رہے ہیں جن میں پاکستان کو مختلف علاقائی اور بین الاقوامی معاملات سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستانی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ان دعوؤں کے حق میں قابلِ اعتماد شواہد پیش نہیں کیے گئے، جس کے باعث ان کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا کے بعض پلیٹ فارمز نے حالیہ سفارتی اور دفاعی پیش رفتوں کو متنازعہ انداز میں پیش کرتے ہوئے پاکستان کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیوں کو فروغ دیا۔ ان رپورٹس میں بعض کالعدم تنظیموں کے نام بھی لیے گئے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔

راجوڑی واقعے پر متضاد بیانیے

رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوڑی میں بھارتی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد بھارتی سوشل میڈیا پر متعدد دعوے گردش کرتے رہے۔ بعض بھارتی صحافیوں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی، تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت عوام کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حساس سکیورٹی واقعات کے بعد بغیر تحقیقات مکمل ہوئے کسی بھی ملک یا فریق پر الزام عائد کرنا ذمہ دارانہ صحافت کے اصولوں کے مطابق نہیں سمجھا جاتا۔

جالندھر دھماکے سے متعلق الزامات

اسی طرح جالندھر میں ایک فوجی تنصیب کے قریب ہونے والے دھماکے کے بعد بھی بعض بھارتی میڈیا اداروں نے ابتدائی مراحل میں ہی پاکستان پر الزام عائد کیا۔ تاہم ناقدین کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات سے قبل کسی نتیجے پر پہنچنا صحافتی احتیاط کے تقاضوں کے منافی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں حقائق کی تصدیق، تحقیقاتی نتائج اور سرکاری شواہد سامنے آنے کے بعد ہی ذمہ دارانہ رپورٹنگ ممکن ہوتی ہے۔

کرکٹ اور بیرونِ ملک سرگرمیوں سے متعلق دعوے

بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ پاکستان میں کرکٹ اور مبینہ میچ فکسنگ سے حاصل ہونے والی رقوم بیرونِ ملک بھارت مخالف سرگرمیوں میں استعمال کی جا رہی ہیں۔ اس دعوے پر تبصرہ کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ اس نوعیت کے سنگین الزامات کے لیے ٹھوس شواہد اور دستاویزی ثبوت درکار ہوتے ہیں، جن کے بغیر ایسے بیانات محض قیاس آرائی تصور کیے جا سکتے ہیں۔

میڈیا اور اطلاعاتی جنگ

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا میں روایتی سفارت کاری کے ساتھ ساتھ اطلاعاتی اور بیانیاتی جنگ بھی شدت اختیار کر چکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے ادوار میں میڈیا کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ عوامی رائے عامہ کی تشکیل میں ذرائع ابلاغ کا براہِ راست اثر ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات میڈیا ادارے قومی سلامتی، داخلی سیاست یا علاقائی تنازعات کے تناظر میں ایسے بیانیے اختیار کر لیتے ہیں جو حقائق کی مکمل تصویر پیش کرنے کے بجائے مخصوص سیاسی نقطۂ نظر کی عکاسی کرتے ہیں۔

صحافتی اصولوں کی اہمیت

ابلاغیات کے ماہرین کے مطابق کسی بھی جمہوری معاشرے میں صحافت کی بنیادی ذمہ داری حقائق کی تصدیق، غیر جانبداری اور متوازن رپورٹنگ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر مصدقہ معلومات، قیاس آرائیوں اور سنسنی خیز دعوؤں پر مبنی رپورٹنگ نہ صرف عوام کو گمراہ کر سکتی ہے بلکہ علاقائی سطح پر کشیدگی میں اضافے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ حساس سکیورٹی اور سفارتی معاملات میں میڈیا اداروں کو بین الاقوامی صحافتی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے شواہد، تحقیقات اور مستند ذرائع کی بنیاد پر رپورٹنگ کرنی چاہیے تاکہ عوام تک درست اور متوازن معلومات پہنچ سکیں۔

علاقائی استحکام کے لیے ذمہ دارانہ رپورٹنگ ضروری

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں میڈیا کا کردار محض اطلاعات کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق ذمہ دارانہ صحافت اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ ہی علاقائی کشیدگی میں کمی اور عوام کو درست معلومات فراہم کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔

ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی الزام یا دعوے کی جانچ پڑتال، شواہد کی تصدیق اور مختلف فریقوں کا مؤقف شامل کرنا پیشہ ورانہ صحافت کا بنیادی تقاضا ہے، جس پر عمل کر کے ہی میڈیا عوام کا اعتماد برقرار رکھ سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button