کالمزناصف اعوان

کوئی تحریک نظام بدلنے کے لئے بھی چلے گی ؟…..ناصف اعوان

اپنے عہدوں سے خوب لطف اندوز ہوتے رہے کارروائی ڈالنے کے لئے گونگلوؤں سے مٹی بھی جھاڑتے رہے

سیاست کے میدان میں اس قدر گرما گرمی ہے کہ جس کی حدت اب عام آدمی محسوس کرنے لگا ہے۔ ایک طرف محترمہ علیمہ خان نے تحریک بحالی خان کا آغاز کیا ہے تو دوسری جانب مولانا فضل الرحمٰن سر گرم عمل ہیں۔ تیسری طرف سے بھی سیاسی محاذ کھل رہا ہے جسے وکلاء کھول رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یکا یک یہ سب منظم انداز میں کیسے ہونے جا رہا ہے اس بارے ابھی قطعی طور سے کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا مگر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ بجھتے چراغوں نے بھڑکنے کا فیصلہ کرلیا ہو گا کہ شاید وہ پھر سے جل اٹھیں کیونکہ اگر انہوں نے کوئی جُھرجھری نہیں لی تو پھر ممکن ہے کہ وہ اپنی پہچان ہی باقی نہ رکھ سکیں لہذا سارے جھاکے اور ساری ہچکچہاٹیں ایک طرف کرکے وہ سیاسی اکھاڑے میں کود پڑے ہیں۔ اُدھر یورپی یونین نے بھی سیاسی صورت حال پر اپنی تشویش کا اظہار کر دیا ہے۔
قارئین کرام ! محترمہ علیمہ خان کی تحریک کی تو سمجھ آتی ہے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ پہلی دوسری اور تیسری قیادت نے خان کی رہائی کے لئے ایسی کوئی کوشش نہیں کی کہ جس سے حکومت پر دباؤ پڑ سکتا۔ وہ چُوری کھانے والے مجنوں ہی ثابت ہوئے۔ اپنے عہدوں سے خوب لطف اندوز ہوتے رہے کارروائی ڈالنے کے لئے گونگلوؤں سے مٹی بھی جھاڑتے رہے۔ اس طرح خان کو جیل میں تین برس گزر گئے مگر ان کی رہائی کے دُور دُور تک آثار نظر نہیں آئے جس سے پی ٹی آئی کے کارکنوں میں مایوس نے جنم لیا۔ عہدیداروں نے اپنے روپ بدل لئے اور وہ نمک کی کان میں نمک ہو گئے ان کی موجیں لگی رہیں لگی ہوئی ہیں۔ شاید وہ خان کی رہائی کے لئے سنجیدہ نہیں تھے کیونکہ انہیں موجودہ صورت حال سے مستفید ہونے کا موقع ملا ہے لہذا وہ جذباتی تقریریں کرکے ڈنگ ٹپاتے رہے ہیں ۔ زنداں کی دیوار کے پیچھے جانا نہیں چاہتے تھے‘ نہیں چاہتے ہیں ۔
یہ بھی سچ ہے کہ شروع میں باقاعدہ احتجاج کیا بھی گیا۔ تمام بڑے شہریوں سمیت وفاقی دارالحکومت میں ملک کے طول وعرض سے کارکنان آئے ۔انہیں جن مصائب اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ ان میں سے کچھ تو جان سے بھی گئے کچھ زخمی بھی ہوئے ۔بہت سوں نے اپنے کاروبار بھی تباہ کرلیے انہیں سزائیں بھی ہوئیں جو ابھی تک اپنی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ دوسروں کو بار بار مخصوص جگہوں پر بلوانے اور احتجاج کروانے پر وہ اکتا گئے پھر انہیں پولیس کے سخت گیر رویے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ڈنڈے سوٹے کو وہ کب تک برداشت کر سکتے تھے لہذا انہوں نے پیچھے رہنے میں ہی عافیت سمجھی مگر انہوں نے خان کی محبت کو دل سے نہیں نکالا ۔کے پی کے والوں نے جلسےبھی کیے اور جلوس بھی نکالے مگر بے سود۔
اس پہلو کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو منظم نہیں کیا گیا ان کی تربیت نہیں کی گئی لہذا انہیں احتجاجی سیاست کا کچھ علم نہیں بس ایک ہجوم کی شکل میں وہ اکٹھے ہو سکتے تھے اور وہ ایک وقت تک ہوتے رہے۔ حکومت نے ان کی نہ سننا تھی نہ سنی کیونکہ موجودہ حکومت کوئی جمہوری تو ہےنہیں لہذا اس نے کہا بولتے رہو نعرے لگاتے رہو۔ خیر اب محترمہ علیمہ خان نے رہائی مہم شروع کر دی ہے لوگ بھی ان کے ہمراہ ہو لئے ہیں مگر پنجاب میں جب وہ آئیں گی تو معلوم ہو گا کہ منظر کیسا ابھرتا ہے۔ کے پی کے کا سیاسی ماحول مختلف ہے کیونکہ وہاں پی ٹی آئی کی اپنی حکومت ہے لہذا وہاں سے عوام کی بڑی تعداد گھروں سے باہر نکل رہی ہے مگر دیکھنے والی یہ چیز ہے کہ حکومت پر اس کا اثر کہاں تک ہوتا ہے ؟
مولانا فضل الرحمٰن بھی متحرک ہیں انہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے ان کا مقصد کیا ہے اس سے متعلق کچھ واضح نہیں مگر یہ بات تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ وہ خاصا غصے میں ہیں ۔جس میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ان کی طرز سیاست سے صاف دکھائی دے رہا ہے کہ وہ کسی ایک یا زیادہ سے ناراض ہیں اور اگر ان کی ناراضی دور کر دی جاتی ہے تو ان کے منہ سے پھول جھرنے لگیں گے مگر بعض سیانے کہتے ہیں کہ ایسا نہیں‘ وہ بھی کچھ نیا چاہتے ہیں جمہوریت کے لئے اپنا موہوم سا کردار ادا کرنا ضروری سمجھتے ہیں مگر عوام کی اکثریت اس بات سے اتفاق نہیں کرتی کیونکہ جب انہوں نے اپنے فائدے میں دیکھا تو اسی حکومت کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور اب کوئی فائدہ نہ دیکھ کر گرج برس رہے ہیں۔ جتنے منہ اتنی باتیں مگر لگتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے کیونکہ وکلاء نےبھی اعلان ناراضی کر دیا ہے لہذا وہ بھی تحریک چلانا چاہ رہے ہیں جو ظاہر ہے موجودہ حکمرانوں کے خلاف ہی چلے گی جس کی قیادت شعلہ بیاں مقرر علی کُرد کریں گے۔ ایسی تحریک جنرل پرویز مشرف کے خلاف بھی چلی تھی۔ جس میں اعتزاز احسن آگے تھے مگر اقتدار کے کردار بدلے تھے یہ نظام نہیں بدلا تھا لہذا ہر کسی کا ایجنڈا اپنا ہے اور پروگرام بھی مگر ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک یہ نظام نہیں بدلتا لوگوں کے آنے جانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا اٹھہتر برس تو بیت گئے اسی گھمن گھیری میں۔ کوئی آتا گیا کوئی جاتا گیا مگر عوام کے دُکھڑے کسی نے نہیں سنے۔ اپنی جیبیں بھرتے رہے وعدے اور دعوے کرتے رہے ۔ اس طرح ایک حکومت جاتی اور دوسری آ جاتی ۔ہر بار عوام کو یہی آس ہوتی کہ ان کی ہر خواہش پوری ہو گی مگر جب تھوڑا وقت گزرتا تو آنے والوں سے اکتاہٹ اور نفرت ہو جاتی اسے تبدیل کرنے کا مطالبہ زور پکڑ ے لگتا جس کے ”احترام“ میں نئی حکومت آجاتی مگر وہی سماں ہوتا وہی منظر ہوتا ۔
لہذا یہ جو سیاسی شور اٹھ رہا ہے اس سے لگ رہا ہے کہ سب کے اپنے اپنے دکھ ہیں عوام کے لئے کوئی نہیں سوچ رہا۔ معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ اس سفاک نظام سے نجات کے لئے کوئی عوامی تحریک کا آغاز نہیں ہو رہا کہ جس میں اہل اقتدار تو امیر ہوتے جاتے ہیں اور غریب ‘ غربت کے اژدھا کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔ جسموں کی فروخت ہوتی ہے اعضا بیچے جاتے ہیں ۔ تیل کی قیمتیں ہر روز بڑھائی جاتی ہیں۔ قومی خزانہ پر جھپٹے مارے جاتے ہیں۔ بیرونی ممالک میں عوامی سرمایہ لوٹ کر محل تعمیر کیے جاتے ہیں۔ لاکھ پتی اقتدار میں آکر کھربوں پتی بن جاتے ہیں اور انصاف کو خریدا جاتا ہےلہذا کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی منظر اگر تبدیل ہوتا بھی ہے تو اس میں عوام کے لئے وہ نہیں ہو گا جو وہ چاہتے ہیں لہذا یہ جو‘ جوشیلی تقریریں ہیں اور کرید کرید کر بیان کی جانے والی داستانیں ہیں سب غیر ضروری ہیں کیونکہ یہ روایتی انداز سیاست ہے جسے عوام اب پسند نہیں کرتے وہ سیاست کو جمہوری و ائنی دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ جدید ذرائع ابلاغ نے ان کی سوچ کو تبدیل کر دیا ہے اور ایک ایسی دنیا سے روشناس کرا دیا ہے جس میں جمہوریت ہے اور انسانیت کا احترام ہے !

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button