
By voice of Germany Urdu News Team
فرانس کی ایک اپیل عدالت نے منگل، 7 جولائی کو دائیں بازو کی مقبول رہنما مارین لے پین کو مالی خردبرد کا قصوروار قرار دیا، لیکن عوامی عہدہ رکھنے پر پابندی میں نرمی کر دی۔ تاہم عدالت نے حکم دیا ہے کہ سزا کے تحت لے پین کو گھر پر نگرانی کے دوران الیکٹرانک مانیٹرنگ بریسلیٹ پہننا ہو گا۔ یہ وہ شرط ہے جسے لے پین ماضی میں ناقابل قبول قرار دے چکی ہیں۔
اب یہ فیصلہ لے پین کو کرنا ہے کہ آیا وہ بریسلیٹ پہننے کی شرط قبول کرتے ہوئے انتخابی مہم چلائیں گی یا نہیں۔
لی پین پہلے ہی اس شرط کو ناقابل قبول قرار دے چکی ہیں۔
اس فیصلے کے بعد وہ 2027 کے صدارتی انتخاب میں امیدوار بن سکتی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ فیصلہفرانس کی سیاست میں اہم پیش رفت ہے، کیونکہ مارین لے پین کو 2027 کے صدارتی انتخابات کے ممکنہ مضبوط امیدواروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم الیکٹرانک بریسلیٹ کی شرط ان کی انتخابی مہم اور عوامی تاثر پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

اس فیصلے کے بعد فرانسیسی سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا مارین لے پین انتخابات میں حصہ لینے کے لیے عدالتی شرائط قبول کریں گی یا کسی قانونی راستے سے اس شرط کو چیلنج کرنے کی کوشش کریں گی۔
یاد رہے کہ مارین لے پین فرانسیسی سیاست میں عشروں سے جاری سیاسی تقسیم پیدا کرنے والے ایک متنازعہ سیاست دان ژاں ماری لے پین کی صاحبزادی ہیں جو گزشتہ سال چھیانوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
انہوں نے اپنی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت نیشنل فرنٹ کے قیام کے ساتھ اتنی مقبولیت حاصل کر لی تھی کہ اپنے سیاسی کیریئر کے عروج پر 2002ء کے فرانسیسی صدارتی الیکشن میں تو وہ ژاک شیراک کے خلاف دوسرے مرحلے کی انتخابی رائے دہی میں صدارتی امیدوار بھی بن گئے تھے۔ وہ صرف تارکین وطن اور کثیر الثقافتی معاشرتی پہچان کے خلاف ہی نہیں تھے، بلکہ وہ ایک سز ایافتہ سامیت دشمن بھی تھے۔

وہ دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمن دور میں یہودیوں کے قتل عام یا ہولوکاسٹ کے بھی انکاری تھے۔ اس وجہ سے انہیں کئی مرتبہ سزائیں بھی سنائی گئی تھیں اور ان کے مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ بنائے گئے اتحاد بھی اسی لیے ہمیشہ دباؤ اور کشیدگی کا شکار ہی رہتے تھے۔
مارین لے پین نے جب اپنے والد ژاں ماری لے پین کی جانشین کے طور پر نیشنل فرنٹ کی قیادت سنبھالی تھی، تو اس کے بعد دونوں کے سیاسی تعلقات خراب تر ہو گئے تھے۔ اس کے بعد مارین لے پین نے ایک سیاسی جماعت کے طور پر نہ صرف نیشنل فرنٹ کا نام بدل دیا تھا بلکہ ساتھ ہی اپنے والد کو ان کی انتہا پسندانہ ساکھ کے باعث پارٹی سے نکال بھی دیا تھا۔




