
ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ
تب اس ریفرنڈم کو اس کے مقصد کی مناسبت سے ‘برٹش ایگزٹ‘ یا ‘بریگزٹ‘ (Brexit) کا نام دیا گیا تھا اور ملکی رائے دہندگان میں سے 52 فیصد یا 17 ملین سے زائد نے اس امکان کی حمایت کر دی تھی کہ برطانیہ کو یورپی یونین سے نکل جانا چاہیے۔
تب بھی قریب 48 فیصد برٹش ووٹروں نے یہ کہا تھا کہ نہیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے اور یہ ایک غلط فیصلہ ہو گا۔ بہرحال بریگزٹ ریفرنڈم میں ‘ہاں‘ کے عوامی فیصلے کے بعد برطانیہ یورپی یونین سے نکل گیا تھا اور ساتھ ہی یورپی اتحاد کے اس عمل کو بھی بڑا نقصان پہنچا تھا، جس کا مقصد یہ تھا کہ برطانیہ کو، جو جغرافیائی طور پر باقی ماندہ یورپ سے کٹا ہوا ہے، مسلسل یورپ کے قریب تر لایا جائے۔
بریگزٹ ریفرنڈم جس یورپی برطانوی قربت کے خاتمے کی وجہ بنا تھا، اس پر 23 جون 2016ء سے پہلے تقریباﹰ نصف صدی تک کام کیا جاتا رہا تھا۔

برطانوی رائے عامہ آج بھی ماضی کی طرح منقسم
ٹھیک ایک دہائی پہلے منعقد کرایا جانے والا ریفرنڈم ایک ایسے ماحول میں کرایا گیا تھا، جہاں لندن کے یورپی یونین میں ہی موجود رہنے کے حامی اور مخالف سیاسی اور عوامی حلقوں کے مابین شدید اختلاف رائے پایا جاتا تھا۔
آج برطانیہ کو یورپی یونین سے نکلے ہوئے برسوں بیت چکے ہیں، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ برطانوی عوام اپنی سوچ اور خواہشات کی سطح پر آج بھی وہیں کھڑے ہیں، جہاں وہ ایک عشرہ پہلے کھڑے تھے۔
اس یورپی ملک میں آج بھی رائے عامہ منقسم ہے کہ آیا بریگزٹ ایک اچھا فیصلہ تھا یا برا۔ ساتھ ہی اس بارے میں بھی عوامی سیاسی سطح پر واضح خواہشات بھی پائی جاتی ہیں کہ برطانیہ کو دوبارہ یورپی یونین میں شامل ہو جانا چاہیے۔
لندن حکومت اب تک اس امکان کی حامی نظر نہیں آتی۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ یورپی یونین کا حصہ ہونے یا اس بلاک سے دور ہو جانے کے حوالے سے برٹش پبلک کافی حد تک آج بھی اسی جگہ پر ہے، جہاں وہ دس سال پہلے تھی۔ فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ جون 2016ء کے بعد آج کا برطانیہ جون 2026ء میں سانس لے رہا ہے۔

بریگزٹ پر عمل درآمد میں پانچ سال لگے
لندن میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی حکومت نے ‘بریگزٹ‘ یا ‘نو بریگزٹ‘ کا جو فیصلہ ملکی عوام پر چھوڑا تھا، اس کا فیصلہ یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کی حمایت کی صورت میں سامنے آیا تھا، مگر اس فیصلے پر عمل درآمد یکدم نہیں ہوا تھا۔ ایسا ممکن بھی نہیں تھا۔
یونین کے رکن ملک کے طور پر برطانیہ نے اس بلاک کے رکن باقی ماندہ ریاستوں کے ساتھ مل کر جن مشترکہ معاہدوں پر دستخط کر رکھے تھے، وہ بہت سے شعبوں میں قواعد و ضوابط کا احاطہ کرتے تھے۔
ان ضوابط کا اطلاق اگر برطانیہ پر نہیں ہو گا، تو اس کے لیے طریقہ کار کیا ہو گا؟ یہ سب تفصیلات طے کرنے میں لندن میں برطانوی حکومت اور برسلز میں یورپی یونین کے انتظامی بازو یورپی کمیشن کو تقریباﹰ پانچ سال کا عرصہ لگا تھا۔

آج کا برطانیہ
اس وقت یورپی یونین کے رکن ممالک کی تعداد 27 ہے اور برطانیہ آج اس بلاک کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ہے۔ برطانیہ کو یہ سہولت بھی حاصل ہے کہ اس کی جو مصنوعات یونین کے رکن ممالک کو برآمد کی جاتی ہیں، ان پر کوئی درآمدی محصولات عائد نہیں کیے جاتے۔
جہاں تک برطانیہ کو یونین کا رکن رہنے سے حاصل ہونے والے اقتصادی فوائد یا رکنیت ختم کرنے سے ہونے والے نقصانات کا سوال ہے، تو کئی ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر برطانیہ یورپی یونین سے نہ نکلتا، تو اس کی قومی معیشت کا حجم اس سے بھی چار سے لے کر آٹھ فیصد تک زیادہ ہوتا، جتنا کہ وہ اب ہے۔
اس کا ایک براہ راست نتیجہ برطانیہ میں معیار زندگی میں مزید بہتری کی صورت میں بھی نکلتا اور پبلک سروسز کے شعبے میں لندن کو ملنے والے بیسیوں ارب یورو کے ان ترقیاتی فنڈز کی صورت میں بھی، جن کے لیے اپنے حقوق اس ملک نے خود ہی کھو دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت؟
برطانیہ میں اب یہ احساس کافی زیادہ پایا جاتا ہے کہ بریگزٹ کا عمل ناکام رہا اور اس ملک نے یورپی یونین سے اپنے اخراج کا فیصلہ کر کے غلطی کی۔
ابھی حال ہی میں کرائے گئے رائے عامہ کے دو مختلف جائزوں کے نتائج کے مطابق اس وقت برطانوی رائے دہندگان میں سے 52 فیصد یہ پسند کریں گے کہ ان کا ملک دوبارہ یورپی یونین میں شامل ہو جائے۔
اس کے برعکس 33 فیصد رائے دہندگان آج بھی اس کے خلاف ہیں کہ برطانیہ کو یورپی یونین کا رکن ہونا چاہیے۔
اس کے علاوہ انہی دو جائزوں میں یہ عوامی احساس بھی سامنے آیا کہ 48 فیصد ووٹروں کی رائے میں بریگزٹ کا عمل توقعات سے زیادہ خراب نتائج کی وجہ بن رہا ہے، جبکہ صرف نو فیصد رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ برطانیہ دس سال پہلے کے مقابلے میں آج بہتر حالت میں ہے۔



