کاروباراہم خبریں

جرمنی کا توانائی کے تحفظ کے لیے بڑا فیصلہ، ہنگامی گیس ذخائر قائم کرنے کا منصوبہ، اربوں یورو کی سرمایہ کاری متوقع

حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد توانائی کے شعبے کو زیادہ لچکدار اور محفوظ بنانا ہے تاکہ بحران کے دوران معیشت اور عوام کو کم سے کم نقصان پہنچے۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

برلن: یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی نے توانائی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ریاستی سطح پر ہنگامی گیس ذخائر (Strategic Gas Reserves) قائم کرنے کا ایک بڑا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً 24 ٹیرا واٹ گھنٹے (TWh) گیس محفوظ کی جائے گی، جو ملک کی مجموعی گیس ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہے۔ ان ذخائر کا استعمال صرف قومی سطح کے ہنگامی حالات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے یا عالمی سطح پر گیس کی شدید قلت کی صورت میں کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جرمن وزارتِ اقتصادیات نے اس منصوبے کو توانائی کے شعبے میں ایک اسٹریٹیجک اقدام قرار دیا ہے، جس کا مقصد مستقبل میں کسی بھی ممکنہ بحران کے دوران ملک کی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا اور معیشت کو بڑے جھٹکوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

روس۔یوکرین جنگ کے بعد نئی حکمت عملی

جرمنی نے توانائی کے شعبے میں یہ بڑی تبدیلی روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے تناظر میں متعارف کرائی ہے۔ روس کی جانب سے یوکرین پر فوجی کارروائی کے بعد یورپ کو قدرتی گیس کی فراہمی شدید متاثر ہوئی تھی، کیونکہ کئی یورپی ممالک، خصوصاً جرمنی، اپنی گیس کی ضروریات کے لیے طویل عرصے تک روس پر انحصار کرتے رہے تھے۔

اس بحران نے نہ صرف یورپ میں توانائی کی قیمتوں کو ریکارڈ سطح تک پہنچا دیا بلکہ صنعتوں، بجلی گھروں اور گھریلو صارفین کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی تجربے کے بعد جرمنی نے فیصلہ کیا کہ مستقبل میں کسی بھی جغرافیائی یا سیاسی بحران کی صورت میں توانائی کی فراہمی متاثر نہ ہونے دی جائے۔

24 ٹیرا واٹ گھنٹے گیس محفوظ کی جائے گی

وزارت اقتصادیات کے مطابق نئے اسٹریٹیجک ذخائر میں تقریباً 24 ٹیرا واٹ گھنٹے قدرتی گیس محفوظ کی جائے گی، جو جرمنی کی مجموعی گیس اسٹوریج صلاحیت کا تقریباً دس فیصد بنتی ہے۔

یہ ذخائر عام تجارتی استعمال کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے بلکہ انہیں صرف غیر معمولی ہنگامی حالات میں استعمال کیا جائے گا، جن میں شامل ہیں:

  • توانائی کے اہم انفراسٹرکچر پر دہشت گردانہ یا فوجی حملہ۔
  • بین الاقوامی سطح پر قدرتی گیس کی شدید قلت۔
  • بیرونی سپلائی چین میں اچانک تعطل۔
  • قدرتی آفات یا دیگر ایسے حالات جن سے ملک میں گیس کی ترسیل خطرے میں پڑ جائے۔

حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد توانائی کے شعبے کو زیادہ لچکدار اور محفوظ بنانا ہے تاکہ بحران کے دوران معیشت اور عوام کو کم سے کم نقصان پہنچے۔

گیس مرحلہ وار خریدی جائے گی

جرمن حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان ذخائر کے لیے درکار گیس ایک ہی وقت میں خریدنے کے بجائے دو سے تین برس کے دوران مختلف مراحل میں حاصل کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق اس حکمت عملی سے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کم ہوں گے اور حکومت کو کم قیمتوں کے دوران گیس خریدنے کا موقع ملے گا، جس سے قومی خزانے پر مالی دباؤ بھی محدود رہے گا۔

اس منصوبے کے تحت گیس کی خریداری کے ابتدائی آرڈر رواں سال موسم سرما میں جاری کیے جائیں گے، جبکہ نئے ذخائر کو بھرنے کا باقاعدہ عمل 2027ء کے موسم گرما سے شروع ہوگا۔

اربوں یورو کی سرمایہ کاری

روئٹرز کے مطابق منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ابتدائی طور پر 1.2 ارب سے 1.5 ارب یورو (تقریباً 1.4 ارب سے 1.7 ارب امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

یہ سرمایہ درج ذیل کاموں پر خرچ کیا جائے گا:

  • نئی گیس ذخیرہ گاہوں کی تیاری۔
  • عالمی منڈی سے قدرتی گیس کی خریداری۔
  • گیس کو محفوظ اسٹوریج تنصیبات تک منتقل کرنا۔
  • ذخائر کی نگرانی اور انتظامی نظام کی ترقی۔

اس کے علاوہ منصوبے کی سالانہ آپریشنل لاگت 150 ملین سے 180 ملین یورو کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس میں ذخیرہ گاہوں کی دیکھ بھال، تکنیکی نگرانی اور دیگر انتظامی اخراجات شامل ہوں گے۔

مالی وسائل کہاں سے آئیں گے؟

جرمن وزارت اقتصادیات کے مطابق اس منصوبے کے لیے درکار مالی وسائل گیس استعمال کرنے والے صارفین پر عائد کی جانے والی ایک خصوصی ڈیوٹی کے ذریعے جمع کیے جائیں گے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ اگرچہ اس سے صارفین پر معمولی اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے، لیکن اس کے بدلے میں مستقبل میں توانائی کے بڑے بحرانوں سے بچاؤ ممکن ہوگا، جو قومی معیشت کے لیے کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

یورپی توانائی پالیسی میں اہم پیش رفت

تجزیہ کاروں کے مطابق جرمنی کا یہ منصوبہ صرف ایک قومی اقدام نہیں بلکہ یورپی توانائی پالیسی میں بھی ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

روس پر انحصار کم کرنے کے بعد یورپی ممالک متبادل ذرائع سے قدرتی گیس درآمد کرنے، مائع قدرتی گیس (LNG) کے ٹرمینلز بنانے، قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری بڑھانے اور توانائی کے اسٹریٹیجک ذخائر قائم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔

جرمنی پہلے ہی ناروے، امریکہ، قطر اور دیگر ممالک سے گیس کی درآمد بڑھا چکا ہے، جبکہ ایل این جی ٹرمینلز کی تعمیر بھی تیزی سے جاری ہے۔

ماہرین کی رائے

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹریٹیجک گیس ذخائر کسی بھی جدید معیشت کے لیے قومی سلامتی کا حصہ بن چکے ہیں۔

ان کے مطابق:

  • عالمی جغرافیائی کشیدگی کے باعث توانائی کی سپلائی غیر یقینی ہو چکی ہے۔
  • توانائی کے ذخائر صنعتوں، اسپتالوں، بجلی گھروں اور گھریلو صارفین کو بحران کے دوران مسلسل سپلائی فراہم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
  • حکومت کے پاس بحران کے دوران فوری ردعمل دینے کے لیے اضافی وسائل موجود ہوتے ہیں۔

البتہ بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں گیس کی قیمتیں مسلسل بلند رہیں تو اس منصوبے کی لاگت موجودہ تخمینوں سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

اگست میں کابینہ کی منظوری متوقع

ذرائع کے مطابق جرمن وفاقی کابینہ آئندہ اگست کے وسط میں اس منصوبے کی باضابطہ منظوری دے سکتی ہے۔

منظوری کے بعد گیس ذخیرہ گاہوں کی تعمیر، خریداری کے معاہدوں اور مالیاتی انتظامات پر عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا تاکہ 2027ء تک اس منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل کیا جا سکے۔

مستقبل کی توانائی حکمت عملی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جرمنی کا یہ منصوبہ اس بات کی علامت ہے کہ یورپی ممالک اب توانائی کو صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کے ایک بنیادی ستون کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اگر منصوبہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو جرمنی مستقبل میں کسی بھی عالمی توانائی بحران، جنگ یا سپلائی میں تعطل کی صورت میں اپنے شہریوں، صنعتوں اور معیشت کو زیادہ مؤثر انداز میں محفوظ رکھنے کی پوزیشن میں ہوگا۔ اس اقدام سے نہ صرف جرمنی کی توانائی کی خودمختاری مضبوط ہوگی بلکہ یورپی یونین کی مجموعی توانائی سکیورٹی کو بھی تقویت ملنے کی توقع ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button