
`ٹرمپ کا بڑا دعویٰ ایران-امریکہ معاہدے پر آج ہوں گے دستخط؟، تہران نے کہا- ابھی وقت لگے گا
ایران اور امریکہ کے درمیان متعدد معاملات پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے، تاہم بعض حساس اور بنیادی نکات پر ابھی مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔

By Voice of Germany Urdu News Team
مشرق وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی، عسکری تناؤ اور سفارتی محاذ آرائی کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی خبریں عالمی سفارتی حلقوں، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سیاسی مبصرین کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی معاہدے پر اتوار کے روز دستخط ہو سکتے ہیں، تاہم ایران نے اس دعوے کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مذاکرات ابھی جاری ہیں اور بعض اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں اور توقع ہے کہ اتوار کو ایک جامع امن معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے کے نتیجے میں نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کا خاتمہ ہوگا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ معاہدے کی ایک اہم شق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہے، جس کے تحت تہران جوہری ہتھیاروں کی تیاری یا حصول سے باز رہے گا۔ اس کے بدلے میں ایران کو بعض اقتصادی سہولتیں، سفارتی مراعات اور بین الاقوامی سطح پر محدود ریلیف فراہم کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے فوری بعد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر عالمی جہاز رانی کے لیے کھول دیا جائے گا، جس سے تیل اور گیس کی عالمی ترسیل بحال ہوگی اور توانائی کی منڈیوں میں پائے جانے والے غیر یقینی حالات کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔
ایران کا محتاط مؤقف
امریکی صدر کے بیان کے چند گھنٹوں بعد ایرانی وزارت خارجہ نے نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مذاکرات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے لیکن اتوار کو کسی معاہدے پر دستخط ہونا یقینی نہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
انہوں نے کہا کہ ایران کسی جلد بازی میں فیصلہ نہیں کرے گا اور ہر قسم کے معاہدے میں قومی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مذاکرات تعمیری انداز میں جاری ہیں، تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی کچھ فاصلہ طے کرنا باقی ہے۔
پاکستان کا اہم سفارتی کردار
اس تمام سفارتی عمل میں پاکستان ایک اہم ثالث اور سہولت کار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور رابطوں کو بحال رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے متعدد ادوار کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں اور معاہدے کا مسودہ تقریباً تیار ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر باقی ماندہ اختلافی نکات پر اتفاق رائے ہو جاتا ہے تو آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران الیکٹرانک دستخط کے ذریعے معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کا حامی رہا ہے اور موجودہ پیش رفت پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
عباس عراقچی کی مثبت پیش گوئی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی گزشتہ روز جاری مذاکرات کے حوالے سے امید افزا بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدہ "آنے والے چند دنوں” میں طے پا سکتا ہے۔ ان کے مطابق فریقین کے درمیان اختلافات میں نمایاں کمی آئی ہے اور بیشتر معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو جلد ہی ایک ایسا معاہدہ سامنے آ سکتا ہے جو خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور باہمی اعتماد کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگا۔
معاہدے کے امکانات 80 سے 85 فیصد تک
امریکی سفارتی ذرائع کے مطابق واشنگٹن میں پالیسی ساز حلقے اس معاہدے کے امکانات کو 80 سے 85 فیصد تک قرار دے رہے ہیں۔ تاہم جوہری نگرانی کے نظام، پابندیوں میں نرمی، علاقائی سلامتی کے معاملات، بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی اور مستقبل کے سفارتی فریم ورک جیسے موضوعات پر ابھی بھی تفصیلی مذاکرات جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین اس بار کسی ایسے معاہدے کے خواہاں ہیں جو نہ صرف موجودہ بحران کو ختم کرے بلکہ مستقبل میں تنازعات کے امکانات کو بھی کم کر سکے۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
مبصرین کے مطابق مجوزہ معاہدے کا سب سے اہم اور عالمی سطح پر اثرانداز ہونے والا پہلو آبنائے ہرمز کی بحالی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران خطے میں کشیدگی اور عسکری سرگرمیوں کے باعث اس آبی گزرگاہ کی سلامتی پر سنگین خدشات پیدا ہوئے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، شپنگ انشورنس کی لاگت میں اضافہ اور عالمی سپلائی چین پر دباؤ دیکھنے میں آیا۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے تو نہ صرف تیل کی عالمی قیمتوں میں استحکام آئے گا بلکہ ایشیا، یورپ اور امریکہ کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو بھی نمایاں فروغ ملے گا۔
عالمی برادری کی نظریں مذاکرات پر مرکوز
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماضی میں بھی کئی مواقع پر امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے امکانات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں، لیکن موجودہ صورتحال نسبتاً زیادہ امید افزا دکھائی دیتی ہے کیونکہ اس بار تین اہم فریق—امریکہ، ایران اور پاکستان—بیک وقت مثبت اشارے دے رہے ہیں۔
تاہم تہران کے حالیہ محتاط بیان نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ مذاکرات ابھی مکمل نہیں ہوئے اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قبل مزید سفارتی مشاورت درکار ہے۔
عالمی برادری، توانائی کی منڈیاں اور خطے کے ممالک اب آنے والے چند دنوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسے حالیہ برسوں کا ایک اہم ترین سفارتی بریک تھرو قرار دیا جائے گا، جو نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات میں نئی جہت پیدا کرے گا بلکہ مشرق وسطیٰ میں امن، اقتصادی بحالی اور علاقائی استحکام کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔



