
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: پاکستان سے بیرونِ ملک جانے والے شہریوں کی جانب سے سیاسی پناہ (Asylum) کی درخواستوں میں اضافے نے حکومتی اداروں، ماہرین اور بین الاقوامی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ حالیہ انکشافات کے مطابق، ہزاروں پاکستانی قانونی ویزوں پر مختلف ممالک پہنچنے کے بعد واپس وطن نہیں لوٹ رہے بلکہ مستقل رہائش کے لیے سیاسی پناہ یا دیگر امیگریشن راستے اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان کی وجوہات صرف معاشی مشکلات تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے سماجی، انتظامی، نفسیاتی اور طرزِ زندگی سے متعلق کئی عوامل بھی کارفرما ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے مطابق، صرف برطانیہ میں اسٹوڈنٹ ویزے پر جانے والے تقریباً 10 ہزار پاکستانیوں نے بعد ازاں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں۔ اسی طرح آذربائیجان اور بیلاروس جیسے ممالک جانے والے ہزاروں پاکستانی بھی مقررہ مدت گزرنے کے باوجود وطن واپس نہیں آئے، جس سے حکومتی اداروں میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔
صرف معاشی بحران نہیں، "بہتر زندگی” کی تلاش
ماہرین کے مطابق اگرچہ پاکستان کی معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور محدود کاروباری مواقع لوگوں کو بیرونِ ملک جانے پر آمادہ کرتے ہیں، لیکن اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل صرف زیادہ تنخواہ یا بہتر ملازمت نہیں چاہتی بلکہ وہ ایک ایسا معاشرہ تلاش کر رہی ہے جہاں انہیں آزادی، قانون کی بالادستی، مساوی مواقع، ذاتی صلاحیتوں کے اظہار، بہتر تعلیم، معیاری صحت، محفوظ ماحول اور باوقار زندگی میسر ہو۔
ان کے مطابق جب پاکستانی بیرونِ ملک جا کر ان معاشروں کو قریب سے دیکھتے ہیں تو ان میں سے بہت سے افراد واپس آنے کے بجائے وہیں مستقل رہائش اختیار کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
"زندگی کا مکمل پیکج”
ماہرین کے مطابق پاکستان میں معاشی مواقع کی کمی ضرور ایک اہم وجہ ہے، مگر بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ لوگ "زندگی کا مکمل پیکج” چاہتے ہیں۔
اس میں شامل ہیں:
- بہتر روزگار
- قانون کی یکساں عملداری
- سماجی انصاف
- ذاتی آزادی
- محفوظ ماحول
- تفریح اور ثقافتی سرگرمیوں کے مواقع
- پیشہ ورانہ ترقی
- باوقار طرزِ زندگی
ان کے مطابق اگر کسی ملک میں یہ تمام عناصر موجود ہوں تو لوگ زیادہ آسانی سے وہاں مستقل سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔
ناانصافی اور نظام سے مایوسی
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بعض افراد خود کو ایسے نظام کا حصہ محسوس کرتے ہیں جہاں ایک معمولی غلطی بھی زندگی بھر ان کا پیچھا کرتی رہتی ہے۔
رازداری کی خاطر فرضی نام استعمال کرتے ہوئے منیب احمد، جو اس وقت ایک خلیجی ملک میں یورپی ویزے کے انتظار میں ہیں، کہتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان میں کاروبار کیا لیکن متعدد مالی نقصانات اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کے مطابق:
"کچھ لوگ کامیاب ہو جاتے ہیں، لیکن ہزاروں لوگ ناکام بھی ہوتے ہیں۔ میں نے خود بہت سرمایہ کھویا اور متعدد رکاوٹوں کا سامنا کیا۔”
انہوں نے ایک دوست کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ نوجوانی میں غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی ناکام کوشش کے بعد اس نے سعودی عرب میں قانونی ملازمت اختیار کی، لیکن کئی برس بعد پاکستان واپس آیا تو اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل پایا، حالانکہ وہ مکمل طور پر قانونی طور پر کام کر رہا تھا۔
ماہرین کے مطابق ایسے واقعات بعض افراد میں یہ احساس پیدا کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ غلطی ہو جائے تو نظام دوبارہ اعتماد بحال کرنے کا موقع نہیں دیتا، جس کے باعث وہ مستقل طور پر بیرونِ ملک رہنے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔
آزادی اور معیارِ زندگی بھی اہم عوامل
سماجی تجزیہ کاروں کے مطابق صرف روزگار ہی نہیں بلکہ زندگی سے لطف اندوز ہونے کے مواقع بھی لوگوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ان کے مطابق انسان کو بہتر زندگی کے لیے:
- ذہنی سکون
- سماجی آزادی
- محفوظ عوامی مقامات
- سیاحت
- تفریح
- ثقافتی سرگرمیاں
- اظہارِ رائے کی آزادی
جیسے عوامل بھی درکار ہوتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ بہت سے پاکستانی جب آذربائیجان، ترکی، یورپ یا دیگر ممالک کا سفر کرتے ہیں تو وہاں کے ماحول، نظم و ضبط اور شہری سہولیات سے متاثر ہو کر واپس آنے کے بجائے مستقل رہائش کا منصوبہ بنانے لگتے ہیں۔
بیرونِ ملک سیاحت میں نمایاں اضافہ
گیلپ پاکستان کی رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران 90 لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے بیرونِ ملک سفر کیا جبکہ اس دوران تقریباً 4 ارب ڈالر غیر ملکی سیاحت پر خرچ کیے گئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعداد و شمار صرف سیاحت نہیں بلکہ پاکستانیوں میں بیرونی دنیا کو قریب سے دیکھنے، نئے مواقع تلاش کرنے اور ممکنہ مستقل ہجرت کے رجحان کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔
برطانیہ سمیت مغربی ممالک کی تشویش
سیاسی پناہ کی درخواستوں میں اضافے کے باعث برطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک بھی پاکستان کے ساتھ اس مسئلے پر رابطے میں ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق بڑی تعداد میں سیاسی پناہ کی درخواستیں امیگریشن نظام پر اضافی دباؤ ڈالتی ہیں، جس کے باعث متعلقہ ممالک پاکستان سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ صرف حقیقی ضرورت مند افراد ہی سیاسی پناہ کے نظام سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ایف آئی اے کی سخت نگرانی
بڑھتے ہوئے رجحان کے بعد ایف آئی اے نے پاکستان کے مختلف بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق مسافروں سے اضافی سوالات کیے جا رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کا سفری مقصد حقیقی ہے یا وہ مستقبل میں غیر قانونی طور پر قیام کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اسی مقصد کے لیے مختلف انٹرویوز، سفری دستاویزات کی جانچ اور دیگر امیگریشن اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
تاہم اس پالیسی کو ملک کے اندر انسانی حقوق کے کارکنوں اور بعض قانونی ماہرین کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی ہے۔
"قانونی ویزا رکھنے والوں کو نہیں روکا جا سکتا”
ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر حسین اصغر کے مطابق پاکستان کسی ایسے شہری کو بیرونِ ملک سفر سے نہیں روک سکتا جس کے پاس درست ویزا اور مکمل سفری دستاویزات موجود ہوں۔
ان کے مطابق:
"اگر کسی شخص کے پاس قانونی ویزا موجود ہے تو صرف اس خدشے کی بنیاد پر اسے نہیں روکا جا سکتا کہ شاید وہ مستقبل میں سیاسی پناہ کی درخواست دے دے۔ کسی کے ممکنہ ارادوں کا تعین کرنا نہایت مشکل اور متنازع معاملہ ہے۔”
مستقل حل کیا ہے؟
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سخت نگرانی، اضافی انٹرویوز یا انتظامی پابندیاں اس مسئلے کا مستقل حل نہیں بن سکتیں۔
ان کے مطابق اگر حکومت واقعی اس رجحان کو کم کرنا چاہتی ہے تو اسے:
- معاشی استحکام پیدا کرنا ہوگا۔
- نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانا ہوں گے۔
- کاروباری ماحول بہتر بنانا ہوگا۔
- قانون کی یکساں عملداری یقینی بنانا ہوگی۔
- انصاف کی فراہمی مؤثر بنانی ہوگی۔
- تعلیمی اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔
- شہری آزادیوں اور معیارِ زندگی میں بہتری لانا ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک لوگوں کو اپنے ہی ملک میں ترقی، تحفظ، انصاف اور بہتر مستقبل کی امید نظر نہیں آئے گی، تب تک بڑی تعداد میں پاکستانی بیرونِ ملک مستقل رہائش اختیار کرنے کے مواقع تلاش کرتے رہیں گے۔
نتیجہ
پاکستان سے سیاسی پناہ کی درخواستوں میں اضافہ محض امیگریشن کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ملک کے معاشی، سماجی اور انتظامی چیلنجز کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ایک جانب حکومت غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے نگرانی سخت کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اصل حل پابندیوں میں نہیں بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنے میں ہے جہاں نوجوان اپنے مستقبل کو پاکستان ہی میں محفوظ، باوقار اور روشن سمجھیں۔ یہی وہ بنیادی تبدیلی ہے جو بیرونِ ملک مستقل ہجرت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو مؤثر انداز میں کم کر سکتی ہے۔



