سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل میں جمود، متضاد بیانات اور بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کے دوران پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا اچانک تہران پہنچنا خطے میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دے رہا ہے۔
ہفتے کے روز تہران پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے محسن نقوی کا استقبال کیا۔ سرکاری طور پر اس دورے کو دوطرفہ تعاون اور علاقائی امور سے جوڑا گیا، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے کی اہمیت معمول کی سرکاری ملاقاتوں سے کہیں زیادہ ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی وزیر داخلہ ایک خصوصی اور اہم پیغام بھی ساتھ لے کر گئے ہیں، جو مبینہ طور پر پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی جانب سے ایرانی قیادت کے لیے تھا۔ اگرچہ اس حوالے سے اسلام آباد یا تہران کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، لیکن علاقائی سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران مذاکرات: پیش رفت یا تعطل؟
امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام، پابندیوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر جاری بالواسطہ مذاکرات کئی مہینوں سے تعطل کا شکار ہیں۔ ایک طرف واشنگٹن ایران سے جوہری سرگرمیوں پر مزید پابندیاں قبول کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب تہران اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور اپنے حقِ خودمختاری کے تحفظ پر زور دے رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکراتی عمل میں ایک منفرد اور پیچیدہ حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے۔ ان کے بیانات میں اکثر تضاد دیکھا جاتا ہے، جہاں ایک موقع پر وہ ایران کے ساتھ معاہدے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں جبکہ دوسرے موقع پر سخت پابندیوں اور دباؤ کی بات کرتے ہیں۔
مختلف امریکی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ طرزِ عمل محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سیاسی اور سفارتی حربہ سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد مخالف فریق کو مسلسل غیر یقینی صورتحال میں رکھنا اور مذاکراتی میز پر زیادہ سے زیادہ رعایتیں حاصل کرنا ہے۔
ٹرمپ کی "زیادہ دباؤ، زیادہ فائدہ” حکمت عملی
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق امریکی صدر کی حکمت عملی "Maximum Pressure, Maximum Advantage” یعنی زیادہ سے زیادہ دباؤ اور زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے اصول پر مبنی نظر آتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ متضاد بیانات کے ذریعے امریکہ ایران پر نفسیاتی دباؤ بڑھانا چاہتا ہے تاکہ تہران اپنی مذاکراتی پوزیشن میں لچک دکھانے پر مجبور ہو جائے۔ اسی لیے کبھی مذاکرات کی کامیابی کے اشارے دیے جاتے ہیں اور کبھی عسکری آپشنز یا نئی پابندیوں کی دھمکیوں کا ذکر سامنے آتا ہے۔

مبصرین کے مطابق اگرچہ امریکی ریاستی ادارے، محکمہ خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مذاکراتی عمل میں کردار ادا کرتے ہیں، تاہم اس معاملے میں حتمی فیصلہ سازی کا اختیار براہ راست صدر ٹرمپ کے پاس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی پالیسی کے حوالے سے مختلف اوقات میں مختلف پیغامات سامنے آتے رہتے ہیں۔
تہران کا داخلی منظرنامہ اور طاقت کے مراکز
دوسری جانب ایران کے اندر صورتحال نسبتاً پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ سیاسی تجزیوں کے مطابق ایران میں امریکہ کے ساتھ تعلقات اور مذاکرات کے حوالے سے شدید اختلافِ رائے موجود ہے۔
ایک طرف اصلاح پسند اور نسبتاً معتدل سیاسی حلقے مغرب کے ساتھ محدود مفاہمت اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے حامی ہیں، جبکہ دوسری طرف سخت گیر عناصر اور پاسدارانِ انقلاب امریکہ کے ساتھ کسی بھی بڑے سمجھوتے کو قومی مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایرانی سیاسی نظام میں پاسدارانِ انقلاب کا اثر و رسوخ انتہائی اہم ہے۔ نہ صرف سلامتی اور دفاعی پالیسیوں میں ان کا کردار نمایاں ہے بلکہ میڈیا کے بڑے حصے پر بھی ان کا اثر موجود ہے، جس کے ذریعے عوامی بیانیے کی تشکیل کی جاتی ہے۔
میڈیا جنگ اور بیانیے کی سیاست
حالیہ مہینوں میں ایرانی میڈیا میں ایسے بیانات اور رپورٹس کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے جن میں مذاکراتی عمل کو ایران کی کامیابی اور امریکی کمزوری کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حکمت عملی داخلی سیاسی استحکام برقرار رکھنے اور عوامی اعتماد کو مضبوط رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ ان کے نزدیک معاشی دباؤ، مہنگائی، کرنسی کی گرتی ہوئی قدر اور بین الاقوامی پابندیوں کے اثرات کے باوجود حکومتی حلقے "مزاحمت اور کامیابی” کے بیانیے کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی عوام تک معلومات کو بعض اوقات اس انداز میں پہنچایا جاتا ہے کہ معاشی اور سفارتی چیلنجز کی مکمل تصویر سامنے نہ آسکے، جبکہ حکومتی کامیابیوں کو زیادہ نمایاں کیا جائے۔
پاکستان کا ممکنہ کردار
خطے کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار بھی اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی ایران، سعودی عرب اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان سفارتی رابطوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔

محسن نقوی کے دورۂ تہران کو بعض حلقے اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اگرچہ سرکاری سطح پر کسی ثالثی کردار کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن سفارتی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور مختلف فریقوں کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی خواہش ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئی کشیدگی یا ممکنہ تصادم سے گریز کیا جائے کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور پاکستان کی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
مستقبل کیا ہوگا؟
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کا مستقبل تاحال غیر واضح ہے۔ دونوں فریق بظاہر بات چیت جاری رکھنے کے خواہاں ہیں، لیکن باہمی عدم اعتماد، سیاسی دباؤ اور علاقائی تنازعات کسی بڑی پیش رفت کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ادھر پاکستانی وزیر داخلہ کے دورۂ تہران نے سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا اسلام آباد پسِ پردہ کوئی اہم پیغام رسانی یا اعتماد سازی کا کردار ادا کر رہا ہے یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد سے سامنے آنے والی معلومات اس سوال کا جواب فراہم کر سکتی ہیں۔
فی الحال خطے کی نظریں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کشمکش پر مرکوز ہیں، جہاں ایک معمولی پیش رفت بھی مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور عالمی سلامتی کے منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔



