
پہلگام حملہ: بھارت نے حافظ سعید کے خلاف نئی چارج شیٹ عدالت میں جمع کرا دی، پاکستان نے الزامات پر خاموشی اختیار کی
حافظ سعید 2020 سے پاکستان میں دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق مختلف مقدمات میں سزا یافتہ ہیں اور جیل میں قید ہیں۔
By Voice of Germany Urdu News Team
بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں گزشتہ برس ہونے والے دہشت گرد حملے کے سلسلے میں جماعت الدعوۃ کے بانی اور کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے مبینہ سربراہ حافظ سعید کے خلاف نئی چارج شیٹ (فردِ جرم) عدالت میں جمع کرا دی ہے۔ بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ حافظ سعید حملے کی منصوبہ بندی، معاونت اور مبینہ دہشت گرد نیٹ ورک کی سرپرستی میں ملوث تھے، جبکہ پاکستان اس سے قبل ایسے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر چکا ہے۔
این آئی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حافظ سعید پر انفرادی حیثیت کے ساتھ ساتھ لشکرِ طیبہ اور اس سے منسلک گروپ دی ریزسٹنس فرنٹ (TRF) کے مبینہ سربراہ کی حیثیت سے بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے کے مطابق ان پر دہشت گردی، مجرمانہ سازش، حملے کی منصوبہ بندی اور معاونت سے متعلق مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔
پہلگام حملہ کیا تھا؟
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے معروف سیاحتی مقام پہلگام میں گزشتہ سال ہونے والے دہشت گرد حملے میں 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر سیاح شامل تھے، جس کے باعث اس واقعے نے بھارت بھر میں شدید ردعمل کو جنم دیا۔
حملے کے فوری بعد بھارتی حکومت نے الزام عائد کیا کہ حملہ آوروں کے روابط پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں سے تھے اور انہیں سرحد پار سے معاونت حاصل تھی۔ دوسری جانب پاکستان نے ان الزامات کو "بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت نے اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا۔ اسلام آباد نے اس واقعے کی غیر جانبدار، آزاد اور شفاف بین الاقوامی تحقیقات کرانے کی بھی پیشکش کی تھی۔
پہلے بھی دائر کی جا چکی تھی چارج شیٹ
این آئی اے اس مقدمے میں دسمبر 2025 میں بھی ایک چارج شیٹ عدالت میں پیش کر چکی تھی، جس میں کالعدم لشکرِ طیبہ، اس کے مبینہ ذیلی گروپ دی ریزسٹنس فرنٹ اور چھ دیگر افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔
بھارتی حکام کے مطابق دی ریزسٹنس فرنٹ نے ابتدا میں حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، تاہم بعد ازاں اس دعوے سے انکار کر دیا۔ این آئی اے کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والے شواہد کی بنیاد پر حافظ سعید کو بھی مقدمے میں باضابطہ طور پر شامل کیا گیا ہے۔
حافظ سعید پہلے ہی پاکستان میں قید ہیں
حافظ سعید 2020 سے پاکستان میں دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق مختلف مقدمات میں سزا یافتہ ہیں اور جیل میں قید ہیں۔
بھارت انہیں 2008 کے ممبئی حملوں کا بھی مبینہ مرکزی ملزم قرار دیتا ہے، جن میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ حافظ سعید کے خلاف ملک کے اپنے قوانین کے تحت مقدمات چلائے گئے اور عدالتوں نے انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمات میں سزا سنائی۔
پاکستان کا سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا
بھارت کی جانب سے نئی چارج شیٹ دائر کیے جانے کے بعد پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ داخلہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
تاہم سلامتی امور کے ماہر اور اسلام آباد میں قائم صنوبر انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر قمر چیمہ کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ اقدام زیادہ تر سیاسی اور سفارتی مقاصد کے حصول کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا:
"ایک ایسا شخص جو پہلے ہی پاکستان میں قید ہے، اس کے خلاف نئی فردِ جرم عائد کرنے سے پاکستان کے خلاف کوئی نیا بین الاقوامی قانونی مقدمہ خودبخود قائم نہیں ہو جاتا۔”
ڈاکٹر قمر چیمہ کے مطابق پاکستان پہلے بھی پہلگام حملے سے متعلق بھارتی الزامات کے ثبوت طلب کر چکا ہے، لیکن بھارت نے اب تک ایسے شواہد پیش نہیں کیے جن کی بنیاد پر پاکستان کے ملوث ہونے کا دعویٰ ثابت کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ شاید اسی وجہ سے پاکستان نے اس نوعیت کے بھارتی اقدامات پر فوری سرکاری ردعمل دینا بھی کم کر دیا ہے، کیونکہ اسلام آباد پہلے ہی اپنا مؤقف متعدد بار واضح کر چکا ہے۔
علاقائی اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق پہلگام حملے کی تحقیقات اور اس سے متعلق قانونی کارروائیاں ایسے وقت میں جاری ہیں جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات پہلے ہی بداعتمادی کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی، کشمیر اور سرحدی سلامتی جیسے معاملات پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حافظ سعید کے خلاف نئی چارج شیٹ فوری طور پر خطے کی صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لائے گی، تاہم یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی بیانیے اور دہشت گردی سے متعلق الزامات کے سلسلے کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔
پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں، اس لیے خطے میں پائیدار امن کے لیے مؤثر سفارتی رابطے، شفاف تحقیقات اور باہمی اعتماد کی بحالی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔




