یورپتازہ ترین

فرانس:مارین لے پین کو 2027 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی مشروط اجازت

مارین لے پین فرانسیسی سیاست میں عشروں سے جاری سیاسی تقسیم پیدا کرنے والے ایک متنازعہ سیاست دان ژاں ماری لے پین کی صاحبزادی ہیں جو گزشتہ سال چھیانوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے

https://vogurdunews.de/our-team/

By voice of Germany Urdu News Team

فرانس کی ایک اپیل عدالت نے منگل، 7 جولائی کو دائیں بازو کی مقبول رہنما مارین لے پین کو مالی خردبرد کا قصوروار قرار دیا، لیکن عوامی عہدہ رکھنے پر پابندی میں نرمی کر دی۔ تاہم عدالت نے حکم دیا ہے کہ سزا کے تحت لے پین کو گھر پر نگرانی کے دوران الیکٹرانک مانیٹرنگ بریسلیٹ پہننا ہو گا۔ یہ وہ شرط ہے جسے لے پین ماضی میں ناقابل قبول قرار دے چکی ہیں۔
اب یہ فیصلہ لے پین کو کرنا ہے کہ آیا وہ بریسلیٹ پہننے کی شرط قبول کرتے ہوئے انتخابی مہم چلائیں گی یا نہیں۔
لی پین پہلے ہی اس شرط کو ناقابل قبول قرار دے چکی ہیں۔
اس فیصلے کے بعد وہ  2027 کے صدارتی انتخاب میں امیدوار بن سکتی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ فیصلہفرانس کی سیاست میں اہم پیش رفت ہے، کیونکہ مارین لے پین  کو 2027 کے  صدارتی انتخابات کے ممکنہ مضبوط امیدواروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم الیکٹرانک بریسلیٹ کی شرط ان کی انتخابی مہم اور عوامی تاثر پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

 پیرس کورٹ ہاؤس کا بیرونی منظر
عدالت نے حکم دیا ہے کہ سزا کے تحت لے پین کو گھر پر نگرانی کے دوران الیکٹرانک مانیٹرنگ بریسلیٹ پہننا ہو گاتصویر: Tom Nicholson/REUTERS

اس فیصلے کے بعد فرانسیسی سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا مارین لے پین   انتخابات میں حصہ لینے کے لیے عدالتی شرائط قبول کریں گی یا کسی قانونی راستے سے اس شرط کو چیلنج کرنے کی کوشش کریں گی۔

یاد رہے کہ مارین لے پین فرانسیسی سیاست میں عشروں سے جاری سیاسی تقسیم پیدا کرنے والے ایک متنازعہ سیاست دان ژاں ماری لے پین کی صاحبزادی ہیں جو گزشتہ سال چھیانوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
انہوں نے اپنی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت نیشنل فرنٹ کے قیام کے ساتھ اتنی  مقبولیت حاصل کر لی تھی کہ اپنے سیاسی کیریئر کے عروج پر 2002ء کے فرانسیسی صدارتی الیکشن میں تو وہ ژاک شیراک کے خلاف دوسرے مرحلے کی انتخابی رائے دہی میں صدارتی امیدوار بھی بن گئے تھے۔ وہ صرف تارکین وطن اور کثیر الثقافتی معاشرتی پہچان کے خلاف ہی نہیں تھے، بلکہ وہ ایک سز ایافتہ سامیت دشمن بھی تھے۔

مارین لے پین کے والد ژاں ماری لے پین ایک متنازعہ سیاستدان تھے جن کے خلاف 2002 میں ہونے والا ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ
ژاں ماری لے پین صرف تارکین وطن اور کثیر الثقافتی معاشرتی پہچان کے خلاف ہی نہیں تھے، بلکہ وہ ایک سز ایافتہ سامیت دشمن بھی تھےتصویر: dpa/picture alliance

وہ دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمن دور میں یہودیوں کے قتل عام یا ہولوکاسٹ کے بھی انکاری تھے۔ اس وجہ سے انہیں کئی مرتبہ سزائیں بھی سنائی گئی تھیں اور ان کے مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ بنائے گئے اتحاد بھی اسی لیے ہمیشہ دباؤ اور کشیدگی کا شکار ہی رہتے تھے۔
مارین لے پین نے جب اپنے والد ژاں ماری لے پین کی جانشین کے طور پر نیشنل فرنٹ کی  قیادت سنبھالی تھی، تو اس کے بعد دونوں کے سیاسی تعلقات خراب تر ہو گئے تھے۔ اس کے بعد مارین لے پین نے ایک سیاسی جماعت کے طور پر نہ صرف نیشنل فرنٹ کا نام بدل دیا تھا بلکہ ساتھ ہی اپنے والد کو ان کی انتہا پسندانہ ساکھ کے باعث پارٹی سے نکال بھی دیا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button