
دمشق میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کے ہوٹل کے قریب دھماکے، سخت سکیورٹی کے باوجود دورہ جاری؛ شامی صدر احمد الشرع سے اہم ملاقات
تاحال دھماکوں کی نوعیت، ان کے ذمہ دار عناصر یا کسی ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
By Voice of Germany Urdu News Team
دمشق: شام کے دارالحکومت دمشق میں منگل کے روز اس ہوٹل کے قریب متعدد دھماکے ہوئے جہاں فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں اپنے سرکاری دورے کے دوران قیام پذیر تھے۔ دھماکوں کے بعد شہر کے حساس علاقوں میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی، متعدد سڑکیں بند کر دی گئیں اور شامی سکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقے کا محاصرہ کر لیا۔ تاہم فرانسیسی ایوانِ صدر (ایلیزے) نے واضح کیا ہے کہ صدر میکخواں محفوظ ہیں، انہوں نے دھماکوں کی آواز نہیں سنی اور اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات بھی کی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب شام نئی سیاسی قیادت کے تحت بین الاقوامی سطح پر اپنے تعلقات بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ملک اب بھی سنگین سکیورٹی خطرات، مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور خانہ جنگی کے اثرات سے مکمل طور پر نہیں نکل سکا۔
دھماکے ہوٹل کے قریب، علاقے میں خوف و ہراس
روئٹرز کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ صبح کے وقت یکے بعد دیگرے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد علاقے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ دھماکوں کے فوراً بعد سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شہریوں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق احتیاطی تدابیر کے طور پر ہوٹل اور اس کے اطراف کی تمام اہم شاہراہوں کو بند کر دیا گیا، جبکہ بم ڈسپوزل یونٹس اور ہنگامی امدادی ٹیموں کو بھی موقع پر طلب کر لیا گیا۔
تاحال دھماکوں کی نوعیت، ان کے ذمہ دار عناصر یا کسی ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ایلیزے کا بیان: صدر محفوظ، پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں
فرانسیسی صدارتی دفتر ایلیزے نے اپنے بیان میں کہا کہ دھماکوں کے باوجود صدر ایمانوئل میکخواں مکمل طور پر محفوظ رہے۔
بیان میں کہا گیا کہ:
- صدارتی قافلے نے دھماکوں کی آواز نہیں سنی۔
- صدر کے سرکاری پروگرام میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔
- دورے کی تمام سفارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔
روئٹرز کے ساتھ موجود صحافی نے بھی بتایا کہ صبح کی سرگرمیوں کے دوران نہ تو کوئی غیر معمولی صورتحال دیکھی گئی اور نہ ہی صدارتی وفد کو کسی قسم کی سکیورٹی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
میکخواں اور احمد الشرع کی اہم ملاقات
دھماکوں کے کچھ ہی دیر بعد شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اطلاع دی کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں اور شامی صدر احمد الشرع کے درمیان صدارتی محل میں اہم ملاقات ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے مبینہ طور پر شام کی سیاسی صورتحال، تعمیر نو، یورپ اور شام کے تعلقات، علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی اور اقتصادی تعاون سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اگرچہ ملاقات کی مکمل تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں، تاہم سفارتی حلقے اسے شام اور یورپی یونین کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
تاریخی اہمیت کا حامل دورہ
صدر ایمانوئل میکخواں، 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام کا دورہ کرنے والے یورپی یونین کے پہلے سربراہِ مملکت ہیں۔
ان کا یہ دورہ اس اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ شام میں گزشتہ برس آنے والی سیاسی تبدیلیوں کے بعد مغربی ممالک بتدریج نئی قیادت کے ساتھ روابط استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ شام کی نئی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر سیاسی قبولیت دلانے کی کوششوں کا حصہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔
بشار الاسد کے بعد نئی سیاسی حقیقت
2024 میں باغی اتحاد کی کامیابی کے بعد صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور احمد الشرع نے نئی عبوری قیادت سنبھالی۔
احمد الشرع، جو ماضی میں القاعدہ سے وابستہ ایک اہم کمانڈر رہ چکے ہیں، اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی سیاسی شناخت کو تبدیل کرتے ہوئے شام کے لیے ایک جامع اور شمولیتی سیاسی نظام قائم کرنے کے وعدے کر چکے ہیں۔
انہوں نے متعدد مغربی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ سفارتی روابط میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے، خصوصاً ان ریاستوں کے ساتھ جو بشار الاسد کی حکومت سے فاصلے پر رہی تھیں۔
تعمیر نو سب سے بڑا چیلنج
13 سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی خانہ جنگی نے شام کے بنیادی ڈھانچے، معیشت، صحت، تعلیم اور صنعتی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا۔
اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں کے اندازوں کے مطابق شام کی تعمیر نو کے لیے سینکڑوں ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
احمد الشرع حکومت اس وقت بین الاقوامی سرمایہ کاری، انسانی امداد اور سفارتی تعاون کے ذریعے ملک کی بحالی کی کوششوں میں مصروف ہے۔
سکیورٹی صورتحال اب بھی نازک
اگرچہ شام میں بڑے پیمانے پر جنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے، تاہم ملک کے مختلف حصوں میں سکیورٹی خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
داعش سمیت متعدد شدت پسند تنظیموں کے باقی ماندہ نیٹ ورکس اب بھی مختلف علاقوں میں سرگرم ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں مسلح گروہوں اور مقامی ملیشیاؤں کے درمیان جھڑپیں وقفے وقفے سے جاری رہتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دمشق میں ہونے والے حالیہ دھماکے اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ نئی حکومت کو سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ داخلی سلامتی کے محاذ پر بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
اقلیتوں کے تحفظ کا امتحان
احمد الشرع نے اقتدار سنبھالنے کے بعد وعدہ کیا تھا کہ شام میں مذہبی، نسلی اور سیاسی تنوع کو احترام دیا جائے گا اور تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق پر مبنی نظام قائم کیا جائے گا۔
تاہم گزشتہ برس حکومت نواز فورسز اور بعض مذہبی و نسلی اقلیتی گروہوں کے درمیان ہونے والی خونریز جھڑپوں، جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے، نے اس وعدے پر سوالات بھی کھڑے کیے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل حکومت پر زور دے رہی ہیں کہ وہ تمام شہریوں کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور سیاسی مفاہمت کو یقینی بنائے۔
عالمی برادری کی نظریں دمشق پر
تجزیہ کاروں کے مطابق فرانسیسی صدر کا دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یورپی ممالک شام کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ شام کی نئی حکومت کو عالمی برادری کا مکمل اعتماد حاصل کرنے کے لیے دہشت گردی کے خاتمے، انسانی حقوق کے تحفظ، سیاسی اصلاحات اور قومی مفاہمت کے میدان میں مزید ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔
دمشق میں صدر میکخواں کے قیام کے دوران ہونے والے دھماکوں نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اگرچہ شام ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہو چکا ہے، لیکن ملک کو مکمل استحکام، امن اور بحالی کی منزل تک پہنچنے کے لیے ابھی ایک طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کا بی بی سی اردو یا ڈوئچے ویلے (DW) طرز پر مزید گہرائی کے ساتھ 1800–2200 الفاظ پر مشتمل فیچر بھی تیار کر سکتا ہوں۔




