بین الاقوامیاہم خبریں

بابری مسجد کے متبادل پانچ ایکڑ زمین پر مسجد کی تعمیر سات سال بعد بھی تعطل کا شکار

رام مندر مکمل، مگر دھنی پور میں مجوزہ مسجد کا منصوبہ فنڈز، اختلافات اور انتظامی رکاوٹوں میں الجھ گیا

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

ایودھیا: بھارتی سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے تحت بابری مسجد کے متبادل کے طور پر مسلمانوں کو دی جانے والی پانچ ایکڑ زمین پر مسجد کی تعمیر کا منصوبہ سات سال گزرنے کے باوجود عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ جہاں ایک جانب ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور اس میں مذہبی رسومات بھی شروع ہو چکی ہیں، وہیں دوسری جانب دھنی پور گاؤں میں مجوزہ مسجد کا منصوبہ اب بھی فنڈز کی کمی، انتظامی پیچیدگیوں، تکنیکی مسائل اور مسلم تنظیموں کے اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہے۔

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

بھارتی سپریم کورٹ نے نومبر 2019 میں بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازع پر اپنے تاریخی فیصلے میں ایودھیا کی 2.77 ایکڑ متنازع زمین ہندو فریق کے حوالے کرتے ہوئے وہاں رام مندر کی تعمیر کی اجازت دی تھی۔ ساتھ ہی عدالت نے ریاست اتر پردیش کی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ مسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کے لیے ایودھیا ضلع میں پانچ ایکڑ متبادل زمین فراہم کی جائے۔

اتر پردیش کی ریاستی حکومت نے 2020ء میں ایودھیا شہر سے تقریباً 25 کلومیٹر دور دھنی پور گاؤں میں مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ زمین مختص کی تھی
اتر پردیش کی ریاستی حکومت نے 2020ء میں ایودھیا شہر سے تقریباً 25 کلومیٹر دور دھنی پور گاؤں میں مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ زمین مختص کی تھی

عدالت کے فیصلے کے بعد بھارتی حکومت نے رام مندر کی تعمیر کے لیے شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ قائم کیا، جبکہ مسجد اور اس سے متعلق فلاحی منصوبوں کی نگرانی کے لیے انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن (IICF) تشکیل دی گئی۔

رام مندر مکمل، مسجد کا کام شروع نہ ہو سکا

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد رام مندر کی تعمیر تیزی سے مکمل کی گئی اور جنوری 2024 میں اس کا افتتاح بھی کر دیا گیا۔ تاہم مسجد کی تعمیر کے لیے مختص زمین پر سات سال گزرنے کے باوجود باقاعدہ تعمیراتی کام شروع نہیں ہو سکا۔

یہ صورتحال ملک کے مختلف حلقوں میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے، جہاں بعض افراد اسے انتظامی ناکامی قرار دیتے ہیں جبکہ دیگر کے مطابق اصل رکاوٹ مالی وسائل اور مسلم برادری کے اندر اختلافات ہیں۔

دھنی پور میں زمین کی الاٹمنٹ

اتر پردیش حکومت نے 2020 میں ایودھیا شہر سے تقریباً 25 کلومیٹر دور دھنی پور گاؤں میں پانچ ایکڑ زمین مسجد کی تعمیر کے لیے الاٹ کی تھی۔

اگرچہ یہ علاقہ ایودھیا ضلع میں شامل ہے، تاہم شہر سے اس کا کافی فاصلہ ہونے کی وجہ سے ابتدا ہی سے متعدد مسلم تنظیموں اور مقامی مسلمانوں نے اس فیصلے پر اعتراضات اٹھائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ کے حکم پر متبادل زمین دی جا رہی تھی تو وہ ایودھیا شہر کے اندر یا اس کے قریب ہونی چاہیے تھی تاکہ مقامی مسلمان آسانی سے وہاں عبادت کے لیے جا سکیں۔

فنڈز کی شدید کمی

انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن کے چیئرمین ظفر احمد فاروقی کے مطابق منصوبے کی سست روی کی سب سے بڑی وجہ مالی وسائل کی کمی ہے۔

ان کے مطابق:

ایودھیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے مسجد کے پہلے تعمیراتی نقشے کو مسترد کر دیا تھا
ایودھیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے مسجد کے پہلے تعمیراتی نقشے کو مسترد کر دیا تھا

"یہ ایسا معاملہ نہیں جس کے ساتھ عوامی جذبات اسی شدت سے وابستہ ہوں جیسے رام مندر کے منصوبے کے ساتھ تھے، اسی لیے مسجد کی تعمیر کے لیے مطلوبہ چندہ جمع نہیں ہو پا رہا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ متعدد مسلم تنظیمیں ابتدا ہی سے حکومت کی جانب سے دی گئی زمین قبول کرنے کی مخالف تھیں، جس کے باعث اس منصوبے کو وسیع پیمانے پر عوامی یا تنظیمی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔

ظفر فاروقی کا کہنا تھا کہ اگر اصل منصوبے کے مطابق تعمیر ممکن نہ ہوئی تو دستیاب وسائل کے مطابق کم از کم مسجد کی تعمیر ضرور کی جائے گی۔

مسلم تنظیموں کی مخالفت

بابری مسجد کے انہدام کے مقدمے میں ایک اہم فریق حاجی محبوب سمیت متعدد مسلم رہنماؤں نے ابتدا ہی سے اس منصوبے کی مخالفت کی تھی۔

ان کا مؤقف تھا کہ:

  • متبادل زمین بابری مسجد کی اصل جگہ سے بہت دور دی گئی۔
  • ایودھیا شہر کے مسلمانوں کے لیے وہاں جانا آسان نہیں ہوگا۔
  • حکومت کو شہر کے اندر زمین فراہم کرنی چاہیے تھی۔
  • اگر مناسب مقام دستیاب نہیں تھا تو زمین قبول ہی نہ کی جاتی۔

حاجی محبوب کے مطابق:

منہدم تاریخی بابری مسجد کی جگہ شاندار رام مندر بن چکا ہے

منہدم تاریخی بابری مسجد کی جگہ شاندار رام مندر بن چکا ہے”ہم پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ ہمیں متبادل زمین نہیں چاہیے تھی، اور اگر دینی ہی تھی تو ایودھیا شہر کے اندر دی جاتی۔”

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا موقف

جب اتر پردیش حکومت نے دھنی پور میں زمین دینے کا اعلان کیا تو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے متعدد اراکین نے بھی اس کی مخالفت کی۔

انہوں نے اتر پردیش سنی سینٹرل وقف بورڈ پر دباؤ ڈالا کہ حکومت کی پیشکش مسترد کر دی جائے۔

تاہم وقف بورڈ چونکہ ایک قانونی ادارہ ہے جو ریاستی قانون کے تحت کام کرتا ہے، اس لیے اس نے سپریم کورٹ کے فیصلے اور حکومت کی پیشکش کو قبول کر لیا۔

آج بھی کئی مسلم تنظیمیں یہ مؤقف اختیار کرتی ہیں کہ زمین قبول کرنے کا فیصلہ پوری مسلم برادری کا متفقہ فیصلہ نہیں تھا بلکہ صرف وقف بورڈ کا انتظامی اقدام تھا۔

مسجد کے ساتھ فلاحی منصوبے

دسمبر 2020 میں انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن نے ایک جامع ماسٹر پلان پیش کیا تھا۔

اس منصوبے کے مطابق پانچ ایکڑ زمین پر صرف مسجد ہی نہیں بلکہ متعدد سماجی اور فلاحی ادارے بھی تعمیر کیے جانے تھے، جن میں شامل تھے:

  • جدید مسجد
  • تقریباً 200 بستروں پر مشتمل ہسپتال
  • طبی تحقیق کا مرکز
  • اسلامی و تاریخی آرکائیو
  • میوزیم
  • لائبریری
  • کمیونٹی کچن
  • تعلیمی و تربیتی مراکز
  • سماجی خدمت کے مختلف منصوبے

فاؤنڈیشن نے اس منصوبے کو بین المذاہب ہم آہنگی، سماجی خدمت اور عوامی فلاح کا ایک ماڈل قرار دیا تھا۔

منصوبہ کیوں رکا؟

ذرائع کے مطابق منصوبے کی پیش رفت کئی وجوہات سے متاثر ہوئی، جن میں شامل ہیں:

  • ایودھیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ابتدائی نقشہ مسترد کیا جانا۔
  • نئے لے آؤٹ پلان کی منظوری میں تاخیر۔
  • زمین سے متعلق بعض تکنیکی مسائل۔
  • فنڈز کی شدید کمی۔
  • مسلم تنظیموں کے درمیان اتفاق رائے کا فقدان۔
  • منصوبے کے لیے مطلوبہ عوامی تعاون نہ ملنا۔

اطلاعات کے مطابق بعد میں دوسرا تعمیراتی پلان جمع کرایا گیا، تاہم وہ بھی مختلف انتظامی مراحل سے گزر رہا ہے اور ابھی تک باقاعدہ تعمیر شروع نہیں ہو سکی۔

موجودہ صورتحال

دھنی پور میں الاٹ کی گئی پانچ ایکڑ زمین پر اس وقت پہلے سے موجود ایک درگاہ کے علاوہ کوئی بڑی تعمیر موجود نہیں ہے۔ مسجد، ہسپتال، میوزیم، کمیونٹی سینٹر اور دیگر منصوبے تاحال کاغذوں تک محدود ہیں۔

دوسری جانب رام مندر مکمل ہونے کے بعد لاکھوں عقیدت مند وہاں حاضری دے رہے ہیں، جس کے باعث دونوں منصوبوں کی رفتار میں واضح فرق مزید نمایاں ہو گیا ہے۔

مستقبل کے امکانات

انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ وہ منصوبے سے دستبردار نہیں ہوئی اور جیسے ہی مطلوبہ وسائل اور تمام سرکاری منظوریوں کا عمل مکمل ہوگا، مسجد اور اس سے متعلق فلاحی منصوبوں پر کام شروع کر دیا جائے گا۔

تاہم موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے سات سال بعد بھی تعطل کا شکار یہ منصوبہ عملی طور پر کب تک مکمل ہو سکے گا۔

اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کو اخباری فرنٹ پیج اسٹائل، SEO نیوز آرٹیکل، یا یوٹیوب وائس اوور اسکرپٹ کی شکل میں بھی تیار کر سکتا ہوں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button