بین الاقوامیاہم خبریں

مفاہمتی یاد داشت "ایران کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کے مترادف ہے : ٹرمپ

ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ بحران کے دوران ممکنہ اقتصادی اثرات، خاص طور پر عالمی توانائی کی منڈیوں اور آبنائے ہرمز کے مسلسل بند رہنے کے خطرے کے بارے میں شدید تشویش کا شکار تھے

The Axios Show”

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حال ہی میں ایران کے ساتھ دستخط کی گئی مفاہمت کی یاد داشت بنیادی طور پر ایک "غیر مشروط ایرانی ہتھیار ڈالنے” کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کا دفاع کیا ہے جس نے امریکہ کے اندر اور باہر اس حوالے سے وسیع بحث چھیڑ دی ہے کہ ہر فریق نے کتنے فوائد حاصل کیے ہیں۔
جمعرات کی شام The Axios Show” کے ساتھ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اس مفاہمت کو، جس نے عسکری محاذ آرائی کا خاتمہ کیا اور تہران کے ساتھ وسیع تر مذاکرات کے دروازے کھولے، ایک امریکی کامیابی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے ان شرائط کو قبول کر لیا ہے جنہیں وہ جنگ سے پہلے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب معاہدے کو کچھ ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن کا خیال ہے کہ واشنگٹن نے حالات کو جنگ کے پھیلنے سے پہلے کی سطح پر واپس لانے کے بدلے میں بڑے سمجھوتے کیے ہیں۔

اسی انٹرویو میں ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کے ساتھ جنگ نے ان پر صدارتی اختیارات کی حدود واضح کر دی ہیں… تو انہوں نے جواب دیا کہ جو کچھ ہوا اس نے ان کے نظریے کو تبدیل نہیں کیا اور وہ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری فیصلے کرنے کی اپنی صلاحیت پر کسی "حد” کو نہیں دیکھتے۔

ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ بحران کے دوران ممکنہ اقتصادی اثرات، خاص طور پر عالمی توانائی کی منڈیوں اور آبنائے ہرمز کے مسلسل بند رہنے کے خطرے کے بارے میں شدید تشویش کا شکار تھے۔ اس نے امریکی صدر کی انتظامیہ کو ایسی مفاہمت تک پہنچنے کو ترجیح دینے پر مجبور کیا جو عالمی تیل کی سپلائی کے استحکام کی ضمانت دے سکے۔

ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کا دفاع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران 60 دن پر محیط تکنیکی مذاکرات کے مرحلے میں داخل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد ایرانی جوہری پروگرام، پابندیوں اور بین الاقوامی نگرانی کے میکانزم پر حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔

اگرچہ امریکی انتظامیہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ معاہدہ اہم تزویراتی مقاصد حاصل کرتا ہے، بشمول ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، پھر بھی مخالف آوازیں موجودہ مفاہمت کی دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافی فائلوں کو حل کرنے کی صلاحیت پر شک ظاہر کر رہی ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کو "غیر مشروط ہتھیار ڈالنا” قرار دینا اس امریکی بیانیے پر ان کی گرفت کو ظاہر کرتا ہے جو جنگ کے نتائج سے برآمد ہوا۔ دوسری جانب تہران اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس نے طاقت کے ساتھ مذاکرات میں قدم رکھا ہے اور یہ معاہدہ اس کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور واشنگٹن کے ساتھ مفاہمت کے ایک نئے مرحلے کی بنیاد رکھتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button