بین الاقوامیاہم خبریں

جنگ کے پہلے گھنٹے میں ہی خامنہ ای کی ہلاکت کا علم ہو گیا تھا، اعلان مؤخر کرنے کا فیصلہ عوامی ردِعمل کے پیشِ نظر کیا گیا: محمد باقر قالیباف

تاہم ان کے مطابق منصوبہ اس وقت تبدیل کرنا پڑا جب غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے سرکاری اعلان سے پہلے ہی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبریں نشر کرنا شروع کر دیں۔

تہران: ایران کی پارلیمنٹ (مجلسِ شورائے اسلامی) کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پہلی مرتبہ سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کے حساس ترین لمحات، حکومتی فیصلہ سازی اور جنگ کے ابتدائی گھنٹوں کی اندرونی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے کے تقریباً ایک گھنٹے کے اندر ہی ایرانی قیادت کو علی خامنہ ای کی ہلاکت کی قطعی اطلاع مل گئی تھی، تاہم قومی سلامتی، آئینی تقاضوں اور عوامی ردِعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس خبر کو فوری طور پر عوام کے سامنے لانے کے بجائے چند گھنٹوں کے لیے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پارلیمنٹ کی کوآرڈینیشن کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے کہا کہ 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے تہران میں انتہائی حساس عسکری اور حکومتی مراکز پر کیے گئے فضائی حملوں کے فوراً بعد صورتحال انتہائی پیچیدہ اور غیر معمولی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد ہی متعلقہ اداروں نے اس بات کی تصدیق کر دی تھی کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای حملے میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔

قالیباف کے مطابق اس اطلاع کے بعد فوری طور پر اعلیٰ سطح پر مشاورت کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے سابق اسپیکر پارلیمنٹ اور سینئر رہنما علی لاریجانی سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا تاکہ ملک کی آئینی، سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے اور اس غیر معمولی بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم سوال یہ تھا کہ اتنی بڑی قومی خبر کا اعلان کب اور کس انداز میں کیا جائے تاکہ ملک میں افراتفری، خوف و ہراس یا ریاستی اداروں میں کسی قسم کا خلاء پیدا نہ ہو۔

اعلان مؤخر کرنے کا فیصلہ

خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق قالیباف نے بتایا کہ مختلف آئینی اداروں کے سربراہان کو ایک جگہ جمع کرنے، صورتحال کا مکمل جائزہ لینے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں کئی گھنٹے لگے۔

انہوں نے کہا:

"جب تک ہم تینوں ریاستی سربراہان کو اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئے اور علی لاریجانی اجلاس میں پہنچے، رات کے آٹھ بج چکے تھے۔ اسی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سپریم لیڈر کی وفات کی خبر اگلی صبح عوام کے سامنے لائی جائے تاکہ اس سے پہلے تمام آئینی اور انتظامی اقدامات مکمل کیے جا سکیں۔”

قالیباف کے مطابق اجلاس کے اختتام پر تمام متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ اپنے اپنے اداروں میں ہنگامی انتظامات مکمل کریں جبکہ ملک بھر میں سکیورٹی صورتحال پر بھی مسلسل نظر رکھی جائے۔

غیر ملکی میڈیا نے منصوبہ تبدیل کر دیا

محمد باقر قالیباف نے بتایا کہ ایرانی حکام نے منصوبہ بنایا تھا کہ اگلی صبح متعلقہ کونسل کا اجلاس منعقد ہوگا، جس میں آئینی تقاضے مکمل کرنے کے بعد صبح آٹھ بجے باضابطہ طور پر علی خامنہ ای کی ہلاکت کا اعلان کیا جائے گا۔

تاہم ان کے مطابق منصوبہ اس وقت تبدیل کرنا پڑا جب غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے سرکاری اعلان سے پہلے ہی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبریں نشر کرنا شروع کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ:

"تقریباً رات ساڑھے بارہ بجے غیر ملکی میڈیا نے خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر نشر کرنے میں جلدی کی، جس کے بعد ہمیں محسوس ہوا کہ پہلے سے طے شدہ منصوبے پر عمل کرنا اب ممکن نہیں رہا۔”

قالیباف نے بتایا کہ انہوں نے رات گئے علی لاریجانی سے دوبارہ رابطہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے صورتحال کا ازسرِ نو جائزہ لیا۔

فجر کے وقت اعلان کا فیصلہ

قالیباف کے مطابق غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد ایرانی قیادت نے ہنگامی بنیادوں پر اپنی حکمت عملی تبدیل کر دی۔

انہوں نے بتایا کہ:

"میں اور علی لاریجانی اس نتیجے پر پہنچے کہ فجر کے وقت ہی سپریم لیڈر کی شہادت کی خبر کا اعلان کر دیا جائے اور عوام سے اپیل کی جائے کہ وہ ملک کے دفاع، قومی وحدت اور استحکام کے اظہار کے لیے سڑکوں پر نکلیں۔”

انہوں نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ بروقت نہ کیا جاتا تو غیر مصدقہ اطلاعات، افواہوں اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبروں کے باعث ملک میں غیر یقینی صورتحال مزید شدت اختیار کر سکتی تھی۔

ملک کو عدم استحکام سے بچانے کی کوشش

قالیباف نے اعتراف کیا کہ اس وقت ایرانی قیادت کو سب سے بڑا خدشہ عوامی ردِعمل، داخلی سلامتی اور ریاستی اداروں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کا تھا۔

انہوں نے کہا:

"اگر ہم اس وقت وہ فیصلہ نہ کرتے تو سڑکوں پر صورتحال کسی اور ہی رخ پر جا سکتی تھی۔”

ان کے مطابق فوری اور منظم حکومتی ردِعمل نے ریاستی نظم و نسق کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور کسی بڑے داخلی بحران سے بچنے میں مدد ملی۔

28 فروری کے حملے

واضح رہے کہ 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز پر تہران میں متعدد انتہائی حساس عسکری، انٹیلی جنس اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے تھے۔

حملوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی رہائش گاہ، پاسدارانِ انقلاب کے مرکزی ہیڈکوارٹرز، عسکری کمانڈ سینٹرز اور دیگر اہم سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے اہلِ خانہ کے چند افراد، پاسدارانِ انقلاب کے متعدد اعلیٰ کمانڈرز، سکیورٹی حکام اور ریاستی اداروں کے کئی سینئر عہدیدار بھی جاں بحق ہوئے تھے۔

یکم مارچ کو باضابطہ اعلان

ایرانی حکومت نے یکم مارچ 2026 کو سرکاری طور پر علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، جس کے بعد ملک بھر میں سوگ کا اعلان کیا گیا اور لاکھوں افراد نے مختلف شہروں میں اجتماعات اور ریلیوں میں شرکت کی۔

حکومت نے اس واقعے کو ایران کی جدید تاریخ کے سب سے بڑے قومی سانحات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا، جبکہ اس کے بعد خطے میں فوجی کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سیاسی و علاقائی اثرات

سیاسی مبصرین کے مطابق محمد باقر قالیباف کے حالیہ انکشافات سے پہلی مرتبہ یہ واضح ہوا ہے کہ ایرانی قیادت کو علی خامنہ ای کی ہلاکت کا علم حملے کے فوری بعد ہو گیا تھا، تاہم خبر کے اعلان میں تاخیر ایک سوچے سمجھے ریاستی اور آئینی فیصلے کے تحت کی گئی تاکہ اقتدار کی منتقلی، قومی سلامتی، عسکری کمانڈ اور عوامی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بیانات سے جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں ایرانی قیادت کے اندر ہونے والی فیصلہ سازی، بحران کے انتظام اور ریاستی اداروں کے ردِعمل کی نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جو مستقبل میں ایران کی سیاسی تاریخ اور خطے کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اہم حوالہ سمجھی جائیں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button