
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
حالیہ دنوں میں خیبرپختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے پاک۔افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا۔ حکام کے مطابق زمینی کارروائی کے بعد دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد مارے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 28 جون 2026 کو ضلع باجوڑ میں پاکستان۔افغانستان سرحد کے قریب دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر ایک منظم انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کیا گیا۔ آپریشن میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ایک منظم گروہ کو گھیرے میں لے کر کارروائی کی۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کی جانب سے شدید مزاحمت کی گئی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے مؤثر حکمت عملی، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید آپریشنل صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کر دیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس کارروائی اور اس کے بعد سرحدی علاقے میں کی گئی مربوط کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 29 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک اہم کمانڈر خان فروش عرف زبال بھی شامل ہے، جو مبینہ طور پر دہشت گرد تنظیم کی اہم کارروائیوں میں ملوث تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھا۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ کمانڈر پر سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کا الزام تھا، جبکہ وہ سرحدی علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورک کی تنظیم اور نقل و حرکت میں بھی اہم کردار ادا کرتا تھا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق زمینی آپریشن کے بعد دہشت گردوں کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں اور لاجسٹک مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا تاکہ ان کی دوبارہ منظم ہونے کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔ کارروائی کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر عسکری سامان بھی برآمد ہونے کی اطلاعات ہیں، جن کا فرانزک اور تکنیکی تجزیہ جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ انٹیلی جنس شیئرنگ، فضائی و زمینی نگرانی اور بارڈر مینجمنٹ کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ متعلقہ ادارے دہشت گردوں کے سہولت کاروں، مالی معاونین اور نیٹ ورکس کی نشاندہی کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور ملک کے کسی بھی حصے میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز بھی جاری رکھے جائیں گے تاکہ دہشت گردوں کی باقی ماندہ موجودگی کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب، پاکستان ماضی میں متعدد بار یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ تشویش کا باعث ہے اور اس حوالے سے افغان حکام کے ساتھ اپنے تحفظات اور شواہد شیئر کرنے کا دعویٰ بھی کرتا رہا ہے، جبکہ افغانستان کی عبوری طالبان حکومت ایسے الزامات کی مختلف مواقع پر تردید کرتی رہی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سرچ سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت، برآمد ہونے والے سامان کے فرانزک معائنے اور نیٹ ورک سے متعلق مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایسی کارروائیاں آئندہ بھی انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر جاری رہیں گی۔



