
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
کوئٹہ: بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ مہلک حملوں اور بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو کوئٹہ کا ہنگامی دورہ کیا، جہاں انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، وفاقی وزراء، عسکری قیادت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ ایک اہم سکیورٹی اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات، جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشنز، سرحدی سکیورٹی، انٹیلی جنس تعاون اور صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ منطقی انجام تک پہنچائے گا اور ملک سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
بلوچستان میں حالیہ حملوں نے سکیورٹی خدشات بڑھا دیے
رواں ہفتے بلوچستان میں دہشت گردی کے متعدد واقعات میں کم از کم 42 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں اکثریت سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کی تھی۔
ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی، جس کے بعد صوبے بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی اور حساس علاقوں میں فوج، فرنٹیئر کور، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ سرچ اور کلیئرنس آپریشنز کا آغاز کر دیا۔
زیارت حملہ، سب سے خونریز واقعہ
رواں ہفتے کا سب سے بڑا حملہ ضلع زیارت میں پیش آیا، جہاں مسلح دہشت گردوں نے ایک پولیس چوکی پر حملہ کر دیا۔
حکام کے مطابق حملے میں 9 پولیس اہلکار موقع پر شہید ہوگئے، جبکہ حملہ آور 18 اہلکاروں کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔
بعد ازاں سکیورٹی اداروں نے تصدیق کی کہ اغوا کیے گئے تمام اہلکاروں کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا، جس کے بعد شہداء کی مجموعی تعداد 27 تک پہنچ گئی۔
اس افسوسناک واقعے نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔
شہداء کے لواحقین کا احتجاج
واقعے کے بعد شہید پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب نے کوئٹہ میں لاشوں کے ہمراہ احتجاجی دھرنا دیا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کیا جائے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور شہداء کے خاندانوں کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے قبل شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات کی، ان سے اظہار تعزیت کیا اور یقین دہانی کرائی کہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وزیراعظم کا دوٹوک مؤقف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گرد پاکستان کے امن، ترقی اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، تاہم پوری قوم اپنی مسلح افواج اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا:
"پاکستان سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت سے جاری رہے گی۔”
انہوں نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں ملک کے امن کی بنیاد ہیں اور پوری قوم انہیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔
بھارت پر سنگین الزامات
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بھارت کا نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ پاکستان کا مشرقی ہمسایہ ملک بلوچستان میں بدامنی پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ان کے مطابق دہشت گرد گروہوں کو اسلحہ، مالی معاونت، تربیت، انٹیلی جنس معلومات اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دشمن عناصر بلوچستان کی ترقی، خصوصاً سی پیک اور دیگر قومی منصوبوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ریاست ان عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
افغانستان کی سرزمین استعمال ہونے کا دعویٰ
وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دہشت گرد افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بارہا افغان حکام سے مطالبہ کر چکا ہے کہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔
تاہم کابل اور نئی دہلی کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ دونوں ممالک ماضی میں ایسے الزامات کی مسلسل تردید کرتے رہے ہیں۔
سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیاں
حکام کے مطابق پیر سے جاری مشترکہ سکیورٹی آپریشنز کے دوران اب تک کم از کم 54 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔
فوج، فرنٹیئر کور، پولیس اور دیگر ادارے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق متعدد دہشت گرد ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں جبکہ اسلحہ، گولہ بارود، مواصلاتی آلات اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
بلوچستان کیوں حساس ہے؟
رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان قدرتی وسائل، معدنی ذخائر، ساحلی پٹی اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی وجہ سے انتہائی تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم یہ صوبہ کئی دہائیوں سے علیحدگی پسند تنظیموں، دہشت گرد گروہوں اور شدت پسند عناصر کی سرگرمیوں کا مرکز بھی رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت دیگر مسلح گروہوں نے سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات، مواصلاتی نظام اور ترقیاتی منصوبوں کو متعدد بار نشانہ بنایا ہے۔
ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں میں اضافہ
سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ سرحد پار موجود بعض دہشت گرد گروہ پاکستانی علاقوں میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، جس کے باعث سرحدی سکیورٹی مزید اہم ہو گئی ہے۔
قومی سلامتی اولین ترجیح
اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت، بلوچستان حکومت، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن کا قیام، عوام کا تحفظ، ترقیاتی منصوبوں کی حفاظت اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے، اور پاکستان کے دشمن عناصر کو ہر محاذ پر شکست دی جائے گی۔



