کالمزانصار حسین زاہد

”13 جون… فرض نبھانے کا دن“ ……انصار حسین زاہد

میں 35 برس سے صحافت میں ہوں۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان میں 6 برس مرکزی ذمہ داریوں پر کام کیا۔ زندگی بھر “شیعہ صحافی” کہلاتا رہا

عید سے ایک رات پہلے میرا فون بجا۔ نمبر اجنبی تھا، مگر آواز شناسا۔ ایک برس بعد وہ بول رہا تھا۔ میرا پرانا دوست، اہلِ سنت سے تعلق رکھنے والا، صحافت کا بڑا نام، خالد رحیم۔ اس کی آواز میں عجیب سی حرارت تھی، جیسے کوئی فتح یاب لشکر سے بول رہا ہو۔ ”مبارک ہو!“
میں چونک گیا۔ ایسے محسوس ہوا جیسے میں نے خود امریکہ کے خلاف کوئی جنگ لڑی ہو۔ میں نے دھیمی آواز میں پوچھا: ”کس بات کی مبارک؟“
چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر اس نے بھاری لہجے میں کہا:”تم لوگ جیت گئے“۔
میں خاموش رہا۔ وہ بولتا گیا۔ ” شیعہ ایرانیوں نے اللہ پر یقین رکھتے ہوئے سپر پاور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔اور پوری مسلمانوں کا سر فخر بلند کر دیا ،رہبر معظم سید علی خامنہ ای شہید ہو گئے مگر وہ مسلمانوں کی وحدت کا خواب پورا کر گئے جو ان کی زندگی میں پورا نہ ہوا
سنی جاگ گیا، شیعہ جاگ گیا۔ اور سچ پوچھو تو ہم سب ہار گئے…. صرف رہبر معظم اور ان کا جذبہ ایمانی جیت گیا“۔
ایرانی قوم نے اپنی استقامت سے تاریخ بدل دی۔ رہبر معظم کی شہادت کے بعد بھی ایرانی فوج ایک انچ پیچھے نہ ہٹی۔ امریکہ اور اسرائیل نے جس طاقت کے نشے میں جنگ شروع کی تھی، وہی ناکامی کے اندھیرے میں ڈوب گئی۔ آخرکار وہ سیز فائر پر مجبور ہوئے، اور آج جنگ بندی کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں ،پھر اس نے ایک ایسا جملہ کہا جو آج تک میرے کانوں میں گونجتا ہے: ”تم خوش قسمت ہو… تم ان لوگوں میں سے ہو جو کم از کم رہبر معظم سے محبت کا دعویٰ تو کرتے ہو۔ ہم تو صرف تماشائی رہے“۔
فون بند ہو گیا مگر میرے اندر ایک قیامت برپا ہو چکی تھی۔ ضمیر جیسے برسوں بعد جاگ اٹھا ہو۔ سینے میں سوالوں کا طوفان تھا۔ رات بھر نیند نہ آ سکی۔ ایک ہی سوال مسلسل میرے اندر ہتھوڑے کی طرح بجتا رہا:”تم نے رہبرِ معظم کو زندگی میں ان کے احکامات پر عمل کیوں نہ کیا ،انہیں تنہا کیوں چھوڑ دیا؟ تم نے وحدتِ امت کے لیے عملی قدم کیوں نہ اٹھایا؟ اگر ان کے فرامین پر عمل نہ کر سکے تو آج مبارک باد کے مستحق کیسے ہو سکتے ہو؟“
میں 35 برس سے صحافت میں ہوں۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان میں 6 برس مرکزی ذمہ داریوں پر کام کیا۔ زندگی بھر “شیعہ صحافی” کہلاتا رہا۔ڈیوٹی ،نوکری ،خبر کے حصول کے گھن چکر میں زندگی بے مقصد گزر گئی، مگر اس رات پہلی بار احساس ہوا کہ عمل کے بغیر لفظ کتنے بے وزن ہوتے ہیں۔ مجھے اپنا آپ کوفہ کے ان لوگوں جیسا محسوس ہونے لگا جو محبت کے دعوے تو کرتے تھے، مگر وقت آنے پر گھروں میں دبک گئے تھے۔ پھر اچانک کئی چہرے نگاہوں کے سامنے آنے لگے۔
وہ بوڑھی مائیں… وہ سفید ریش بزرگ… وہ خاموش نوجوان… جنہیں گزشتہ ایک برس کے دوران ہم نے رہبرِ معظم کی دیدہ زیب فریم شدہ تصاویر پہنچائیں۔
یہ ایک چھوٹا سا خیال تھا۔ اپنے دوست مبشر حسین شیخ کے مشورے سے تقریباً ایک سال قبل آغاز ہوا۔ چاولہ برادران نے لاکھوں روپے کا مالی تعاون کیا۔ ہم نے سوچا تھا شاید ایک ہزار فریم تقسیم ہوں گے، مگر پھر عجیب مناظر سامنے آنے لگے۔ لوگ تصویر لیتے چومتے اور آنکھوں سے لگا لیتے۔ کوئی خاموشی سے روتا رہتا۔ اور دعائیں دیتے ،کوئی بچوں کو آواز دیتا: “جلدی آو… رہبر آ گئے…”
ایک بوڑھی ماں نے تصویر کو چوما اور نمناک آنکھوں سے کہا: “بیٹا… اب یہ میرے گھر کی نہیں، میری قبر کی زینت بنے گی…” میں اندر تک لرز گیا۔ یہ صرف فریم نہیں تھے۔ یہ بیدار ہوتی ہوئی امت کے دھڑکتے ہوئے دل تھے۔ اب تک پندرہ ہزار سے زائد تصاویر لوگوں کے دلوں میں آویزاں ہو چکی ہیں۔ سچ پوچھیں تو رہبرِ معظم کے حوالے سے میری پوری زندگی میں اس کے علاوہ کوئی قابلِ ذکر کارنامہ نہیں تھا۔ ابھی میں اپنے ضمیر کی عدالت کی شرمساری مٹانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی لمحے میرے دل میں ایک اور سوال اٹھا: رہبر معظم کی شہادت کا جو قرض ہم پر ہے، اسے ہم کیسے اتاریں؟ تبھی مجھے یاد آیا کہ 13 جون کو ان کی شہادت کے حوالے سے “شہیدِ امت کانفرنس” ہونے جا رہی ہے۔ میں نے سوچا کہ کم از کم ہم اس میں تھوڑی سی محنت کر کے لوگوں میں شعور پیدا کریں، تاکہ یہ کانفرنس کامیاب ہو اور ہم پچھتانے کی بجائے اپنا فرض ادا کریں’۔ استادِ بزرگوار سید جواد نقوی کی فکری رہنمائی، مجلس وحدتِ مسلمین کے سربراہ راجہ ناصر عباس جعفری کی جدوجہد، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نوجوانوں کی محنت، اور دیگر شیعہ تنظیموں، انجمنوں، ذاکرین، واعظین اور دینی اداروں کے بے لوث کارکنوں نے اس بیداری کو تحریک میں بدل دیا ہے۔ وہ کارکن، جو کبھی کیمرے کے سامنے نہیں آئے… جن کے نام کسی بینر پر نہیں لکھے گئے… مگر انہوں نے گلی گلی جا کر لوگوں کے دلوں میں چراغ روشن کیے۔ انہوں نے گرمی دیکھی، تھکن سہی، طعنے برداشت کیے، مگر مشن نہیں چھوڑا۔
اب رہبرِ معظم کی شہادت کے بعد، پوری امتِ مسلمہ — بالخصوص شیعہ تنظیموں کے اشتراک سے — 13 جون 2026 کو “شہید امت کانفرنس” منعقد ہونے جا رہی ہے۔ یہ صرف ایک جلسہ نہیں ہو گا۔ یہ اپنی غفلتوں کا اعتراف بھی ہو گا اور کسی حد تک ا±ن کی تلافی کی کوش بھی اور اب… 13 جون قریب آ رہا ہے۔ مینارِ پاکستان۔ وہی جگہ جہاں کبھی مسلمانوں نے ایک خواب دیکھا تھا۔ آج وہی جگہ ہم سے ایک اور عہد مانگ رہی ہے۔ یہ صرف اجتماع نہیں ہو گا۔ یہ ضمیر کی عدالت ہو گی۔ یہاں ہر شخص سے پوچھا جائے گا: “جب امت پکار رہی تھی، تم کہاں تھے؟” اور خدا کی قسم… یہ سوال بہت خوفناک ہے کیونکہ تاریخ صرف قاتلوں کو یاد نہیں رکھتی، تاریخ خاموش تماشائیوں کو بھی معاف نہیں کرتی۔ کوفہ کے لوگ تلواریں لے کر میدان میں نہیں اترے تھے۔ وہ صرف گھروں میں بیٹھ گئے تھے۔ مگر تاریخ نے انہیں “بے بس” نہیں لکھا۔ تاریخ نے انہیں “کوفی” لکھا۔ اور یہی خوف آج میرے دل میں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل ہمارے بچے ہم سے پوچھیں: “جب مینارِ پاکستان امت کو بلا رہا تھا، آپ کہاں تھے؟ اسی لئے ہم نے فیصلہ کر نا ہے…. 13 جون کو میں اپنی فیملی کے ساتھ مینارِ پاکستان جائیں گے۔ تقریر کرنے نہیں۔ تصویر بنوانے نہیں۔ بس اپنے ضمیر کے سامنے سرخرو ہونے کے لیے۔ بس یہ کہنے کے لیے:”مولا… ہم دیر سے جاگے سہی، مگر اس بار گھر میں نہیں بیٹھیں گے۔ ہم کوفی نہیں بنیں گے“۔ ّ اپنے بچوں کے ساتھ آئیے۔ انہیں دکھائیے کہ امت صرف کتابوں میں نہیں ہوتی، امت میدانوں میں زندہ رہتی ہے کیونکہ کچھ دن انسان کی پوری زندگی کا فیصلہ لکھ دیتے ہیں۔ 13 جون… شاید انہی دنوں میں سے ایک دن ہے۔ اگر اب بھی ہم نے اپنے ضمیروں کو نہ جگایا تو یہ نہ صرف اپنے ساتھ بلکہ قوم کے ساتھ بھی نا انصافی ہوگی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button