
جواد احمد-جرمنی،وائس آف جرمنی اردو نیوز
یورپی پارلیمنٹ کی رکن ہنّا نوئیمان نے یورپی کمیشن کی جانب سے افغان طالبان کی میزبانی اور ان سے مذاکرات پر سخت تنقید کی ہے۔
ہنّا نوئیمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ افغان طالبان یورپی یونین کے ساتھ تکنیکی گفتگو کے خواہاں نہیں، بلکہ وہ اپنی سیاسی حیثیت کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں۔
یورپی پارلیمنٹ کی افغان کمیٹی کی سربراہ روشیل گارسیا نے یورپی کمیشن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں 45 کروڑ یورپی شہریوں کی جانب سے افغان عوام سے معذرت خواہ ہوں کہ ہم نام نہاد مذاکرات کے اس پاگل پن کو روکنے میں ناکام رہے۔ اس نوعیت کے مذاکرات غاصب افغان رجیم کو عالمی سطح پر قبولیت فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس نے بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹر سے رجوع کرتے ہوئے یورپی سرزمین پر افغان طالبان کے وفد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس کے صدر ایلیکسیس ڈیسویف کے مطابق یورپی یونین کی سرزمین پر افغان طالبان سے مذاکرات کرنا ایک غاصب رجیم کو سیاسی جواز فراہم کرتا ہے۔
بین الاقوامی جریدے الجزیرہ کو دیے گئے بیان میں ہیومن رائٹس واچ کی محقق فرشتہ عباسی نے کہا کہ یورپی یونین ایک طرف افغان طالبان کے مظالم کی مذمت کرتی ہے، تو دوسری طرف ان سے روابط رکھ کر اپنی ساکھ داغدار کر رہی ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق برسلز کے بجائے افغان طالبان کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ ان سے مذاکرات کرنا انہیں مستقبل میں مزید سخت پالیسیاں اپنانے پر دلیر کرے گا۔
غاصب افغان رجیم کو سفارتی رعایتیں دینے کا خمیازہ عالمی برادری کو دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کی صورت میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔



