یورپتازہ ترین

یوکرین کا روس کے اندر 2,500 کلومیٹر دور تک بڑا ڈرون حملہ، سائبیریا کی اہم آئل ریفائنری کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

یہ حملہ ان دور ترین کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے جو یوکرین نے جنگ کے آغاز کے بعد روسی سرزمین کے اندر انجام دی ہیں۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By voice of Germany Urdu News Team

ماسکو/کییف: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں یوکرین نے روس کے مغربی سائبیریا میں واقع اومسک کے صنعتی علاقے پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے ہیں۔ روسی حکام کے مطابق یہ حملے ملک کے انتہائی اندرونی حصے میں کیے گئے، جبکہ یوکرینی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی کا ہدف روس کی سب سے بڑی آئل ریفائنریوں میں سے ایک تھی۔

روسی خطے اومسک کے گورنر ویٹالی خوتسینکو نے پیر کو بتایا کہ یوکرینی ڈرونز نے خطے کے "شمالی صنعتی مرکز” میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملوں کے بعد ہنگامی امدادی ٹیمیں متحرک ہیں اور نقصانات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ صورتحال پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ حملوں کے اثرات کا ازالہ کیا جا رہا ہے اور متعلقہ ادارے نقصانات کی تفصیلات جمع کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے فوری طور پر کسی جانی نقصان یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔

روس کے انتہائی اندر تک یوکرینی حملہ

اومسک روس کے مغربی سائبیریا کا ایک اہم صنعتی خطہ ہے جو قزاقستان کی سرحد کے قریب واقع ہے اور یوکرین کی سرحد سے تقریباً 2,500 سے 2,700 کلومیٹر دور ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اتنے طویل فاصلے پر یوکرینی ڈرون حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کییف نے اپنی طویل فاصلے تک مار کرنے والی ڈرون صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ حملہ ان دور ترین کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے جو یوکرین نے جنگ کے آغاز کے بعد روسی سرزمین کے اندر انجام دی ہیں۔

آئل ریفائنری کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

یوکرین کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ حملے کے دوران اومسک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا، جہاں حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔

بیان میں کہا گیا کہ آگ کی شدت اور ہونے والے نقصان کا درست اندازہ لگانے کی کوشش جاری ہے، تاہم کارروائی کا مقصد روس کے فوجی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا تھا۔

اومسک آئل ریفائنری روس کی سب سے بڑی تیل صاف کرنے والی تنصیبات میں شمار ہوتی ہے اور ملکی ایندھن کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ریفائنری روسی یوکرینی سرحد سے تقریباً 2,500 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

روسی حکام کی محتاط حکمت عملی

اگرچہ روسی حکام نے حملے کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے فوری طور پر ریفائنری میں آگ لگنے یا بڑے پیمانے پر نقصان کی تصدیق نہیں کی۔

گورنر ویٹالی خوتسینکو نے اپنے بیان میں محتاط الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال قابو میں ہے اور متعلقہ ادارے حملے کے اثرات ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

روس کی وزارت دفاع کی جانب سے بھی بعد ازاں فضائی دفاعی نظام کی کارروائیوں اور حملے کی نوعیت سے متعلق مزید معلومات جاری کیے جانے کی توقع ہے۔

توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑھتے حملے

گزشتہ کئی ماہ سے یوکرین روس کے اندر موجود آئل ریفائنریوں، ایندھن ذخیرہ گاہوں، فوجی ہوائی اڈوں اور دیگر اسٹریٹجک تنصیبات پر ڈرون حملے تیز کر چکا ہے۔

یوکرین کا مؤقف ہے کہ ان حملوں کا مقصد روس کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنا اور اس کی فوجی لاجسٹکس کو متاثر کرنا ہے، کیونکہ انہی تنصیبات سے روسی افواج کو ایندھن اور دیگر ضروری وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب روس ان حملوں کو اپنی قومی سلامتی پر حملہ قرار دیتے ہوئے یوکرین کے مختلف شہروں، توانائی کے مراکز اور فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

روس میں ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ

دفاعی اور توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر اومسک آئل ریفائنری کو نمایاں نقصان پہنچا ہے تو اس کے اثرات روس کی ایندھن سپلائی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

اس سے قبل بھی روس کے مختلف علاقوں میں واقع ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں کے بعد بعض علاقوں میں ایندھن کی قلت اور پیداوار میں عارضی کمی کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔

روس، جو رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، 11 مختلف ٹائم زونز پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں میں حملوں کے خلاف دفاعی انتظامات ایک بڑا چیلنج سمجھے جاتے ہیں۔

جنگ میں ڈرونز کا بڑھتا کردار

ماہرین کا کہنا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ڈرون ٹیکنالوجی فیصلہ کن اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ ابتدا میں زیادہ تر ڈرون حملے سرحدی علاقوں تک محدود تھے، لیکن اب دونوں ممالک ایک دوسرے کے اندر سینکڑوں بلکہ ہزاروں کلومیٹر دور تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔

یوکرین نے حالیہ مہینوں میں روس کے اندر تیل کی تنصیبات، اسلحہ ڈپو، فضائی اڈوں اور صنعتی مراکز کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اپنائی ہے، جبکہ روس مسلسل یوکرین کے بجلی گھروں، دفاعی صنعت، مواصلاتی نظام اور شہری انفراسٹرکچر پر حملے کر رہا ہے۔

علاقائی اور عالمی اثرات

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کی توانائی تنصیبات پر مسلسل حملے نہ صرف جنگی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں بلکہ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی بے یقینی پیدا کر سکتے ہیں۔

اگر روس کی تیل صاف کرنے کی صلاحیت مزید متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات ملکی ایندھن کی دستیابی، برآمدات اور عالمی تیل کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب یہ حملے اس بات کا بھی اشارہ ہیں کہ جنگ اب صرف محاذِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے اہم معاشی اور صنعتی مراکز کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے تنازع مزید پیچیدہ اور طویل ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button