
رلن/ہائیڈل برگ (جرمنی): دریائے نیکر کے کنارے علامہ اقبال اور گوئٹے کی یاد میں پروقار ادبی تقریب و مشاعرہ، سفیرِ پاکستان ثقلین سیدہ کی شرکت، اقبال چیئر کی بحالی آخری مرحلے میں
جرمنی اور خصوصاً ہائیڈل برگ سے علامہ اقبال کی وابستگی محض تاریخی نہیں بلکہ فکری اور روحانی بھی ہے۔ یہاں گزارے گئے ایام نے ان کی شاعری اور فلسفے پر گہرے اثرات مرتب کیے
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
جرمنی کے تاریخی شہر ہائیڈل برگ میں دریائے نیکر کے پُرفضا کنارے عظیم شاعرِ مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال اور جرمنی کے شہرۂ آفاق شاعر و مفکر یوہان وولف گانگ فان گوئٹے** کی یاد میں ایک شاندار ادبی تقریب اور مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں جرمنی میں مقیم پاکستانی و کشمیری کمیونٹی، جرمن دانشوروں، ادیبوں، شعرا، اساتذہ، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی جرمنی میں پاکستان کے سفیر ثقلین سیدہ تھے، جبکہ تقریب کی صدارت جرمنی کی معروف سماجی و ادبی شخصیت سید اقبال حیدر نے کی۔ اس موقع پر ہائیڈل برگ سٹی کونسل کے رکن وسیم بٹ، ممتاز جرمن دانشور و محقق پروفیسر ہنس ہرڈر سمیت متعدد اہم شخصیات بھی شریک ہوئیں۔
اپنے خطاب میں پاکستان کے سفیر ثقلین سیدہ نے کہا کہ دیارِ غیر میں اردو زبان، ادب اور پاکستانی ثقافت کے فروغ کے لیے ایسی ادبی محفلیں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادب، ثقافت اور علم وہ مشترکہ زبانیں ہیں جو مختلف قوموں اور تہذیبوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں اور باہمی احترام، رواداری اور دوستی کو فروغ دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علامہ محمد اقبال نہ صرف پاکستان کے قومی شاعر ہیں بلکہ وہ عالمی مفکر بھی ہیں، جن کے افکار نے مشرق و مغرب دونوں کو متاثر کیا۔ جرمنی اور خصوصاً ہائیڈل برگ سے علامہ اقبال کی وابستگی محض تاریخی نہیں بلکہ فکری اور روحانی بھی ہے۔ یہاں گزارے گئے ایام نے ان کی شاعری اور فلسفے پر گہرے اثرات مرتب کیے، جن کا اظہار ان کی متعدد نظموں اور خطوط میں بھی ملتا ہے۔
سفیر پاکستان نے اس موقع پر ایک اہم پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں "علامہ اقبال چیئر” (Iqbal Chair) کی بحالی کا عمل آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور امید ہے کہ جلد ہی یہ اہم تعلیمی و تحقیقی منصوبہ دوبارہ فعال ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال چیئر کی بحالی پاکستان اور جرمنی کے درمیان تعلیمی، ثقافتی اور تحقیقی تعاون کو نئی جہت دے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف اقبال کے فلسفے، اردو زبان اور جنوبی ایشیائی مطالعات پر تحقیق کو فروغ ملے گا بلکہ دونوں ممالک کے جامعاتی اداروں کے درمیان علمی روابط بھی مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب کے صدر سید اقبال حیدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہائیڈل برگ صرف جرمنی کا ایک خوبصورت تاریخی شہر نہیں بلکہ اردو ادب اور علامہ اقبال کی یادوں کا بھی امین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات نئی نسل کو اپنی زبان، ادب، تاریخ اور تہذیب سے جوڑنے کا بہترین ذریعہ ہیں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ثقافتی شناخت کو مضبوط بناتی ہیں۔
وسیم بٹ، جو ہائیڈل برگ سٹی کونسل کے رکن ہیں، نے کہا کہ ہائیڈل برگ ایک ایسا شہر ہے جہاں مختلف ثقافتوں اور زبانوں کو ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے پاکستانی کمیونٹی کی مثبت سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریبات جرمنی میں بین الثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہیں۔
اس موقع پر پروفیسر ہنس ہرڈر نے علامہ اقبال اور گوئٹے کے فکری رشتے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دونوں عظیم مفکرین نے انسانیت، روحانیت، علم اور آزادیِ فکر کے موضوعات پر گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ اقبال نے گوئٹے کے افکار سے استفادہ کیا جبکہ گوئٹے کی عالمی فکر اور اقبال کے فلسفۂ خودی میں کئی مشترک پہلو موجود ہیں، جو مشرق و مغرب کے درمیان ایک مضبوط فکری پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
تقریب کے دوران مقررین نے علامہ اقبال کے ہائیڈل برگ میں قیام، دریائے نیکر سے ان کی قلبی وابستگی اور ان کی شاعری میں اس شہر کے اثرات** پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین نے بتایا کہ ہائیڈل برگ میں گزارا گیا وقت علامہ اقبال کی فکری تشکیل میں نہایت اہم ثابت ہوا اور یہی شہر ان کی کئی یادگار تحریروں اور شاعری میں نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔
ادبی نشست کے بعد ایک پروقار مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں جرمنی اور یورپ کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔ شعرا نے محبت، امن، انسان دوستی، ہجرت، وطن سے محبت، بین الثقافتی ہم آہنگی اور علامہ اقبال کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنی تخلیقات سنائیں، جنہیں حاضرین نے بھرپور داد دی۔
تقریب کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جرمنی میں اردو ادب، پاکستانی ثقافت اور علامہ اقبال کے فکر و فلسفے کے فروغ کے لیے مستقبل میں بھی ایسی علمی و ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ نئی نسل کو اپنی تہذیبی اور ادبی شناخت سے جوڑے رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور جرمنی کے درمیان ثقافتی و تعلیمی روابط کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔



