
ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے جرمن ایس ایم ای نمائندہ میتھیو شا کی قیادت میں آنے والے ایک اعلیٰ سطحی جرمن وفد سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان سرمایہ کاری، تجارتی تعاون، صنعتی روابط اور ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے مختلف اصلاحاتی اقدامات کر رہا ہے۔
پاکستان اور جرمنی کے اقتصادی تعلقات کو نئی جہت دینے پر اتفاق
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان کاروباری اور سرمایہ کاری کے روابط کو مزید وسعت دی جائے گی اور نئے اقتصادی مواقع سے مشترکہ طور پر فائدہ اٹھایا جائے گا۔
وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ حکومت پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ، شفاف اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق حالیہ ریگولیٹری اصلاحات اور کاروبار دوست پالیسیوں کے نتیجے میں ملک میں سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
"پاکستان میں صنعت، توانائی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات، لاجسٹکس اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور حکومت ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے۔”
جرمن کمپنیوں کو پاکستان لانے اور پاکستانی برآمدات کو یورپ تک پہنچانے پر زور
قیصر احمد شیخ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت جرمن کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے لیے فعال اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، بڑی مقامی منڈی اور نوجوان افرادی قوت جرمن سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ پاکستانی کاروباری اداروں کو یورپی منڈیوں تک رسائی دلانے اور دوطرفہ تجارتی حجم میں اضافہ کرنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔
جرمن وفد نے پاکستان کی نوجوان آبادی کو اہم اثاثہ قرار دیا
جرمن وفد نے حکومت پاکستان کی اقتصادی اصلاحات اور کاروبار دوست اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔
وفد کے ارکان کے مطابق اگر نوجوانوں کو جدید تکنیکی مہارتیں اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف ملکی صنعتوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں بلکہ عالمی منڈی میں بھی پاکستان کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔
ملاقات میں اس بات پر خصوصی توجہ دی گئی کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد نوجوان آبادی کو جدید تقاضوں کے مطابق ہنر مند بنانے کی ضرورت ہے تاکہ صنعتی پیداوار، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو سکے۔
ایس ایم ایز کے لیے مالی سہولتوں اور صنعتی تعاون پر گفتگو
دونوں فریقوں کے درمیان چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے فروغ پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
اجلاس میں جرمن، سوئس اور آسٹرین مشینری کی فراہمی، صنعتی ٹیکنالوجی کے تبادلے اور ایس ایم ایز کے لیے مالی سہولتوں کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
ماہرین کے مطابق ایس ایم ای سیکٹر پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور جدید مشینری و ٹیکنالوجی کی دستیابی اس شعبے کی پیداواری صلاحیت اور برآمدی استعداد کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہے۔
پاکستان میں ووکیشنل ٹریننگ اداروں کے قیام کی تجویز
ملاقات میں پاکستان میں جدید ووکیشنل ٹریننگ ادارے قائم کرنے اور ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔
جرمن وفد نے اس حوالے سے تعاون میں دلچسپی ظاہر کی اور کہا کہ جرمنی کا ڈوئل ووکیشنل ٹریننگ ماڈل پاکستان میں بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
اس ماڈل کے تحت نوجوانوں کو عملی تربیت اور نظریاتی تعلیم ایک ساتھ فراہم کی جاتی ہے، جس سے صنعتوں کو براہ راست ہنر مند افرادی قوت میسر آتی ہے۔
جرمنی میں روزگار کے مواقع اور ترسیلات زر میں اضافے پر بھی بات چیت
اجلاس میں پاکستانی شہریوں کے لیے جرمنی میں روزگار کے مواقع بڑھانے اور ہنر مند کارکنوں کی قانونی بھرتی کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔
فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر پاکستانی نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کی جائے تو وہ جرمنی سمیت یورپی ممالک کی لیبر مارکیٹ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ترسیلات زر میں اضافے اور پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا عمل کو مزید آسان بنانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔
سرمایہ کاروں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی
وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے جرمن وفد کو یقین دلایا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے۔
"ہم عالمی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار کاروباری ماحول پیدا کر رہے ہیں اور پاکستان کی مصنوعات، خدمات اور مہارت کو یورپی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔”
پاکستان-جرمنی اقتصادی تعاون میں نئے دور کی امید
اقتصادی ماہرین کے مطابق یہ ملاقات پاکستان اور جرمنی کے درمیان اقتصادی تعاون کو ایک نئی جہت دے سکتی ہے۔ جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ پاکستان جنوبی ایشیا کی ایک بڑی ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک سرمایہ کاری، صنعتی ٹیکنالوجی، ہنر مند افرادی قوت اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیتے ہیں تو اس سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ پاکستان کی صنعتی اور برآمدی صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ملاقات کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اقتصادی بحالی کے لیے بین الاقوامی شراکت داریوں کو وسعت دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔



