پاکستاناہم خبریں

وزیراعظم شہباز شریف کا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے قومی دفاع مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

روبوٹکس اور آٹونومس سسٹمز کی ترقی کے لیے ’’سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام‘‘ اور 20 ملین ڈالر کے پاکستان وینچر فنڈ کا اعلان

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ، قومی دفاع کو مزید مضبوط بنانے اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، روبوٹکس اور آٹونومس سسٹمز کے فروغ کو قومی ترجیح بنا رہا ہے۔ انہوں نے روبوٹکس اور آٹونومس سسٹمز کی ترقی کے لیے ’’سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام‘‘ کے آغاز اور 20 ملین امریکی ڈالر کے پاکستان وینچر فنڈ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جدید تحقیق، اختراع اور مقامی ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے پاکستان کو چوتھے صنعتی انقلاب میں نمایاں مقام دلانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں منعقدہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ آٹونومس سسٹمز ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء، عسکری حکام، ماہرین تعلیم، سائنسدانوں، صنعتکاروں، اسٹارٹ اپس کے نمائندوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔


پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی میں عالمی صف میں شامل کرنے کا عزم

وزیراعظم نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ آٹونومس سسٹمز ایکسپو صرف ایک نمائش نہیں بلکہ پاکستان کے اس وژن کی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت ملک کو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظاموں کے میدان میں عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان 21ویں صدی کی تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے لیے پُرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے حکومت، تعلیمی ادارے، نجی شعبہ، صنعت اور تحقیقاتی مراکز مل کر کام کر رہے ہیں۔


انڈس اے آئی سمٹ سے انڈس راس ایکسپو تک، وژن کو عملی شکل

وزیراعظم نے یاد دلایا کہ رواں سال کے آغاز میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی میزبانی کی، جہاں حکومتی نمائندے، عالمی ٹیکنالوجی ماہرین، محققین، سرمایہ کار اور کاروباری شخصیات ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئیں تاکہ مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے مستقبل کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ آج انڈس راس ایکسپو اسی وژن کا عملی تسلسل ہے، جہاں تحقیق کو قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے، روبوٹکس، ڈرون ٹیکنالوجی اور آٹونومس سسٹمز کے ذریعے معیشت، صنعت، زراعت، صحت، تعلیم اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے عملی امکانات پیش کیے جا رہے ہیں۔


ٹیکنالوجی کا انقلاب سب کے لیے ہونا چاہیے

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی صرف ترقی یافتہ ممالک، بڑی کمپنیوں یا بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جن کے ذریعے:

  • کسان جدید ٹیکنالوجی سے زرعی پیداوار میں اضافہ کر سکیں۔
  • چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار جدید ڈیجیٹل سہولیات سے مستفید ہوں۔
  • خواتین کاروباری افراد کو جدید پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل ہو۔
  • نوجوانوں کے لیے اعلیٰ مہارتوں پر مبنی روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔
  • کمزور اور پسماندہ طبقات بھی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن سکیں۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اس کے فوائد معاشرے کے ہر فرد تک مساوی طور پر پہنچیں۔


بچپن کے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی سے مصنوعی ذہانت کے دور تک

اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم نے ذاتی یادیں بھی تازہ کیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بچپن میں ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن تھی، جب پورا خاندان پاکستان ٹیلی ویژن کی مشہور نشریات، خصوصاً "اچے برج لاہور دے”، شوق سے دیکھا کرتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، مشین لرننگ اور خودکار نظاموں کے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں مشینیں نہ صرف معلومات جمع کرتی ہیں بلکہ خود فیصلے کر کے ان پر عملدرآمد بھی کرتی ہیں، جو چند دہائیاں قبل محض ایک تصور سمجھا جاتا تھا۔


دفاعی شعبے میں پاکستان کی نمایاں کامیابیاں

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں دفاع اور سلامتی کے میدان میں مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ:

  • دفاعی تربیتی سیمولیٹرز اب سو فیصد پاکستان میں تیار کیے جا رہے ہیں۔
  • ڈرونز کی مقامی تیاری 60 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔
  • دفاعی صنعت میں خود انحصاری کی جانب مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے۔
  • سائبر سکیورٹی اور جدید آٹونومس سسٹمز قومی دفاع کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔

مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین

وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو قومی دفاع میں مؤثر انداز میں شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران جدید آٹونومس سسٹمز، سائبر سکیورٹی اور جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کے ذریعے سرحدوں کا کامیاب دفاع کیا گیا، جبکہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی قیادت میں پاک فضائیہ اور پاک بحریہ نے بھی قومی دفاع میں نمایاں کردار ادا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملکی دفاع میں حاصل ہونے والی یہ کامیابیاں پاکستان کے مضبوط دفاعی نظام، قومی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت کا واضح ثبوت ہیں۔


جدید دفاعی ٹیکنالوجی مستقبل کی ضرورت

وزیراعظم نے کہا کہ ابھرتے ہوئے خطرات کا مقابلہ روایتی طریقوں سے ممکن نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائبر دفاع، ڈرون ٹیکنالوجی اور آٹونومس سسٹمز مستقبل کے دفاعی نظام کا بنیادی حصہ ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ان تمام شعبوں میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی تاکہ پاکستان ہر قسم کے روایتی اور غیر روایتی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹ سکے۔


سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کا آغاز

وزیراعظم نے پاکستان میں روبوٹکس اور آٹونومس سسٹمز کی ترقی کے لیے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے تحت تحقیق، اختراع، مقامی صنعت، اسٹارٹ اپس اور عالمی معیار کی ٹیکنالوجی کی تیاری کو فروغ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام سے نوجوان سائنسدانوں، انجینئرز، محققین اور کاروباری افراد کو اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے وسیع مواقع حاصل ہوں گے، جبکہ نئی صنعتوں اور روزگار کے ہزاروں مواقع بھی پیدا ہوں گے۔


20 ملین ڈالر کے پاکستان وینچر فنڈ کا قیام

وزیراعظم شہباز شریف نے 20 ملین امریکی ڈالر کے پاکستان وینچر فنڈ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس فنڈ کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے نوجوانوں، اسٹارٹ اپس، اختراعی منصوبوں اور تحقیقاتی اداروں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ پاکستان میں مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی کو مزید تیز کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت تحقیق کو عالمی معیار کی مصنوعات، جدید صنعتوں اور اعلیٰ معیار کے روزگار میں تبدیل کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔


محفوظ اور شفاف ٹیکنالوجی کے لیے قانون سازی کی ضرورت

وزیراعظم نے کہا کہ جدید آٹونومس سسٹمز اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ساتھ ساتھ مضبوط قانونی اور اخلاقی فریم ورک بھی ناگزیر ہے تاکہ نئی ٹیکنالوجی کا استعمال محفوظ، شفاف اور ذمہ دارانہ انداز میں یقینی بنایا جا سکے۔


خود انحصاری اور روشن مستقبل کا وژن

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دوسروں کی ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے والا ملک نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر مستقبل کی ٹیکنالوجی تیار کرنے والا ملک بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت تحقیق، تعلیم، صنعت اور سرمایہ کاری کو یکجا کر کے ایسا ماحول پیدا کر رہی ہے جہاں نوجوان نسل اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کر سکے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انتھک محنت، قومی اتحاد اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے آئندہ نسلوں کے لیے ایک مضبوط، خودمختار، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھی جائے گی۔


وفاقی وزیر شزا فاطمہ کا خطاب

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ انڈس راس ایکسپو پاکستان میں روبوٹکس اور آٹومیشن کے شعبے کا قومی سطح کا اہم ترین پلیٹ فارم ہے۔

انہوں نے کہا کہ روبوٹس اب صرف صنعتی کارخانوں تک محدود نہیں رہے بلکہ صحت، زراعت، تعلیم، دفاع، لاجسٹکس اور روزمرہ زندگی کے مختلف شعبوں میں انقلاب برپا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کی مکمل ویلیو چین میں اپنی مضبوط موجودگی قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے، جبکہ ڈیجیٹل تبدیلی کو پائیدار معاشی ترقی کا بنیادی ستون بنایا جا رہا ہے۔


دستاویزی فلم اور ٹیکنالوجی نمائش کا معائنہ

تقریب کے آغاز پر وزیراعظم کو انڈس راس روبوٹکس اینڈ آٹونومس سسٹمز ایکسپو کے مختلف منصوبوں، جدید مصنوعات اور تحقیقاتی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی جس میں پاکستان میں روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، ڈرون ٹیکنالوجی اور آٹونومس سسٹمز کے فروغ کے لیے جاری اقدامات اور مستقبل کے منصوبوں کو اجاگر کیا گیا۔

اگر آپ اسے قومی اخبار جیسے جنگ، نوائے وقت، ایکسپریس یا دی نیوز کے صفحہ اول کی لیڈ اسٹوری کے معیار پر مزید جامع (تقریباً 2,000–2,500 الفاظ) بنوانا چاہتے ہیں، تو میں وہ انداز بھی تیار کر سکتا ہوں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button