
گلوبل ٹارچر انڈیکس 2026: افغانستان تشدد اور ریاستی جبر کے حوالے سے "انتہائی ہائی رسک” قرار، طالبان کی حراست میں خواتین کی تعداد میں نمایاں اضافہ
ورلڈ آرگنائزیشن اگینسٹ ٹارچر کی رپورٹ میں افغانستان کی انسانی حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش، خواتین قیدیوں پر جسمانی و جنسی تشدد کے سنگین الزامات
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
ورلڈ آرگنائزیشن اگینسٹ ٹارچر (OMCT) کی جانب سے جاری کردہ "گلوبل ٹارچر انڈیکس 2026” میں افغانستان کو تشدد، غیر انسانی سلوک، جبری حراست اور ریاستی جبر کے حوالے سے "انتہائی ہائی رسک” ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین، انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور دیگر شہریوں کو شدید دباؤ، جبری گرفتاریوں اور مختلف اقسام کے تشدد کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں خواتین کے بنیادی حقوق پر عائد پابندیوں کے ساتھ ساتھ حراستی مراکز میں قید خواتین کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیموں نے انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔
خواتین قیدیوں کی تعداد میں دوگنا سے زیادہ اضافہ
رپورٹ میں دستیاب سرکاری اور مانیٹرنگ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین قیدیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں طالبان کی تحویل میں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد تقریباً 840 تھی، جو 2025 تک بڑھ کر 1,825 تک پہنچ گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت افغانستان کے مختلف سرکاری اور خفیہ حراستی مراکز میں مجموعی طور پر تقریباً 23 ہزار افراد قید ہیں، جبکہ ملک میں شرح حراست 54 افراد فی ایک لاکھ آبادی بتائی گئی ہے۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ قرار دیا گیا ہے کہ رپورٹ کے مطابق 52 فیصد قیدی ایسے ہیں جن پر کسی عدالت سے جرم ثابت نہیں ہوا، تاہم وہ بدستور زیر حراست ہیں۔
خواتین قیدیوں پر سنگین الزامات
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجموعی قیدیوں میں تقریباً ایک ہزار خواتین شامل ہیں، جو جیلوں کی مجموعی آبادی کا 4.3 فیصد بنتی ہیں۔
ان خواتین کو طالبان کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلیجنس (GDI)، وزارت داخلہ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے زیر انتظام مختلف سرکاری اور خفیہ حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آزاد مانیٹرنگ اداروں اور اقوام متحدہ کے افغانستان مشن (UNAMA) کی رپورٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان خواتین کو قانونی معاونت اور شفاف عدالتی عمل تک رسائی کے بغیر مختلف اقسام کے جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جسمانی اور جنسی تشدد کے الزامات
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ متعدد خواتین قیدیوں نے بدترین جسمانی تشدد، الیکٹرک شاک، کوڑے مارنے، طویل تنہائی، نفسیاتی دباؤ اور جنسی تشدد جیسے واقعات کی شکایات درج کرائی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کئی خواتین کو خاندان یا وکیل سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جاتی، جبکہ متعدد افراد کو بغیر باضابطہ فرد جرم یا عدالتی کارروائی کے طویل عرصے تک حراست میں رکھا جاتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ الزامات مختلف آزاد اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی دستاویزی رپورٹس میں بھی سامنے آئے ہیں۔
خواتین پر عائد پابندیوں کا تسلسل
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین اور بچیوں کی تعلیم، ملازمت، عوامی زندگی میں شرکت اور آزادانہ نقل و حرکت پر متعدد پابندیاں عائد کیں، جنہیں عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق خواتین کو محرم کے بغیر سفر کرنے، بعض شعبوں میں کام کرنے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کے بعد اب معمولی نوعیت کے مبینہ "اخلاقی جرائم” پر بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسی گرفتاریاں خواتین پر سماجی اور سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی تشویش
ورلڈ آرگنائزیشن اگینسٹ ٹارچر کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تشدد، جبری گمشدگی، غیر قانونی حراست اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
رپورٹ میں عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں زیر حراست افراد، خصوصاً خواتین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر سفارتی اور قانونی اقدامات کریں۔
آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ
رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغانستان کے تمام حراستی مراکز تک آزاد بین الاقوامی مبصرین کو رسائی دی جائے تاکہ قیدیوں کی صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔
ساتھ ہی عالمی اداروں سے کہا گیا ہے کہ خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے فوری انسانی امداد، قانونی معاونت اور نگرانی کے مؤثر نظام قائم کیے جائیں۔
طالبان کا مؤقف
اس رپورٹ میں عائد الزامات پر طالبان حکام کا تفصیلی ردعمل شامل نہیں ہے۔ ماضی میں طالبان انتظامیہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور منظم تشدد سے متعلق ایسے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ افغانستان میں اسلامی قوانین کے مطابق نظامِ انصاف نافذ کیا جا رہا ہے۔
تاہم بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ افغانستان میں انسانی حقوق، خصوصاً خواتین کے حقوق، عدالتی شفافیت اور قیدیوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے آزادانہ تحقیقات اور مؤثر نگرانی ناگزیر ہے۔



