
گوردوارہ سنگھ سبھا، فاروق آباد سے متعلق خبروں کی تردید، عمارت محفوظ اور بحالی کا منصوبہ زیر غور: متروکہ وقف املاک بورڈ
ان نوٹسز کے باوجود بعض کرایہ داروں نے متعلقہ مجاز اتھارٹی سے پیشگی اجازت حاصل کیے بغیر ازخود تعمیرِ نو اور تبدیلی کا عمل شروع کر دیا
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، حکومتِ پاکستان کے تحت متروکہ وقف املاک بورڈ (ETPB) نے ضلع شیخوپورہ کے علاقے فاروق آباد (چورکنہ) میں واقع تاریخی گوردوارہ سنگھ سبھا سے متعلق سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع ابلاغ پر گردش کرنے والی مبینہ انہدام کی خبروں کی وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوردوارے کو منہدم نہیں کیا جا رہا، بلکہ جائیداد کو قانونی کارروائی کے بعد واگزار کروا کر مکمل طور پر محفوظ بنا دیا گیا ہے۔
بورڈ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی وضاحتی بیان کے مطابق سرکاری ریکارڈ میں یہ جائیداد متروکہ وقف املاک نمبر B-2-S6-23 کے نام سے درج ہے، جس کا کل رقبہ تقریباً آٹھ مرلے ہے۔ حکام کے مطابق یہ عمارت کئی دہائیوں سے مذہبی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہو رہی، جبکہ 1974ء سے مختلف افراد کے پاس کرایہ داری کی بنیاد پر موجود رہی اور اس عرصے کے دوران اسے رہائشی اور کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔
عمارت کی خستہ حالت پر میونسپل کمیٹی کے نوٹس
متروکہ وقف املاک بورڈ کے مطابق گوردوارے کی عمارت وقت گزرنے کے ساتھ انتہائی خستہ حال اور خطرناک ہو چکی تھی۔ اسی بنا پر میونسپل کمیٹی شیخوپورہ نے دونوں کرایہ داروں کو متعدد نوٹسز جاری کیے تاکہ انسانی جانوں کو کسی ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے اور قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان نوٹسز کے باوجود بعض کرایہ داروں نے متعلقہ مجاز اتھارٹی سے پیشگی اجازت حاصل کیے بغیر ازخود تعمیرِ نو اور تبدیلی کا عمل شروع کر دیا، جو سرکاری قوانین اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی تھی۔
قانونی کارروائی اور جائیداد واگزار
متروکہ وقف املاک بورڈ کے مطابق 24 جون 2026 کو اس غیر مجاز سرگرمی کی اطلاع ملنے پر شیخوپورہ میں بورڈ کے مقامی دفتر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ افراد کو شوکاز نوٹسز جاری کیے۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد 2 جولائی 2026 کو کرایہ داروں کی لیز منسوخ کر دی گئی اور انہیں بے دخل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
بعد ازاں متعلقہ حکام نے جائیداد کو اپنے قبضے میں لے کر عمارت کو سیل کر دیا تاکہ مزید کسی غیر قانونی سرگرمی یا نقصان سے بچایا جا سکے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ اس وقت نہ تو وہاں کسی قسم کی انہدامی کارروائی جاری ہے اور نہ ہی نئی تعمیر کی جا رہی ہے۔
سکھ برادری اور حکومتی نمائندوں کا دورہ
متروکہ وقف املاک بورڈ کے مطابق معاملے کی حساسیت کے پیش نظر سکھ برادری کے نمائندوں، حکومت پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور اور دیگر متعلقہ شخصیات نے بھی موقع کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں سرکاری ریکارڈ، قانونی کارروائی اور موجودہ صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر ضلعی انتظامیہ کو بھی مکمل طور پر اعتماد میں لیا گیا تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی یا ناخوشگوار صورتحال پیدا نہ ہو۔
تاریخی ورثے کی بحالی کا منصوبہ
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ متروکہ وقف املاک بورڈ تاریخی اور مذہبی ورثے کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت گوردوارہ سنگھ سبھا کی بحالی، مرمت اور تزئین و آرائش کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، جو قابلِ اطلاق قوانین، آثارِ قدیمہ کے اصولوں اور تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے تقاضوں کے مطابق ہوگا۔
بورڈ کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس تاریخی مقام کی اصل شناخت اور تاریخی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے محفوظ بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
وزارتِ مذہبی امور کو رپورٹ ارسال
متروکہ وقف املاک بورڈ نے بتایا کہ اس معاملے سے متعلق مکمل حقائق، قانونی کارروائی اور موجودہ صورتحال پر مبنی تفصیلی رپورٹ وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، حکومتِ پاکستان کو ارسال کر دی گئی ہے تاکہ تمام متعلقہ ادارے حقائق سے آگاہ رہیں اور کسی بھی غلط معلومات یا افواہوں کی بروقت تردید کی جا سکے۔
مذہبی ورثے کے تحفظ کے عزم کا اعادہ
اپنے بیان کے اختتام پر متروکہ وقف املاک بورڈ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس کے زیرِ انتظام تمام مذہبی، تاریخی اور ثقافتی ورثے کی املاک کا تحفظ، نگہداشت اور قانونی انتظام حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بورڈ نے واضح کیا کہ کسی بھی مذہبی یا تاریخی مقام پر غیر قانونی قبضے، غیر مجاز تعمیرات یا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے تمام معاملات میں قانون کے مطابق مؤثر کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
بورڈ نے عوام اور میڈیا سے بھی اپیل کی کہ اس نوعیت کے حساس معاملات میں غیر مصدقہ اطلاعات یا افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات کو ترجیح دی جائے تاکہ مذہبی ہم آہنگی، سماجی امن اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھا جا سکے۔



