مشرق وسطیٰ

امریکی فوج: ایرانی بندرگاہ میں نگرانی کا ٹاور تباہ کر دیا

امریکی حملے میں ایران کی چابہار بندرگاہ کا نگرانی ٹاور تباہ، خلیجِ عمان میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

واشنگٹن/تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکہ نے ایک اور اہم فوجی کارروائی کرتے ہوئے ایران کی جنوبی بندرگاہ چابہار کے شہید کلانتری پورٹ پر قائم ایک نگرانی (سرویلنس) ٹاور کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق یہ کارروائی جمعرات کو کی گئی جبکہ اس کی تصدیق جمعہ کے روز ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کی گئی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ تباہ کیا جانے والا ٹاور ایران کے خلیجِ عمان کے ساحل پر موجود سمندری نگرانی کے نیٹ ورک کا اہم حصہ تھا، جسے ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور فوجی جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے، ان کی معلومات جمع کرنے اور ضرورت پڑنے پر انہیں نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ امریکی حکام کے مطابق اس تنصیب کو تباہ کرنے کا مقصد ایران کی سمندری نگرانی اور حملہ آور صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔

Image

CENTCOM نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ یہ نگرانی کا نظام کئی برسوں سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ امریکی فوج کے مطابق اس کارروائی سے بین الاقوامی بحری راستوں پر تجارتی جہازوں کی سلامتی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور خطے میں آزادیٔ جہاز رانی کو یقینی بنانے کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

چابہار بندرگاہ ایران کی واحد سمندری بندرگاہ ہے جو براہِ راست خلیجِ عمان سے منسلک ہے اور اسے ایران کی تجارت اور بحری حکمت عملی میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہ بندرگاہ پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے نسبتاً کم فاصلے پر واقع ہے اور بین الاقوامی تجارتی راہداریوں میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی اس نگرانی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے تو اس سے ایران کی ساحلی نگرانی اور آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی نگرانی کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس حملے سے ہونے والے نقصانات یا ہلاکتوں کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف متعدد حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعوے کیے گئے ہیں، جس کے باعث پورا مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید عدم استحکام کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان موجودہ فوجی کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات نہ صرف آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی تیل کی ترسیل بلکہ بین الاقوامی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور خطے کی مجموعی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ مزید فوجی کارروائیاں خطے میں وسیع تر تصادم کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button