
By Voice of Germany Urdu News Team
پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کی افغان بستیوں کے رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جہاں حکام نے دستاویزی ریکارڈ کے بغیر رہائش پذیر افغان باشندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق متعدد افغان خاندانوں نے گرفتاری یا بے دخلی کے خدشے کے پیش نظر اپنا سامان باندھنا شروع کر دیا ہے، جبکہ کئی لوگ ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیے گھروں تک محدود ہو گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے شناختی دستاویزات کی جانچ، سڑکوں پر ناکہ بندیوں اور غیر قانونی آبادیوں کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔
کمیونٹی نمائندوں اور سرکاری حکام کے مطابق یہ اقدامات ملک بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہیں، جس کا بنیادی مقصد بغیر کسی دستاویزی ریکارڈ کے رہائش پذیر افراد کی اپنے وطن واپسی کو یقینی بنانا ہے۔
پشاور کے نواحی علاقے مٹنی کے رہائشیوں نے بتایا کہ حالیہ کارروائیوں کے دوران افغان بستی کے تقریباً 200 مکانات میں سے متعدد کو مسمار کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ اچانک ہونے والی ان کارروائیوں کے باعث انہیں شدید مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

دوسری جانب حکام کا مؤقف ہے کہ یہ تمام کارروائیاں قانونی تقاضوں کے مطابق کی جا رہی ہیں اور ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف ریاستی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان کی وزارت داخلہ نے ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو 10 جولائی سے بغیر ویزے یا قانونی دستاویزات کے مقیم افغان شہریوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم، وزارت داخلہ نے افغان بستیوں کے فوری انہدام کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔
پشاور میں ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا، ’’بغیر دستاویزی ریکارڈ کے مقیم افغان شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن 10 جولائی سے شروع ہوا جو اب بھی جاری ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے واضح ہدایات جاری ہونے سے پہلے ہی پولیس نے صوبے کے تمام حصوں میں مقیم افغان شہریوں کی جیو میپنگ (نقشہ سازی) مکمل کر لی تھی۔‘‘

اگرچہ 2023 میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر شروع کی جانے والی وطن واپسی مہم کے بعد سے لاکھوں افغان باشندے پاکستان سے واپس افغانستان جا چکے ہیں، لیکن اس سے قبل کارروائیوں کا زیادہ تر مرکز کراچی اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جیسے بڑے شہر تھے۔
خیبر پختونخوا کی تقریباً 40 ملین (چار کروڑ) آبادی کے افغانستان کے ساتھ گہرے ثقافتی، لسانی اور تاریخی تعلقات ہیں اور بہت سے خاندان سرحد کے دونوں طرف آباد ہیں۔
پولیس اور مقامی انتظامیہ نے بتایا کہ انہوں نے کارروائی کے آغاز سے قبل مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز اور کمیونٹی کے عمائدین سے ملاقاتوں کے ذریعے افغان باشندوں کو 10 جولائی کی ڈیڈ لائن سے پہلے پاکستان سے نکل جانے کی تنبیہ کر دی تھی، تاہم کچھ افغان باشندوں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے موجودہ حالات کے باعث ان کے پاس واپسی کے محدود متبادل موجود ہیں۔
رواں ہفتے پشاور میں اے ایف پی کے نمائندے نے پولیس کو شہر بھر میں عارضی چوکیاں قائم کرتے ہوئے دیکھا، جہاں افسران راہگیروں کی شناختی دستاویزات کی سخت پڑتال کر رہے تھے۔ ایک چوکی پر موجود ایک افسر نے بتایا، ’’ہمیں اعلیٰ حکام کی جانب سے بغیر دستاویزی ریکارڈ کے مقیم افغان شہریوں کو فوری گرفتار کرنے کی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔‘‘




