اہم خبریںپاکستان پریس ریلیز

مالی بقا یا معاشی اصلاحات؟ سی اے ایس ایس میں بجٹ 2026-27 کی ترجیحات پر اہم مکالمہ

ڈاکٹر عثمان چوہان نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی محصولات کا ایک بڑا حصہ اب بھی بالواسطہ ٹیکسوں، پٹرولیم لیوی اور دیگر غیر ٹیکس ذرائع پر مشتمل ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CASS) اسلام آباد میں مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ اور پاکستان کی معاشی ترجیحات کے حوالے سے ایک اہم مکالمے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرین معیشت، پالیسی سازوں، محققین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ "مالی بقا یا معاشی اصلاحات؟ پاکستان کے بجٹ کی ترجیحات کو سمجھنا” کے عنوان سے منعقد ہونے والے اس سیشن میں ملک کی موجودہ مالیاتی صورتحال، محصولات کے نظام، وفاقی و صوبائی مالیاتی تعلقات اور مستقبل کی اقتصادی سمت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے CASS کے صدر ایئر مارشل (ر) جاوید احمد نے کہا کہ پاکستان اس وقت غیر معمولی معاشی، سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث رواں سال کا بجٹ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی معاشی غیر یقینی صورتحال، خطے میں جاری کشیدگی، اندرونی سیاسی دباؤ اور سیکیورٹی خدشات کے ماحول میں پیش کیا جانے والا بجٹ آئندہ ایک سال کے دوران حکومت کی ترجیحات اور قومی اقتصادی سمت کا تعین کرے گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بجٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک پالیسی دستاویز ہے جو حکومت کے وژن، ترجیحات اور عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے اس کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
تقریب کی نظامت CASS کے ڈائریکٹر ایئر مارشل (ر) زاہد محمود نے کی، جنہوں نے شرکاء کو سیشن کے مقاصد اور اہم نکات سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو درپیش معاشی مسائل کے تناظر میں بجٹ کا گہرائی سے تجزیہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (IRS) اسلام آباد کے ریسرچ فیلو اور ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر عثمان چوہان نے تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے پاکستان کے موجودہ بجٹ ڈھانچے اور مالیاتی نظام کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ملک کئی دہائیوں سے مالیاتی عدم توازن، محدود ٹیکس نیٹ اور بڑھتے ہوئے قرضوں جیسے مسائل کا شکار ہے۔
ڈاکٹر عثمان چوہان نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی محصولات کا ایک بڑا حصہ اب بھی بالواسطہ ٹیکسوں، پٹرولیم لیوی اور دیگر غیر ٹیکس ذرائع پر مشتمل ہے، جس کا بوجھ براہ راست عام شہریوں پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسعت دے اور ایسے شعبوں کو بھی ٹیکس نظام میں شامل کرے جو اب تک مؤثر طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر خوردہ تجارت، خدمات کے شعبے اور کم ٹیکس ادا کرنے والے کاروباری طبقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان شعبوں کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانا ملکی مالیاتی استحکام کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔
ڈاکٹر چوہان نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگیوں کو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔ ان کے مطابق وفاقی بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہو جاتا ہے، جس کے باعث ترقیاتی منصوبوں، سماجی شعبوں اور عوامی فلاحی پروگراموں کے لیے وسائل محدود رہ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی مباحثوں میں عموماً دفاعی اور انتظامی اخراجات کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، تاہم اصل مسئلہ مالیاتی ڈھانچے کی کمزوری، محدود ریونیو اور قرضوں پر بڑھتے ہوئے انحصار کا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے مالیاتی بحران کو سمجھنے کے لیے محصولات، قرضوں اور اخراجات کے پورے نظام کا جامع جائزہ لینا ہوگا۔
گفتگو کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی تعلقات بھی خصوصی توجہ کا مرکز رہے۔ ڈاکٹر عثمان چوہان نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ کے تحت صوبوں کو دی جانے والی بڑی غیر مشروط مالی منتقلیاں وفاقی حکومت پر اضافی مالی دباؤ ڈالتی ہیں، جبکہ دوسری جانب صوبائی سطح پر محصولات کی وصولی کی صلاحیت نسبتاً محدود ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مستقبل میں مؤثر مالیاتی اصلاحات کے لیے صوبوں کو زیادہ مالی ذمہ داریاں سنبھالنا ہوں گی اور انہیں اپنے محصولات میں اضافے کے لیے پراپرٹی ٹیکس، مقامی ٹیکسوں اور دیگر آمدنی کے ذرائع کو فعال بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبائی اخراجات میں شفافیت، احتساب اور کارکردگی کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
ماہر معاشیات نے پاکستان کے وسیع تر میکرو اکنامک منظرنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کو عالمی معاشی سست روی، توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، کمزور صنعتی سرمایہ کاری اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر پر انحصار جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے، پیداواری صلاحیت بڑھانے اور برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو معاشی استحکام عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ملک بار بار کے استحکامی پروگراموں اور ہنگامی معاشی اقدامات سے نکل کر طویل المدتی اصلاحات کی طرف بڑھے۔
تقریب کے اختتام پر ایئر مارشل (ر) جاوید احمد نے شرکاء اور مقررین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بجٹ سازی کا عمل طویل عرصے سے محصولات میں اضافے پر مرکوز رہا ہے، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ اخراجات کے نظم و ضبط، مالی شفافیت اور وسائل کے مؤثر استعمال پر بھی برابر توجہ دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم، تحقیق اور انسانی ترقی جیسے شعبوں کو قومی ترجیحات میں نمایاں مقام ملنا چاہیے، جبکہ ترقیاتی اخراجات کا ازسرنو جائزہ لے کر ان منصوبوں کو ترجیح دی جانی چاہیے جو براہ راست عوامی فلاح اور معاشی ترقی میں کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کو اپنی قومی ترجیحات واضح انداز میں متعین کرنا ہوں گی، خصوصاً توانائی کی سلامتی، معاشی خود انحصاری اور پائیدار ترقی جیسے شعبوں میں طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مکالمے نے پاکستان کی معاشی پالیسی، بجٹ ترجیحات اور مالیاتی اصلاحات کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ملک کو مالی بقا کے مرحلے سے نکل کر حقیقی معاشی اصلاحات اور پائیدار ترقی کی جانب پیش قدمی کرنا ہوگی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button