اہم خبریںپاکستان

کالعدم انتشاری کمیٹی کے مسلح جتھوں کے عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے ناقابلِ تردید شواہد

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نقصانات کا تخمینہ لگانے اور متاثرہ افراد کی معاونت کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں امن و امان کی صورتحال ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ حکومتی اور سکیورٹی حلقوں کا مؤقف ہے کہ کالعدم قرار دی گئی ایکشن کمیٹی سے منسلک مسلح عناصر کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ عام شہریوں کی سلامتی کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب ان الزامات سے متعلق آزادانہ تصدیق ہر معاملے میں ممکن نہیں ہو سکی، تاہم سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حالات پر قابو پانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران پیش آنے والے مختلف واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ متعدد سرکاری اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے بعد سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

مسلح کارروائیوں اور ویڈیوز کا دعویٰ

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے متعدد ویڈیو کلپس سامنے آئے ہیں جن میں مبینہ طور پر مسلح افراد کو بھاری اسلحے کے ساتھ شہری علاقوں میں فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ حکام کے مطابق ان ویڈیوز کا فرانزک اور تکنیکی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ان کی صداقت اور واقعات کی مکمل تفصیلات کا تعین کیا جا سکے۔

سرکاری مؤقف کے مطابق ان مبینہ کارروائیوں میں پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں ملوث عناصر کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف اضلاع میں سرچ اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن جاری ہیں۔

سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات

حکام کے مطابق حالیہ پرتشدد واقعات کے دوران سرکاری دفاتر، سرکاری گاڑیوں اور بعض نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایک فوجی طبی مرکز (سی ایم ایچ) کے اطراف بھی ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے، جبکہ متعدد گاڑیوں کو آگ لگانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نقصانات کا تخمینہ لگانے اور متاثرہ افراد کی معاونت کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

عوام کو احتجاج میں شامل کرنے اور دباؤ ڈالنے کے الزامات

سرکاری حکام کا مؤقف ہے کہ بعض علاقوں میں دکانیں زبردستی بند کرانے، کاروباری مراکز کو معطل کرنے اور شہریوں کو احتجاج میں شرکت پر مجبور کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق کئی تاجروں اور شہریوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہیں دھمکیوں، دباؤ اور بعض مقامات پر تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ ان شکایات کی روشنی میں پولیس نے مختلف مقدمات درج کیے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔

ماہرین کی رائے

سکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کسی گروہ کی جانب سے سیاسی یا عوامی مطالبات کی آڑ میں مسلح کارروائیاں، بھاری اسلحے کا استعمال یا سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے جیسے اقدامات کیے جائیں تو ایسے اقدامات قانون کی نظر میں سنگین جرائم شمار ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم کسی بھی احتجاج میں تشدد، اسلحے کا استعمال یا عام شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات قابل قبول نہیں ہو سکتے۔

امن و امان برقرار رکھنے پر زور

حکام نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان برقرار رکھنا ریاستی اداروں کی اولین ترجیح ہے اور قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔

انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں، غیر مصدقہ معلومات آگے نہ پھیلائیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں۔

قانونی کارروائی جاری

حکام کے مطابق حالیہ واقعات کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کے تعین میں مصروف ہیں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ، ریاستی رٹ کا قیام اور امن کی بحالی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آزاد جموں و کشمیر میں امن خراب کرنے یا تشدد کو فروغ دینے کی کسی بھی کوشش سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا، جبکہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور قانونی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button