انٹرٹینمینٹتازہ ترین

ورون دھون ڈیپ فیک کیس، دہلی ہائی کورٹ کا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بڑا حکم

عدالتی حکم میں خاص طور پر ان اے آئی سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز کا ذکر کیا گیا جن میں ورون دھون کو نامناسب یا فحش مناظر میں دکھایا گیا تھا۔

بالی وڈ کے معروف اداکار ورون دھون کو ان کی شخصیت اور تشہیری حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بڑی قانونی کامیابی حاصل ہوگئی ہے۔
’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کی جانے والی جعلی تصاویر، ڈیپ فیک ویڈیوز اور ان کے نام کے غیر مجاز تجارتی استعمال کے خلاف عبوری تحفظ فراہم کرتے ہوئے متعدد ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’ورون دھون کی شہرت، شناخت اور عوامی امیج کو نقصان پہنچانے والے مواد کی تشہیر روکنا ضروری ہے۔‘
فیصلے کے مطابق ’اداکار کو اس بات کا مکمل حق حاصل ہے کہ ان کی تصاویر، ویڈیوز، نام یا دیگر شخصی خصوصیات کو ان کی اجازت کے بغیر استعمال نہ کیا جائے۔‘
عدالتی حکم میں خاص طور پر ان اے آئی سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز کا ذکر کیا گیا جن میں ورون دھون کو نامناسب یا فحش مناظر میں دکھایا گیا تھا۔
عدالت نے کہا کہ ’اس قسم کا مواد نہ صرف اداکار کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ عوام کو بھی گمراہ کر سکتا ہے کیونکہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ مواد حقیقی ہو۔‘
عدالت نے گوگل، میٹا اور ایکس جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایت کی کہ وہ ایسے اکاؤنٹس اور صارفین کی بنیادی معلومات فراہم کریں جو اس متنازع مواد کی تشہیر یا شیئرنگ میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو حکم دیا گیا کہ اگر مستقبل میں بھی ایسا مواد سامنے آئے تو نشاندہی کے 36 گھنٹوں کے اندر اسے ہٹا دیا جائے۔
سماعت کے دوران ورون دھون کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ’کئی آن لائن فروخت کنندگان اداکار کی شہرت اور شناخت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے نام سے مصنوعات فروخت کر رہے ہیں، جبکہ بعض ایونٹ مینجمنٹ اور بکنگ ایجنسیاں خود کو ورون دھون کا مجاز نمائندہ ظاہر کر کے عوام کو گمراہ کر رہی ہیں۔‘
اداکار نے اپنی درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا کہ ان کا نام اور دستخط باقاعدہ رجسٹرڈ ٹریڈ مارکس ہیں، لہٰذا ان کا غیر مجاز استعمال ان کے قانونی اور تجارتی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں یہ فیصلہ نہ صرف ورون دھون بلکہ دیگر فنکاروں اور عوامی شخصیات کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی ایک اہم مثال ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button