یورپتازہ ترین

پولینڈ کی اپنے ہاں مستقل امریکی فوجی اڈے کی پیشکش پر پینٹاگون کھلے پن کی سوچ کا حامل

دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کی یہ ملاقات بیلجیم کے دارالحکومت میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے وزرائے دفاع کے ایک اجلاس کے حاشیے پر ہوئی۔

پولینڈ نے امریکہ کو اپنے ہاں مستقل فوجی موجودگی کے لیے دیرپا بنیادوں پر جس فوجی اڈے کی پیشکش کی ہے، اس پر امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون اب تک کھلے پن کی سوچ کا حامل ہے۔

یہ بات پولستانی وزیر دفاع ولادسلاو کوشینیاک کامش نے جمعرات 18 جون کو برسلز میں نیٹو کے ہیڈکوارٹرز میں اپنے امریکی ہم منصب پیٹ ہیگستھ کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد کہی۔

دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کی یہ ملاقات بیلجیم کے دارالحکومت میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے وزرائے دفاع کے ایک اجلاس کے حاشیے پر ہوئی۔

وارسا سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یورپی یونین کے رکن اور جرمنی کے ہمسایہ ملک پولینڈ کی طرف سے کافی عرصے سے اس بات پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ خاص طور پر 2022ء میں یوکرین پر روس کے فوجی حملے کے ساتھ شروع ہونے والی روسی یوکرینی جنگ، جو ابھی تک جاری ہے، کے پس منظر میں نیٹو کو اپنے مشرقی بازو میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرنا چاہیے۔

برسلز میں نیٹو وزرائے دفاع کے اجلاس کے جمعرات 18 جون کو لی گئی ایک تصویر
برسلز میں نیٹو وزرائے دفاع کے اجلاس کے ایک تصویرتصویر: Stoyan Nenov/REUTERS

پیٹ ہیگستھ کے ساتھ اپنی ملاقات کے بعد پولستانی وزیر دفاع کوشینیاک کامش نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے آج امریکہ کے سیکرٹری آف وار کے ساتھ بات چیت کا موقع ملا اور ہم نے باہمی تعاون اور مشترکہ دفاع کے موضوعات پر کھل کر گفتگو کی۔‘‘

پیٹ ہیگستھ کی دھمکی

پولستانی وزیر نے کہا، ’’امریکہ نے اس بارے میں اپنا کھلے پن سے عبارت ردعمل ظاہر کیا ہے کہ پولینڈ کی تجویز پر نیٹو کے رکن اس ملک میں ایک مستقل امریکی فوجی اڈہ قائم کیا جانا چاہیے۔‘‘

تاہم ساتھ ہی پولستانی وزیر نے یہ بھی کہا کہ اس بارے میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، مگر پینٹاگون نے وارسا کی اس تجویز پر کھلے پن کی سوچ کا اظہار کیا ہے۔ پولینڈ میں اب تک امریکی فوجی ’’بدل بدل کر تعیناتی کے نظام‘‘ کے تحت تعینات کیے جاتے ہیں۔

پولینڈ کے وزیر دفاع (دائیں) کل بدھ کے روز وارسا میں وفاقی جرمن ہم منصب وزیر بورس پسٹوریئس کے ہمراہ
پولینڈ کے وزیر دفاع (دائیں) کل بدھ کے روز وارسا میں وفاقی جرمن ہم منصب وزیر بورس پسٹوریئس کے ہمراہتصویر: Jakub Porzycki/Anadolu/picture alliance

امریکی وزیر دفاع ہیگستھ نے آج جمعرات ہی کے روز نیٹو وزرائے دفاع کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ یورپ میں اپنی افواج کی مجموعی تعیناتی پر نئے سرے سے غور کر سکتا ہے۔

ساتھ ہی پیٹ ہیگستھ نے یہ تنبیہ بھی کی کہ اگر نیٹو کے رکن ممالک نے دفاعی اخراجات سے متعلق اپنی ذمے داریاں پوری نہ کیں، تو استعاراتی سطح پر ’’مفت سفر‘‘ کرنے والے یورپی اتحادیوں کی وجہ سے واشنگٹن کی طرف سے نیٹو کے بجٹ کی مد میں کی جانے والی مالی ادائیگیاں جزوری طور پر روکی بھی جا سکتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button