
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں اور ملحقہ علاقوں میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 24 مبینہ بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران ضلع بنوں میں پولیس اہلکاروں، سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملوں میں اضافے کے بعد آپریشن کا دائرہ وسیع کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں ملوث عناصر کی تلاش اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں گزشتہ 24 گھنٹوں سے مسلسل جاری ہیں۔
بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے مختلف مقامات پر خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں کیں، جہاں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے ساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ آپریشن کے دوران 24 مبینہ دہشت گرد مارے گئے، جبکہ فورسز نے ان کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان بھی برآمد کیا۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں، پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل سمیت مختلف سنگین جرائم میں مطلوب تھے۔ برآمد ہونے والے اسلحے اور دیگر شواہد کی مدد سے مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک اور اس کے سہولت کاروں تک پہنچا جا سکے۔
حکام کے مطابق ضلع بنوں اور گردونواح میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے، جبکہ حساس مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کی کسی بھی ممکنہ نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی حکمت عملی کے تحت پوری قوت سے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی کی مہم "عزمِ استحکام” اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت جاری ہے، جس کا مقصد دہشت گرد تنظیموں، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔
دوسری جانب سیکیورٹی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے اور علاقے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔



