
سیاسی عدم استحکام کے منفی اور ناچتے نتائج………حیدر جاوید سید
ہماری رائے میں آگے بڑھنے سے قبل اس سوال کا جواب تلاش کرنا ازبس ضروری ہے کیونکہ ہم اس تلخ حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کے خطاب کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ” ماضی میں میثاق معیشت کی دعوت دی لیکن اسے حقارت سے ٹھکرادیا گیا انہوں نے اپوزیشن کو ایک بار پھر میثاق جمہوریت اور بات چیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا سب ہمارے بھائی ہیں کوئی لڑائی نہیں آئیں سب ملکر کر بیٹھیں سیاست اپنی اپنی لیکن پاکستان ہے تو ہم ہیں ” اس سے قبل محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں کہا ” میں ہاتھ جوڑ کر وزیراعظم سے پارلیمان کو مضبوط کرنے کی اپیل کرتا ہوں شہباز شریف ایک میمورنڈم لکھیں کوئی پارٹی کسی کی ٹانگ نہیں کھینچے گی جو پارٹی جیتے گی اس کو مینڈیٹ دینگے بانی پی ٹی آئی کے پاس جیل میں میں لے کر جاوں گا ان کا کہنا تھا آئین احتجاج کی اجازت دیتا ہے مظاہرین پر گولیاں چلانا قابل مذمت ہے غلطیوں کی اصلاح ہوسکتی ہے آئیں بیٹھیں محروم علاقوں کے عوام کے تحفظات دور کرنا ہوں گے ” تقاریر کی حد تک قائد حزب اختلاف اور وزیراعظم کی تقاریر درست بلکہ سیاسی سوچ کا اظہار ہیں اصل مسلہ مل بیٹھنے اور بات چیت کا ہے پاکستانی سیاست ہمیشہ کی طرح آج بھی دو انتہاوں میں بٹی ہوئی ہے ہردوجانب عدم برداشت اور نفرت کا دور دورہ ہے یہ عدم برداشت اور نفرت نمائشی تقاریر سے ختم ہونے کے نہیں اس کیلئے گروہی عصبیت اور شخصی انا کی قربانی دینا ہوگی
اپریل 2022 سے قبل موجودہ حکمران اتحاد کی جماعتیں ملک دشمن فوج مخالف قوتوں کے ہاتھوں کھیلنے والی چور لٹیری جماعتیں تھیں تب اس وقت کی حکمران جماعت تحریک انصاف کی فوج سے محبت کا زم زم بہہ رہا تھا اور حب الوطنی نصف النہار پہ تھی اپریل 2022 کے بعد سے تحریک انصاف ملک دشمن فوج مخالف قوتوں کے ہاتھوں کھیلنے والی جماعت اور چور لٹیری ہے پی ٹی آئی کی ایک خاتون رکن قومی اسمبلی سمیت متعدد رہنما کہتے آئے ہیں ” عمران خان نہیں تو پاکستان نہیں ” سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعصبات نفرتیں اور سوچ ختم کئے بغیر سیاسی ایکتا کا حصول ممکن ہے ؟
ہماری رائے میں آگے بڑھنے سے قبل اس سوال کا جواب تلاش کرنا ازبس ضروری ہے کیونکہ ہم اس تلخ حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ تحریک انصاف کا خمیر مخالف سیاسی جماعتوں کی نفرت سے گندھا ہوا ہے اس کے بانی سے عام حامی ( ان میں سیاسی مہاجر بھی شامل ہیں ) تک اپنے سیاسی مخالفوں کا ذکر حقارت کے ساتھ کرتے ہیں عمران خان جب وزیراعظم تھے تو وہ یہ کہہ کر قومی سلامتی کے معاملات پر اپوزیشن کے ساتھ نہیں بیٹھتے تھے کہ "چوروں کے ساتھ بیٹھنا میرے نظریہ کی توہین ہے ” آج بھی عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات اور صلح صفائی کے خواہش مند ہیں وفاقی حکومت کو چاہئے کہ پہلے محمود خان اچکزئی کی اڈیالہ جیل میں قید عمران خان سے ملاقات کروائے تاکہ وہ ان سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا تحریری مینڈیٹ لے کر آئیں اسی طرح عمران خان کی تحریک انصاف کے متعلقین و ہمدردان ہردوکو سیاسی رویہ اپنانا ہوگا کیونکہ اس وقت ان کا رویہ فین کلب کے کلٹ والا ہے فقط ان کا نہیں بلکہ تحریک انصاف کی ایک دو اتحادی مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا بھی یہی رویہ ہے اس پہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزے کا رنگ پکڑنے والی مثال صادق آتی ہے سادہ لفظوں میں یہ کہ چند برس قبل جن سے ہاتھ ملانے اور مل بیٹھنے کو عمران خان اپنے نظریہ کی توہین سمجھتے تھے کیا اب وہ ان سیاسی قوتوں کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوں گے ؟
عمومی مثال یہی ہے کہ سیاست میں مستقل دوستیاں اور دشمنیاں نہیں ہوتی یہ بات فقط عمران مخالف جماعتوں پر ہی صادق نہیں بلکہ یہ مثال خود عمران پر بھی صادق آتی ہے ایک وقت تھا جب وہ ڈی چوک کے کینٹینر پر دوپٹہ اوڑھ کر محمود خان اچکزئی کا مذاق اڑاتے تھے ایک وہ وقت بھی تھا جب انہوں نے راجہ ناصر عباس جعفری کے حامی طبقے کی لاشوں کو بلیک میلر کہا اب ان کی جماعت کی جانب سے اچکزئی قومی اسمبلی میں اور راجہ صاحب سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے منصبوں فائز ہیں اس طور عمران خان کو دوقدم مزید آگے بڑھ کر اپنی مخالف سیاسی جماعتوں سے بات کرلینی چاہئے کوئی قیامت ٹوٹے گی نہ کسی نظریہ کی توہین ہوگی کیونکہ خود عمران خان ماضی میں کہتے رہے ” مجھے تو ایجنسیوں نے نواز و زرداری وغیرہ کی کرپشن کی فائیلیں دیکھائی تھیں ” ہماری دانست میں اب اس پر بحث برائے بحث کی ضرورت نہیں کہ 2011 اور اس کے بعد اس ملک کی ایجنسیوں اور اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کی کس طرح تعمیرنو کی کبھی ایسی ہی تعمیرنو مسلم لیگ ن کی بھی ہوئی ایم کیو ایم کی بھی جماعت اسلامی جنرل ضیا الحق کی بی ٹیم بنی رہی ماضی میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کی باواآدم کہلانے والی پیپلز پارٹی کے بھی آج اسٹیبلشمنٹ سے خوشگوار تعلقات ہیں
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جو اور جیسی بھی ہے تحریک انصاف آج ایک حقیقت ہے اور پاکستان کی نفرت بھری مروجہ سیاست کا حصہ اس لئے نفرتوں کے خاتمے کی جتنی ذمہ داری دوسری جماعتوں پر ہے اتنی ہی تحریک انصاف پر بھی ہے محمود خان اچکزئی کا خطاب بہت اچھا اور ایک بالغ نظر سیاستدان کا خطاب ہے سیاسی مفاہمت ہونا چاہئے یہ لمحہ موجود کی نہیں ہمارے مستقبل کی بھی ضرورت ہے ہم اس سے انکار نہیں کرسکتے کہ پچھلے کچھ برسوں سے ملک اور نظام کو جس سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے اس کے معیشت سماجیات سیاسی رویوں سمیت دیگر امور پر بدترین منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ان منفی اثرات کی بدولت پاکستان اپنے نظام سمیت جہاں کھڑا ہے یہ کوئی قابل فخر کیا قابل ذکر مقام بھی نہیں بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے دگرگوں حالات سب کے سامنے ہیں کچھ عرصے سے پاکستان کے زیرانتظام آزاد جموں کشمیر میں سیاسی عدم استحکام کا دوردورہ ہے طالبانائزیشن اور بلوچ عسکریت پسندی سے بنی فضا اور صورتحال کا انکار ممکن نہیں صوبوں اور وفاق کے درمیان عدم اعتماد سے پیدا شدہ مسائل ہیں پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان میں بے چینی کی لہر ہے حق ملکیت اور بعض وسائل پر قبضہ گیری کی سوچ پر پیدا ہوا ردعمل منہ چڑھا رہا ہے کورچشمی کا مرض لاحق نہ ہوتو مسائل ہیں اور ہرگزرنے والے دن کے ساتھ گھمبیر ہوتے جارہے ہیں اصلاح احوال کی صرف ایک صورت ہے وہ ہے سیاسی استحکام یہ کیسے آئے گا یہ کوئی مسلہ فیثا غورث ہرگز نہیں بلکہ اس کا سادہ سا جواب ہے وہ یہ کہ گروہی تعصبات نفرتوں اور الزامات سے رزق پانے کی بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا جائے مزید وضاحت کے ساتھ عرض کردوں کہ سیکورٹی اسٹیٹ کے طبقاتی نظام کے کوچے سے عوامی جمہوریت کی منزل پر جانے کا راستہ نکالنا ہوگا یہ راستہ صرف اور صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت سے نکل سکتا ہے مفاہمت کیلئے ایک دوسرے کو برداشت کرکے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی تقاریر اچھی بلکہ بہت اچھی تھیں لیکن ایسی تقاریر پہلے بھی ہوتی رہیں اصل بات یہ ہے کہ تقاریر سے آگے بڑھیں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا عملی مظاہرہ کریں
حکومت اور اپوزیشن مفاہمت کیلئے مذاکرات کے عمل کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں تو حکومت تحریک انصاف کے ہمدردوں کے خلاف غیر ضروری مقدمات ختم کرے یا عام معافی کا اعلان کرکے انہیں رہا کردے عمران خان کے خلاف مقدمات کی حقیقت جانچنے کیلئے اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کیا جائے
تحریک انصاف کے ہمدرد سیاسی طرز عمل اپنائیں پی ٹی آئی ڈالرخور بھگوڑے یوٹیوبرز سے دوٹوک لاتعلقی کا اعلان کرے یہ کام اگر فریقین کرپاتے ہیں تو مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوسکتے ہیں ورنہ ساری باتیں اور خواہشیں لذتِ دہن کے سوا کچھ نہیں ثانیاً یہ کہ سیاسی جماعتیں اگر میثاق جمہوریت کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو انہیں اسٹیبلشمنٹ کے کاندھوں اور گود میں نہ بیٹھنے کا تحریری وعدہ کرنا ہوگا گالم گلوچ اور نفرتوں کی سیاست کو ہمیشہ کیلئے دفن کرنا ہوگا پاکستان آج جن مسائل سے دوچار ہے ان سے انکار ممکن نہیں مسائل فقط سیاسی استحکام سے ہی حل ہوپائیں گے کیا ہم امید کریں کے سیاسی رہنما تقاریر کی بجاِئے عملیت پسندی کا مظاہرہ کریں گے ؟ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اب عملیت پسندی کے مظاہرے کی ضرورت ہے حالات کو بہتر بنانے کیلئے فریقین کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی ہم نیک و بد عرض کیئے دیتے ہیں آگے ہمارے دستیاب سیاسی رہنماوں کی مرضی ہے کہ وہ نفرتوں کی سیاست سے ہی رزق پاتے رہنا چاہتے ہیں یا اس ملک کی بدقسمت رعایا کو عوام بننے کا موقع دیتے ہیں ؟


