پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

ابراہیمی معاہدہ اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے کی کوشش ہے، عالم اسلام اسے قبول نہیں کرے گا: مولانا زاہد الراشدی و مولانا فضل الرحمن خلیل

سعودی علماء کے فتوے کی بھرپور حمایت، فلسطینی کاز کے تحفظ کے لیے مسلم ممالک سے مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی اپیل

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی اور انصار الامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحادِ مذاہب اور نام نہاد ابراہیمی معاہدے کے حوالے سے جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک منظم کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین صرف ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ امت مسلمہ کے اجتماعی ضمیر، مذہبی ذمہ داری اور انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، جس پر مسلم دنیا کو متحد اور واضح مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔

اسلام آباد میں اہم ملاقات، دینی و سیاسی امور پر تبادلہ خیال

یہ خیالات دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد میں ہونے والی ایک اہم ملاقات کے دوران اظہار کیے، جس میں خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال، مسئلہ فلسطین، بین المذاہب تعلقات اور مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ملاقات میں پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر دینی و سماجی رہنما بھی شریک تھے۔

شرکاء نے عالم اسلام کی موجودہ صورتحال اور فلسطینی عوام کو درپیش مشکلات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔

ابراہیمی معاہدے کے سیاسی مقاصد پر تنقید

اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ ابراہیمی معاہدے کو بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور عالمی امن کے خوبصورت نعروں کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے پس پردہ سیاسی اور تزویراتی مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے مختلف مسلم ممالک کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کرنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے، جبکہ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق، آزادی اور حق خود ارادیت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات فلسطینی عوام کے جائز مؤقف کو کمزور کرنے اور اسرائیل کو خطے میں مزید سیاسی، سفارتی اور معاشی طاقت فراہم کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

امریکی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار

مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اسرائیل کے حق میں کئی اہم فیصلے کیے گئے جن کے اثرات آج بھی مشرق وسطیٰ کی سیاست پر نمایاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی قیادت کی جانب سے اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور اس کی علاقائی حیثیت کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل سفارتی اور سیاسی معاونت فراہم کی جاتی رہی ہے، جس سے فلسطینی عوام کے حقوق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت متاثر ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے مسئلے کا پائیدار حل صرف انصاف، بین الاقوامی قوانین اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

فلسطینی سرزمین پر قبضہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ اسرائیل گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر قبضہ کیے ہوئے ہے اور اس دوران لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں، زمینوں اور بنیادی حقوق سے محروم ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کی حیثیت میں تبدیلی کی کوششیں، غزہ میں جاری انسانی بحران، آبادکاری کے منصوبے اور فلسطینی علاقوں میں فوجی کارروائیاں عالمی برادری کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔

شرکاء کے مطابق ایسے حالات میں اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنا فلسطینی عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا۔

اسلامی عقائد کی مستقل شناخت پر زور

مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر ایک ایسا نظریاتی فریم ورک تشکیل دینا جس میں مختلف مذاہب کی تعلیمات کو ایک مخصوص سیاسی ایجنڈے کے تحت پیش کیا جائے، اسلامی نقطۂ نظر سے قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام اپنی مستقل نظریاتی، فکری اور عقیدتی شناخت رکھتا ہے جو قرآن کریم، سنت نبوی ﷺ اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد پر مبنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب احترام اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اس کے نام پر اسلامی تعلیمات اور عقائد کو کسی نئی نظریاتی تعبیر کے تابع نہیں بنایا جا سکتا۔

مسلم ممالک سے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی اپیل

اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک کو فلسطین کے مسئلے پر مشترکہ اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ میں اضافے کے منصوبوں کا مقابلہ صرف مسلم دنیا کے اتحاد، سیاسی بصیرت اور مشترکہ سفارتی اقدامات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے بھرپور آواز بلند کی جائے۔

فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار

اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی یہ حمایت جاری رہے گی۔

انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت، دانشوروں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی مؤقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر کردار ادا کریں۔

اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق، بیت المقدس کے تقدس اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ہر ممکن سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی جائے گی اور اس مقصد کے حصول کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کی جاتی رہے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button