کالمزناصف اعوان

جنگیں انسانی چہروں کو دھندلا دیتی ہیں ……ناصف اعوان

کہا جارہا ہے کہ نیتن یاہو اور اس کے صلاح کاروں نے دوبارہ جنگ چھیڑنے کے لئے دباؤ ڈالا اور اس نے جنگ کا آغاز کر دیا۔

حکومت نے پٹرولیم کی مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہےکیونکہ اس وقت ایران اور امریکا کے مابین جنگ جاری ہے ۔ امریکا براہ راست ایرانی اہم اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ایران بھی امریکی اڈوں اور دیگر اہم مقامات پر میزائل داغ رہا ہے۔ یوں تباہی و بربادی کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔ ایران اسرائیل کے فوجی و غیر فوجی ٹھکانوں کو بھی میزائلوں کی زد میں رکھے ہوئے ہےجو کسی ژالہ باری کی مانند اس پر گر رہے ہیں اور اس کی عمارتوں کو نیست و نابود کر رہے ہیں۔ اِدھر ایران کو بھی ایسی ہی تباہی کا سامنا ہے۔ یہ جنگ کب رکے گی کچھ معلوم نہیں کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ بات پریشان کر رہی ہے کہ اس کی سپر میسی چیلنج ہو چکی ہے اس کے ایران نے ”بلانگے” نکال دئیے ہیں بس یہی وجہ ہے کہ وہ ”کچیچیاں وٹ“ رہا ہے مگر جو ہونا تھا وہ ہو چکا اس کی سپر میسی ختم ہو گئی ہے اس سے جو ممالک ڈر رہے تھے ان کی سوچ تبدیل ہو رہی ہے اگرچہ ابھی تک چند ملکوں میں اس کے اڈے موجود ہیں مگر انہیں ایرانی میزائلوں نے ”دبڑ دھوس“ کر دیا ہے اس کا جاسوسی کا نظام ناکارہ بنا دیا ہے ۔اسرائیل کو بھی اپنی اوقات یاد دلا دی ہے اس کا میزائل روک نظام بھی اس قابل نہیں چھوڑا کہ وہ پہلے کی طرح متحرک ہو سکے لہذا ان دونوں کو غصہ یہی ہے کہ وہ تو پوری دنیا کو سہما ڈرا رہے تھے جسے چاہتے تھے کان سے پکڑ کر لے جاتے۔ خلیجی ملکوں سے ان کے دفاع کے عوض بھاری رقوم وصول کرتے مگر اب وہ بات نہیں رہی ان ملکوں کے عوام و حکمران امریکا اور اسرائیل کے خوف سے نجات حاصل کرتے جا رہے ہیں اور دبی زبان میں امریکا کو کہہ رہے ہیں کہ وہ ان کی جان چھوڑ دے تاکہ وہ ایرانی حملوں سے محفوظ ہو سکیں۔ ایران کسی بھی مسلم ملک پر میزائل نہیں گرا رہا وہ امریکی اڈوں کو ہی اپنا ہدف بنا رہا ہے اور وہ اس میں سو فیصد کامیاب ہے لہذا خلیجی ملکوں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایران کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ان پر چھائے خوف کے سائے ہٹا دئیے ہیں وہ امریکا کو بغیر ہچکچاہٹ کے اپنے اڈے ختم کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔
خیر امریکا کی خواہش تو یہی ہے کہ ایران اس کے آگے جھک جائے اس کی طاقت کو تسلیم کرلے جوہری مواد اس کے حوالے کر دے یہ کہ آبنائے ہرمز کا چارج اسے دے دے ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات منوانے کا خیال ذہن سے نکال دے۔ امریکا نے چالیس روزہ جنگ میں بھی پہل کی تھی اب بھی اس نے پہل کی ہے جبکہ دونوں ملکوں نے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا مگر امریکا نے معاہدہ توڑا دیا۔ کہا جارہا ہے کہ نیتن یاہو اور اس کے صلاح کاروں نے دوبارہ جنگ چھیڑنے کے لئے دباؤ ڈالا اور اس نے جنگ کا آغاز کر دیا۔
ان سب کو سوچنا چاہیے کہ وہ ایران کو کسی صورت فتح نہیں کر سکتے کیونکہ اگر وہ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس خطہ میں کہرام مچا دیں گے۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح یہاں کا خام مال ہتھیا لیں گے اور چین کو نقصان پہنچانے کے لئے مستقل منصوبہ بندی کر یں گے لہذا خطے کے ممالک امریکا اور اسرائیل کا راستہ روکیں گے بلکہ روک رہے ہیں۔ مبینہ طور سے چین روس اور شمالی کوریا جدید ترین اسلحہ ایران کے حوالے کر چکے ہیں اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ چین اور کوریا کی ٹیکنالوجی امریکا سے ہزار گنا بہتر ہے لہذا یہ جو حیران کن امریکا اسرائیل کی تباہی دیکھنے میں آرہی ہے اسی ٹیکنالوجی کی بدولت ہے۔
ایران نے پہلے آبنائے ہر مز کو جزوی طور سے کھول رکھا تھا اب اسے مکمل بند کر دیا گیا ہے لہذا تیل کی ترسیل بند ہو چکی ہے۔ جس کے منفی اثرات خطے کے ملکوں کی معیشت پر ہی نہیں مرتب ہوں گے پوری دنیا دھیرے دھیرے اس کی لپیٹ میں آ جائے گی اور اگر یہ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو پھر منظر بدل جائیں گے پس منظر بدل جائیں گے لہذا اس جنگ کو روکا جانا چاہیے یورپ اور مغرب سب مل کر امریکا کو سمجھائیں کہ وہ ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر امن پیار کی بات کرے کیونکہ صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد میں واضح الفاظ میں کہا تھا کہ وہ دنیا میں امن قائم کریں گے مگر وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کر سکے۔ شاید انہیں اسلحہ بیچنے والی کمپنیوں نے ان کو اپنے مؤقف سے پھسلا دیا لہذا وہ جنگی جنون کی نذر ہو چکے ہیں اور ہر طرف بربادی کو دیکھنا چاہتے ہیں مگر ہوا کسی کی نہیں ان کےمشیر اور اتحادی سب بہت بڑے نقصان سے دو چار ہو سکتے ہیں مگر ابھی وہ یہی سمجھ رہے ہیں کہ امریکا کو کامیابی حاصل ہو جائے گی جو کہ ان کی خوش فہمی ہے۔ بہر حال جنگ جاری رہتی ہے تو ہمیں تیل کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اگرچہ آئل کمپنیوں کے پاس پندرہ بیس دنوں کے لئے تیل موجود ہےلہذا قلت نہیں ہو سکتی مگر ذخیرہ اندوزوں نے ذخیرہ کرنے کا پروگرام بنایا ہے جس پر حکومت کو کہنا پڑا کہ اگر کسی نے مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوشش کی تو اسے قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا۔ یہ اچھی بات ہے کیونکہ قلت پیدا کرنے سے عوام میں حکومت مخالف جذبات جنم لیں گے لہذا وہ مصنوعی قلت نہیں ہونے دے گی مگر حکومت کو بھی چاہیے کہ جب قلت نہیں ہوتی تو اسے قیمتیں بھی مزید نہیں بڑھانی چاہیے ۔یہ جو اس نے جنگ کے آغاز میں دس بارہ روپے بڑھائے ہیں وہ غیر ضروری ہیں اب جو ہر روز قیمتوں کے تعین کا کہا جا رہا ہے یہ بھی جائز نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری ضروریات سو فیصد آبنائے ہرمز کے راستے سے آنے والے تیل سے پوری نہیں ہوتیں دیگر راستے بھی ہیں جہاں سے تیل آتا ہے پھر امید ہے کہ جنگ بھی رک جائے گی کیونکہ امریکا کو جو زعم ہے وہ باقی نہیں رہے گا اسرائیل کو بھی اب دن کے وقت تارے نظر آنے لگے ہیں لہذا تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے ۔عوام کی حالت بہت خراب ہے ان پر تو کئی رنگ برنگے ٹیکس لاگو ہیں جو ان کو تڑپا رہے ہیں بجلی گیس کی قیمتیں بھی آئے روز بڑھ جاتی ہیں جن کا کوئی جواز نہیں ہاں اگر کوئی جواز ہے تو وہ یہ کہ شاید ملک سرمایہ کاروں کے لئے موزوں نہیں رہا برآمدات میں کمی واقع ہو چکی ہےلہذا عوام کی جیبوں سے قومی خزانہ بھرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ عوام کی چیخیں نکال رہا ہے وہ دہائی دے رہے ہیں کہ ان پر زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔ اب تو ان میں یہ احساس بھی پیدا ہونے لگا ہے کہ ان کا مسقبل روشن نہیں ہو سکتا مگر انہیں ایسا نہیں سوچنا چاہیے کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ لمحات ساکت ہو جائیں۔ یہ نظام اب اپنے آخری مراحل میں ہے اسے رکنا نہیں آگے بڑھنا ہے ظاہر ہے پھر تبدیلی کا عمل بھی شروع ہو جائے گا !

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button