تازہ ترینصحت

پاکستان میں ڈاکٹر بننے کا خواب ماند پڑنے لگا؟ پہلی بار میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی سینکڑوں نشستیں خالی ،رپورٹ‌

ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ میڈیکل تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے

رپورٹ‌سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

ایک وقت تھا جب پاکستان میں ڈاکٹر بننا نہ صرف ایک معزز پیشہ سمجھا جاتا تھا بلکہ اسے معاشی استحکام، سماجی عزت اور کامیاب مستقبل کی ضمانت بھی تصور کیا جاتا تھا۔ والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر یا انجینئر بنانے کے خواب دیکھتے تھے اور طلبہ برسوں کی محنت کے بعد میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کرنے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی سمجھتے تھے۔ تاہم اب حالات تیزی سے بدلتے دکھائی دے رہے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی سینکڑوں نشستیں خالی رہ جانے کا واقعہ اس تبدیلی کا واضح اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ رواں سال ملک بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں مجموعی طور پر 743 نشستیں خالی رہ گئیں، حالانکہ داخلوں کے عمل میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی، میرٹ کے تقاضوں میں نرمی کی گئی اور طلبہ کو اضافی مواقع بھی فراہم کیے گئے۔ اس کے باوجود بڑی تعداد میں نشستیں پُر نہ ہو سکیں۔

تعلیمی ماہرین، صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اور سماجی مبصرین اس صورتحال کو محض ایک وقتی رجحان نہیں بلکہ نوجوانوں کی ترجیحات میں آنے والی گہری تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر بننے کا خواب کیوں کمزور پڑ رہا ہے؟

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی کے تناسب سے ڈاکٹروں کی تعداد اب بھی ناکافی ہے۔ ملک کے دور دراز اور دیہی علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے جبکہ کئی بنیادی مراکز صحت مستقل ڈاکٹروں سے محروم ہیں۔ دوسری جانب بڑے شہروں کے سرکاری ہسپتال مریضوں کے غیر معمولی بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

ایسے حالات میں بظاہر یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد میڈیکل کے شعبے کا رخ کرے گی، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس سامنے آ رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ میڈیکل تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران نجی میڈیکل کالجوں کی فیسوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس نے متوسط طبقے کے ہزاروں خاندانوں کے لیے ڈاکٹر بننے کا خواب تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق ایک نجی میڈیکل کالج میں صرف ٹیوشن فیس ہی تقریباً ایک کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ ہاسٹل، کتابوں، امتحانات اور دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ ایسے میں والدین کے لیے یہ فیصلہ مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ وہ ایک ایسی ڈگری پر اتنی بڑی سرمایہ کاری کریں جس کے بعد معاشی کامیابی کی کوئی واضح ضمانت موجود نہ ہو۔

پانچ سال کی تعلیم، پھر ہاؤس جاب اور لمبا انتظار

نوجوان ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ میڈیکل کی تعلیم صرف پانچ سالہ ڈگری تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے بعد ہاؤس جاب، ٹریننگ اور اسپیشلائزیشن کے کئی مراحل طے کرنا پڑتے ہیں۔

ایک نوجوان ڈاکٹر کے مطابق:

"ہم دس سے بارہ سال کا مکمل روڈ میپ لے کر چلتے ہیں۔ پانچ سال ایم بی بی ایس، پھر ہاؤس جاب، پھر پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ۔ جب ہم اس سفر کے اختتام کے قریب پہنچتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ ہمارے ہم عمر افراد آئی ٹی، کاروبار یا سوشل میڈیا کے ذریعے مالی طور پر ہم سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔”

ماہرین کے مطابق طویل تعلیمی دورانیہ اور اس دوران محدود مالی مواقع نوجوانوں کو اس شعبے سے دور کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

بیرون ملک مواقع بھی محدود

ماضی میں پاکستانی میڈیکل طلبہ کے لیے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور خلیجی ممالک میں بہتر روزگار اور اسپیشلائزیشن کے مواقع ایک بڑی کشش ہوا کرتے تھے۔ لیکن حالیہ برسوں میں ویزا پالیسیوں کی سختی، بڑھتے ہوئے مقابلے اور امیگریشن قوانین میں تبدیلیوں نے اس راستے کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق بڑی تعداد میں ایسے نوجوان موجود ہیں جنہوں نے بین الاقوامی امتحانات پاس کر لیے ہیں لیکن ویزا یا تربیتی مواقع نہ ملنے کے باعث وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

روزگار کے مواقع بھی محدود

صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نوجوان ڈاکٹروں کو روزگار کے حوالے سے بھی متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔

ماضی میں سرکاری ملازمت نسبتاً آسانی سے دستیاب ہو جاتی تھی لیکن اب سرکاری بھرتیوں میں کمی، کنٹریکٹ سسٹم، آؤٹ سورسنگ اور محدود آسامیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی نوجوان ڈاکٹر بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک ساتھ دو یا تین ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں۔ اس صورتحال نے پیشے کی کشش کو متاثر کیا ہے۔

ڈیجیٹل معیشت نے ترجیحات بدل دیں

ماہرین کے مطابق نوجوانوں کی ترجیحات میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ پاکستان میں تیزی سے ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت ہے۔

آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور فری لانسنگ جیسے شعبوں نے نوجوانوں کے سامنے نئے مواقع کھول دیے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران پاکستانی فری لانسرز کی ترسیلات زر 856 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان اب ایسے شعبوں کو ترجیح دے رہے ہیں جہاں کم وقت میں آمدنی حاصل کی جا سکے اور کیریئر کے مواقع عالمی سطح پر دستیاب ہوں۔

کامیابی کی تعریف بدل رہی ہے

سماجی ماہرین کے مطابق پاکستانی معاشرے میں کامیابی کا تصور بھی تبدیل ہو رہا ہے۔

چند سال پہلے تک والدین کے نزدیک ڈاکٹر یا انجینئر بننا کامیابی کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، لیکن اب والدین اور نوجوان دونوں پیشے کے نام کے ساتھ ساتھ معیارِ زندگی، ذہنی سکون، آمدنی اور ترقی کے مواقع کو بھی اہمیت دینے لگے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کا نوجوان صرف سماجی حیثیت کے لیے کسی پیشے کا انتخاب نہیں کرتا بلکہ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ اس پیشے میں مالی استحکام، ترقی اور ذاتی اطمینان کے کتنے امکانات موجود ہیں۔

صحت کے شعبے کے لیے خطرے کی گھنٹی؟

صحت عامہ کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ رجحان مسلسل بڑھتا رہا تو مستقبل میں پاکستان کو طبی افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایک طرف آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، دوسری جانب نوجوان میڈیکل کے شعبے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر حکومت، ریگولیٹری ادارے اور تعلیمی شعبہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ نہ دیں تو آنے والے برسوں میں ملک کے صحت کے نظام پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایک نئے دور کا آغاز

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں 743 نشستوں کا خالی رہ جانا محض داخلوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستانی معاشرے میں رونما ہونے والی ایک بڑی معاشی اور سماجی تبدیلی کی علامت ہے۔

یہ تبدیلی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ نئی نسل اب روایتی پیشہ ورانہ راستوں کے بجائے ایسے شعبوں کا انتخاب کر رہی ہے جہاں کم وقت میں بہتر معاشی مواقع، عالمی رسائی اور زیادہ پیشہ ورانہ آزادی میسر ہو۔

یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں ڈاکٹر بننے کا خواب ختم تو نہیں ہوا، لیکن اب وہ واحد خواب بھی نہیں رہا جسے کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button