پاکستاناہم خبریں

بحیرہ عرب میں بڑا فضائی حادثہ: پاکستان نیوی اور PMSA نے 12 گھنٹے کے طویل آپریشن کے بعد لاپتہ کارگو طیارے K2 Airways B737 کا ملبہ تلاش کر لیا

طیارے میں عملے کے 5 ارکان سوار تھے، جن میں دو پائلٹ، دو انجینئرز اور ایک سپورٹ اسٹاف شامل تھا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

بحیرہ عرب میں گزشتہ رات گر کر تباہ ہونے والے نجی ایئر لائن ‘کے ٹو ایئرویز’ (K2 Airways) کے بوئنگ 737 کارگو طیارے کا ملبہ کامیابی سے تلاش کر لیا گیا ہے۔ پاکستان نیوی (PN) اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (PMSA) نے انتہائی نامساعد حالات میں گہرے سمندر میں 12 گھنٹے طویل اور وسیع سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے بعد ملبے کی نہ صرف نشاندہی کی بلکہ اس کی تصدیق بھی کر دی ہے۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) کے مطابق، طیارے کا ملبہ بلوچستان کے ساحلی قصبے اورمارا کے ساحل سے 53 ناٹیکل میل (NM) جنوب میں گہرے پانیوں سے برآمد ہوا ہے۔

حادثے کا پس منظر اور آخری لمحات

کے ٹو ایئرویز کی پرواز 1732 (Boeing 737-400BDSF) متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے سامان لے کر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ طیارے میں عملے کے 5 ارکان سوار تھے، جن میں دو پائلٹ، دو انجینئرز اور ایک سپورٹ اسٹاف شامل تھا۔

فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا اور ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق حادثے کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:

  • رات 9:18 بجے: پائلٹ نے کراچی ایئر ٹریفک کنٹرول (ATC) سے رابطہ کیا اور طیارے کے نیوی گیشن سسٹم (راستہ دکھانے والے نظام) میں خرابی کی اطلاع دی۔

  • رات 9:21 بجے: محض تین منٹ بعد، ایئر ٹریفک کنٹرول کا طیارے سے ریڈیو اور راڈار رابطہ اچانک منقطع ہو گیا۔ رابطہ ٹوٹنے سے قبل پائلٹ کا آخری جملہ "rolling or floating, 1732” ریکارڈ کیا گیا۔

  • راڈار ڈیٹا کی تفصیل: فلائٹ راڈار کے مطابق، طیارہ 36,550 فٹ کی بلندی پر اڑان بھر رہا تھا جب وہ اچانک ایک منٹ میں 5,000 فٹ نیچے گرا، جس کے بعد اگلے 30 سیکنڈز میں اس نے دوبارہ 6,000 فٹ کی غیر معمولی چڑھائی کی اور پھر خطرناک حد تک سیدھا نیچے (Stall) بحیرہ عرب میں جا گرا۔ آخری سگنل کے وقت طیارہ 22,400 فٹ فی منٹ کی تباہ کن رفتار سے نیچے گر رہا تھا۔

نیوی اور پی ایم ایس اے کا مشترکہ گرینڈ آپریشن

طیارے کے لاپتہ ہوتے ہی ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر کو فعال کیا گیا اور پاکستان نیوی کے فلیش شپ فریگیٹ PNS ذوالفقار کو فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف موڑ دیا گیا۔

آپریشن کی اہم تفصیلاتوضاحتی معلومات
کل دورانیہ12 گھنٹے مسلسل سرچ آپریشن
برآمدگی کا مقاماورمارا پورٹ سے 53 ناٹیکل میل جنوب (بحیرہ عرب)
فضائی اثاثےپاک فضائیہ کا Saab 2000 Erieye اور پاک بحریہ کا ATR-72 طیارہ
عملے کی تعداد5 ارکان (ابھی تک لاپتہ، تلاش جاری ہے)

طیارے کا ملبہ تلاش کرنے کے لیے سمندری جہازوں کے ساتھ ساتھ جدید فضائی اثاثوں کا استعمال کیا گیا، جنہوں نے سمندر کی سطح پر تیرتے ہوئے ملبے کی نشاندہی کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

لاپتہ عملے کی تلاش اور اگلا لائحہ عمل

اگرچہ پاکستان نیوی اور PMSA نے گہرے سمندر میں کارگو طیارے کے ڈھانچے (ملبے) کو کامیابی سے ڈھونڈ نکالا ہے، تاہم عملے کے 5 ارکان کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ ریسکیو ٹیموں کی تمام تر توجہ اب عملے کے ارکان کی تلاش اور طیارے کے بلیک باکس (فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر) کو نکالنے پر مرکوز ہے تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا سائنسی بنیادوں پر تعین کیا جا سکے۔

حکومتی ردعمل: وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نے تمام متعلقہ اداروں بشمول سول ایوی ایشن اور پاک بحریہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ریسکیو آپریشن کی رفتار کو تیز کریں اور عملے کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں۔

کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ نے بھی واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تحقیقاتی اداروں اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ جیسے ہی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مزید آگے بڑھے گا، مزید تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button