کاروبارتازہ ترین

ایران جنگ بحران سے منڈیاں متاثر، پاکستان نے آم کی برآمد کے ہدف میں 30 ہزر ٹن کمی کر دی

برآمدی سیزن کا باضابطہ طور پر اتوار کو آغاز ہوا اور پاکستانی آم کی پہلی ترسیل بیرونِ ملک منڈیوں کے لیے روانہ ہوئی۔

پاکستان – ایجنسیاں
پاکستان میں آم کے برآمد کنندگان نے اس سال کے برآمدی ہدف میں 30,000 ٹن یا تقریباً 30 فیصد کمی کر دی اور خبردار کیا ہے کہ شرقِ اوسط تنازعات سے متعلقہ رکاوٹیں، مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور آب و ہوا سے متعلقہ فصلوں کے نقصانات کی وجہ سے ملک کے ایک قیمتی ترین پھل کی برآمدات کو خطرہ لاحق ہے۔
پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) نے کہا کہ برآمد کنندگان اب اس سیزن میں 80,000 ٹن آم بھیجنے کی توقع رکھتے ہیں جو گذشتہ سال کے 110,000 ٹن سے کم ہے۔ اس طرح برآمدی آمدنی تقریباً 110 ملین ڈالر سے کم ہو کر 75 سے 80 ملین ڈالر تک رہنے کا امکان ہے۔
برآمدی سیزن کا باضابطہ طور پر اتوار کو آغاز ہوا اور پاکستانی آم کی پہلی ترسیل بیرونِ ملک منڈیوں کے لیے روانہ ہوئی۔
پاکستان دنیا میں آم کا چوتھا بڑا پیدا کنندہ ملک ہے اور سندھڑی، چونسہ اور انور رٹول جیسی اقسام کے لیے معروف ہے۔ یہ پھل ملک کی ایک اہم ترین باغبانی برآمد ہے اور خلیجی ریاستیں اس کی سب سے بڑی غیر ملکی منڈی ہیں۔
پی ایف وی اے کے سرپرستِ اعلیٰ وحید احمد نے ایک بیان میں کہا، "تجارت کو درپیش غیر معمولی چیلنجز کے پیشِ نظر برآمدی ہدف کو گذشتہ سال کے 110,000 ٹن سے کم کر کے 80,000 ٹن کر دیا گیا ہے۔”
یہ کمی اس وقت سامنے آئی ہے جبکہ برآمد کنندگان ایران، اسرائیل، امریکہ اور وسیع تر شرقِ اوسط کشیدگی کے نتیجے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ اس سے اس خطے میں نقل و حمل کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو پاکستان کی آم کی اہم ترین منڈی ہے۔
پاکستان کی آم کی برآمدات کا تقریباً 35 فیصد حصہ خلیجی خطے کو برآمد کیا جاتا ہے جبکہ برآمد کنندگان وسطی ایشیائی منڈیوں تک پہنچنے کے لیے ہمسایہ ملک افغانستان کے ذریعے زمینی تجارتی راستے بھی استعمال کرتے ہیں۔
احمد نے کہا، "علاقائی تنازعات کی غیر یقینی صورتِ حال نے برآمد کنندگان کو محتاط کر دیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ خلیجی بحران ہے۔ افغانستان مکمل طور پر بند ہے۔ ایران بھی بحران کا شکار ہے۔ شرقِ اوسط میں بھی جنگ ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کل کیا ہو گا۔”
برآمد کنندگان کہتے ہیں کہ علاقائی انتشار کی وجہ سے برآمدی اخراجات میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔
پی ایف وی اے کے مطابق خلیجی مقامات کے لیے سمندری فریٹ چارجز گذشتہ سیزن میں تقریباً 1,200-1,400 ڈالر فی کنٹینر تھے جو بڑھ کر اس سال 6,000-7,000 تک پہنچ گئے ہیں۔ فضائی مال برداری کی شرح بھی دگنی سے زیادہ ہو کر تقریباً دو ڈالر فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہے۔
احمد نے کہا، "اسی طرح مقامی اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مال برداری بہت بڑا چیلنج بن گئی ہے۔”
صنعت کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث طویل مدتی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ پی ایف وی اے کا تخمینہ ہے کہ موسم کی خرابی، موسموں کی بڑھتی ہوئی تبدیلی اور باغات کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے اس سال آم کی فصل پاکستان کی 1.9 ملین ٹن کی اوسط سالانہ پیداوار سے تقریباً 20 فیصد کم رہے گی۔
احمد نے کہا کہ حالیہ برسوں میں آب و ہوا سے متعلق مسائل نے بار بار آم کی پیداوار کو متأثر کیا۔
انہوں نے بیان میں کہا، "یہ آج کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ پانچ سالوں سے جاری ہے۔”
یکم جون کو برآمدات کی شروعاتی تاریخ کے طور پر برقرار رکھنے پر انہوں نے وزارتِ تجارت اور وزارت برائے قومی غذائی تحفظ کی تعریف کی حالانکہ
صنعت کے بعض متعلقین نے برآمدی ترسیل پہلے شروع کرنے کے مطالبات کیے تھے۔ اس فیصلے سے آم کی بین الاقوامی خریداروں تک مکمل پکی ہوئی حالت میں ترسیل یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
ایسوسی ایشن نے وفاقی اور صوبائی حکام پر زور دیا کہ وہ تحقیق، باغات کے انتظام اور موسمیاتی لحاظ سے کاشتکاری کے لچکدار طریقوں میں سرمایہ کاری کریں تاکہ پاکستان کی ایک قیمتی ترین زرعی برآمد کی حفاظت کی جائے۔
مشکل حالات کے باوجود برآمد کنندگان نے کہا ہے کہ وہ مشرقی ایشیا، یورپ اور شمالی امریکہ کے مقامات پر فروخت بڑھاتے ہوئے روایتی خلیجی منڈیوں میں پاکستان کی موجودگی برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button