
ایردوآن کا عالمی رہنماؤں کو منفرد تحفہ: ریوالور اور گولیاں
ترکی کا مقصد اپنے دفاعی شعبے اور اسلحہ سازی کی صنعت کی تشہیر کرنا تھا، جو حالیہ برسوں میں ملکی برآمدات اور خارجہ پالیسی کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔
روئٹرز کے ساتھ
رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز انقرہ میں منعقدہ نیٹو کے سربراہی اجلاس کے اختتام پر میزبان ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے تمام شریک عالمی رہنماؤں کو رخصت کرتے ہوئے تحفے کے طور پر ایک قدیم طرز کا ریوالور پیش کیا۔ اس کے ساتھ اصلی گولیاں بھی دی گئیں، جس سے ظاہر ہوا کہ یہ صرف نمائشی تحفہ نہیں بلکہ مکمل اسلحہ تھا۔
خصوصی ڈسپلے باکس میں رکھا ہوا یہ ہتھیار ‘گوموشائے .357 میگنم‘ ریوالور تھا۔ لیکن ایردوآن کے اس منفرد تحفے نے کئی ممالک میں قانونی اور سکیورٹی سے متعلق سوالات بھی کھڑے کر دیے۔
ترکی کا مقصد اپنے دفاعی شعبے اور اسلحہ سازی کی صنعت کی تشہیر کرنا تھا، جو حالیہ برسوں میں ملکی برآمدات اور خارجہ پالیسی کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔
لتھوانیا کے صدر کے دفتر کی جانب سے جاری تصاویر میں لکڑی کے ایک خصوصی ڈبے میں رکھا ہوا ریوالور دکھایا گیا، جس پر ترکی کا قومی پرچم اور نیٹو کا لوگو موجود تھا۔ ڈبے میں ایک تختی بھی نصب تھی جس پر ترکی اور انگریزی زبان میں درج تھا، ”گوموشائے ہمارے ملک میں تیار کیا جانے والا پہلا ریوالور طرز کا پستول ہے۔‘‘
رپورٹ کے مطابق تمام رہنماؤں کو ایک ہی ماڈل کا ریوالور دیا گیا، جس کی نال پر متعلقہ رہنما کا نام بھی کندہ کیا گیا تھا۔

تحفے پر قانونی اور سکیورٹی سوالات
پولینڈ کے صدر کے ایک معاون نے بتایا کہ ان کا ریوالور وارسا ایئرپورٹ پر کسٹمز کلیئرنس کا منتظر ہے، جس کے بعد اسے محفوظ مقام پر رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس تحفے کو نہ صرف محفوظ رکھا جائے گا بلکہ اس کا احترام بھی کیا جائے گا، تاہم ”یقیناً اس سے کوئی فائرنگ نہیں کرے گا۔‘‘
نیدرلینڈز اور سویڈن کے وزرائے اعظم کے دفاتر نے بتایا کہ ان کے ریوالور انقرہ میں متعلقہ سفارت خانوں میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔ نیدرلینڈز میں اس ریوالور کو ناکارہ بنایا جائے گا جبکہ سویڈن والا اسلحہ درآمدی کارروائی مکمل ہونے کا منتظر ہے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو دیے گئے تحفے میں ریوالور کے ساتھ اس کی صفائی کا مکمل کٹ اور 500 گولیاں بھی شامل تھیں۔ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ذرائع نے اس کی تصدیق کی۔
اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی کا ریوالور پہلے ہی سرکاری محل میں دیگر ریاستی تحائف کے ساتھ محفوظ کر دیا گیا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیر لائن نے تحفے میں ملنے والا ریوالور ایک فوجی عجائب گھر کو عطیہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جبکہ یونان کے وزیراعظم بھی اسے ایتھنز کے وار میوزیم کے حوالے کریں گے۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اس موقع پر مزاحیہ انداز میں کہا کہ انہیں محسوس ہوا کہ ان کی جانب سے تحفے میں دیا جانے والا میپل سیرپ ترکی کے تحفے کے مقابلے میں بہت معمولی تھا۔
کارنی نے کہا، ”انہوں نے خود ابھی تک ریوالور نہیں دیکھا، تاہم کینیڈین عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ بندوقیں مجھ سے دور ہی رہتی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں دیے گئے ریوالور کو پہلے ہی ناکارہ بنایا جا چکا ہے اور امکان ہے کہ اسے کینیڈا کے قومی جنگی عجائب گھر میں رکھا جائے گا۔

ترکی دنیا میں چھوٹے ہتھیار برآمد کرنے والا اہم ملک
رپورٹ کے مطابق ترکی کی جدید اسلحہ سازی کی صنعت بنیادی طور پر نیم خودکار پستول تیار کرتی ہے، اس لیے گوموشائے .357 میگنم کو اسلحہ جمع کرنے والوں کے لیے ایک نایاب نمونہ تصور کیا جاتا ہے۔
ترک اسلحہ ساز کمپنیاں حالیہ برسوں میں نسبتاً کم قیمت پستول اور شاٹ گن تیار کر کے یورپ کی شہری اسلحہ مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا چکی ہیں، جہاں ان کا مقابلہ اٹلی اور بیلجیم کے روایتی اسلحہ ساز اداروں سے ہے۔
جنیوا میں قائم ایک انڈیپینڈنٹ ریسرچ پروجیکٹ انسٹیٹیوٹ اسمال آرمز سروے کے مطابق ترکی 2019 سے 2024 کے دوران دنیا میں چھوٹے ہتھیار برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک رہا۔ اس عرصے میں ترکی نے تقریباً تین ارب ڈالر مالیت کے چھوٹے ہتھیار برآمد کیے، جبکہ امریکہ اور اٹلی اس فہرست میں پہلے اور دوسرے نمبر پر رہے۔



