
روئٹرز
پاکستان گزشتہ ماہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کے ایک عبوری معاہدے میں کردار ادا کر چکا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد نے گزشتہ برس سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا تھاجبکہ ہزاروں پاکستانی فوجی سعودی عرب میں تعینات ہیں۔ پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کا ایک اسکواڈرن بھی سعودی عرب میں ہے۔

‘سعودی عرب سرخ لکیر ہے‘
پاکستان نے رواں سال کے آغاز میں بھی سعودی عرب پر ایرانی حملوں پر برہمی کا اظہار کیا تھا تاہم علاقائی تجزیہ کاروں اور حکام کے مطابق اس ہفتے کیے گئے حوثیوں کے حملوں نے ایران کے حوالے سے اسلام آباد کی تشویش کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے، کیونکہ ان حملوں سے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان نیا تنازع جنم لینے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
حوثیوں نے پیر کے روز سعودی عرب پر میزائل داغے تھے، جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی سعودی عرب کی جانب سے ان کے زیر کنٹرول ایک ہوائی اڈے پر بمباری کے جواب میں کی گئی۔ یہ حملہ سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین چار سالہ جنگ بندی کے خاتمے کا باعث بنا، تاہم اب تک یہ کشیدگی صرف ایک واقعے تک ہی محدود رہی ہے۔
ایک پاکستانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ”پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے ایران کو اعلیٰ ترین سطح پر واضح کر دیا ہے کہ سعودی عرب پر حملے پاکستان پر حملے تصور کیے جائیں گے۔ یہ ہماری سرخ لکیر ہے۔‘‘
عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ انہیں عوامی سطح پر گفتگو کی اجازت نہیں تھی۔
پاکستانی سکیورٹی تجزیہ کار محمد عامر رانا نے کہا کہ اسلام آباد کو توقع نہیں تھی کہ صورتحال اتنی تیزی سے خراب ہو جائے گی۔

حوثیوں کے حملوں سے پاکستان کے براہ راست متاثر ہونے کا خدشہ
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو خدشہ ہے کہ حوثیوں کی کارروائیاں اسے براہ راست تنازع میں گھسیٹ سکتی ہیں۔ دو پاکستانی حکام کے مطابق سعودی عرب اور یمن کی سرحد کے قریب پاکستانی فوجی تعینات ہیں، جس سے ان کے براہ راست متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اسلام آباد کو یہ خدشہ بھی ہے کہ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے بحیرہ احمر میں بحری تجارت متاثر ہو سکتی ہے، جو پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے اہم تجارتی راستہ ہے۔
ریٹائرڈ پاکستانی جنرل غلام مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ فی الحال پاکستان کی قیادت تمام فریقوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اگر حوثی سعودی عرب میں اپنے حملوں کا دائرہ بڑھاتے ہیں تو صورتحال بدل سکتی ہے۔
ایران کی اندرونی تقسیم پر پاکستان کو تشویش
حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے پاکستان میں ایران کے حوالے سے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔
دو پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد ایران کی قیادت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی سیاسی قیادت، جس میں صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف شامل ہیں، اور ایرانی پاسداران انقلاب کے مؤقف میں فرق بڑھتا جا رہا ہے۔

دفاعی تجزیہ کار محمد علی کے مطابق اسلام آباد میں یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ ایران میں فیصلہ سازی پر فوج کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق حالیہ کشیدگی کے باعث ایک ایرانی وفد کا اسلام آباد کا دورہ بھی تاخیر کا شکار ہوا، جو اس ہفتے متوقع تھا۔ ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی قیادت میں یہ وفد بدھ کو اسلام آباد پہنچا۔
سعودی عرب اور ایران کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا چیلنج
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو ایک مشکل توازن برقرار رکھنا پڑ رہا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اس کا دفاعی معاہدہ ہے، جبکہ دوسری طرف ایران اس کا اہم ہمسایہ ہے۔
پاکستان مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی، جس کے بعد حکومت کو ایندھن کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا پڑے، جن میں کاروباری اوقات میں کمی بھی شامل تھی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان کی دلچسپی صرف سفارتی کردار تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق توانائی کی رسد بحال رکھنے سے بھی ہے۔
ایک پاکستانی عہدیدار نے کہا، ”ہاں، مایوسی موجود ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ثالثی کے عمل سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ ہم نے اس میں بہت سرمایہ کاری کی ہے اور اسے جاری رکھنا ہمارے مفاد میں ہے۔‘‘
تاہم ایک اور پاکستانی ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ پاکستان کے لیے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنے کا دباؤ شاید ہی کبھی اتنا زیادہ رہا ہو جتنا اب ہے۔ انہوں نے کہا، ”سب کے مفاد میں یہی ہے کہ جنگ ختم ہو لیکن اگر سعودی عرب ہمیں مدد کے لیے بلاتا ہے تو ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے، اس میں کوئی شک نہیں۔‘‘



