کھیلتازہ ترین

پاکستان کے کوہ پیمائی سیزن کا مہلک ترین حادثہ براڈ پیک نرمل پُرجا سمیت 10 رکنی بین الاقوامی مہم کو نگل لیا

انتہائی دکھ، گہرے صدمے اور افسوس کے ساتھ ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں نرمل پُرجا وفات پا گئے ہیں,کمپنی

سید عاطف l ندیم ادارت

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک (Broad Peak) پر پیش آنے والے ہولناک برفانی تودے کے حادثے نے عالمی کوہ پیمائی برادری کو سوگوار کر دیا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ برطانوی نژاد نیپالی کوہ پیما نرمل "نِمز” پُرجا سمیت 10 رکنی بین الاقوامی مہم کے تمام ارکان کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے، جسے حالیہ برسوں میں پاکستان کے کوہ پیمائی سیزن کا سب سے المناک اور مہلک حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نرمل پُرجا کی مہماتی کمپنی ایلیٹ ایکسپیڈیشنز (Elite Expeditions) نے ہفتہ کے روز جاری کیے گئے ایک جذباتی بیان میں اس سانحے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ برفانی تودہ گرنے کے بعد نہ صرف نرمل پُرجا بلکہ ان کے تمام ساتھی بھی جان کی بازی ہار گئے۔

کمپنی نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا:

"انتہائی دکھ، گہرے صدمے اور افسوس کے ساتھ ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں نرمل پُرجا وفات پا گئے ہیں۔ ہمیں اس بات کی بھی تصدیق موصول ہوئی ہے کہ مہم کے دیگر تمام ارکان بھی اس المناک حادثے میں زندہ نہیں بچ سکے۔”

6,600 میٹر کی بلندی پر پیش آنے والا ہولناک حادثہ

حکام کے مطابق یہ افسوسناک حادثہ 30 جولائی کو اس وقت پیش آیا جب دس رکنی بین الاقوامی کوہ پیمائی ٹیم براڈ پیک کی چوٹی سر کرنے کے لیے تقریباً 6,600 میٹر کی بلندی پر کیمپ ٹو اور کیمپ تھری کے درمیان پیش قدمی کر رہی تھی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ٹیم کا آخری رابطہ جمعرات کی صبح بیس کیمپ سے ہوا تھا، تاہم چند گھنٹوں بعد شدید برفانی تودہ گرنے کی اطلاع موصول ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ برفانی تودہ انتہائی طاقتور تھا جس نے پوری ٹیم کو چند لمحوں میں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

تمام 10 کوہ پیما جان کی بازی ہار گئے

گلگت بلتستان حکومت نے ابتدائی طور پر جمعہ کی شب بتایا تھا کہ ریسکیو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے تین لاشیں نکال کر شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کی گئی ہیں۔

بعد ازاں جاری کیے گئے سرکاری بیان میں تصدیق کی گئی کہ بین الاقوامی مہم کا کوئی بھی رکن زندہ نہیں بچ سکا۔

حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہیں:

نیپال

  • نرمل پُرجا
  • پور بہادر گرونگ
  • کیلی پیمبا شیرپا
  • نیما شیرپا
  • گیالو شیرپا
  • ناوانگ تھندو شیرپا

پاکستان

  • سہیل سخی

چین

  • وانگ ژونگ

عمان

  • نظیرہ احمد عبداللہ الحارثی

امریکہ

  • سارہ میلوری گیس

یہ حادثہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار کوہ پیماؤں کی ایک مکمل بین الاقوامی ٹیم کو نگل گیا، جس پر دنیا بھر کی کوہ پیمائی برادری سوگ میں ڈوب گئی ہے۔

ریسکیو آپریشن انتہائی دشوار گزار حالات میں جاری رہا

گلگت بلتستان حکومت اور پولیس حکام کے مطابق خراب موسم، شدید برف باری، انتہائی کم درجہ حرارت اور دشوار گزار جغرافیے کے باوجود سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مسلسل جاری رکھا گیا۔

پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں، مقامی ہائی الٹیٹیوڈ پورٹرز، ریسکیو اہلکاروں اور تجربہ کار پاکستانی کوہ پیماؤں نے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیاں انجام دیں۔

ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ مقام کے قریب بیس کیمپ قائم کیا اور انتہائی خطرناک موسمی حالات میں رات بھی وہیں گزاری تاکہ لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھی جا سکے۔

حکام کے مطابق اس نوعیت کے ریسکیو آپریشن دنیا کے مشکل ترین امدادی مشنز میں شمار ہوتے ہیں کیونکہ آٹھ ہزار میٹر کے قریب بلندی پر ہیلی کاپٹر آپریشن، انسانی نقل و حرکت اور طویل قیام انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ٹریکنگ آلات نے حادثے کی شدت ظاہر کر دی

پاکستان الپائن کلب سے وابستہ ممتاز پاکستانی کوہ پیما نائلہ کیانی نے فرانسیسی اخبار لوموند کو بتایا کہ مہم کے سیٹلائٹ ٹریکنگ آلات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ برفانی تودے نے کوہ پیماؤں کو پہاڑ کی ڈھلوان سے سیکڑوں میٹر نیچے دھکیل دیا تھا۔

ان کے مطابق اتنی بڑی قوت سے گرنے والے برفانی تودے میں زندہ بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے۔

فدا علی کی جان معجزانہ طور پر بچ گئی

پاکستانی کوہ پیما فدا علی، جو 2023 سے نرمل پُرجا کے ساتھ متعدد بین الاقوامی مہمات میں شریک رہے تھے، اس حادثے سے محض اتفاقاً محفوظ رہے۔

انہوں نے بتایا کہ موجودہ سیزن میں ٹیم کا اصل ہدف براڈ پیک کی چوٹی سر کرنا تھا، تاہم اس سے قبل ٹیم نے انتہائی سخت موسمی حالات کے باوجود گاشر برم ٹو (جی ٹو) کی کامیاب مہم بھی مکمل کی تھی۔

فدا علی نے بتایا کہ وہ براڈ پیک کی ابتدائی چڑھائی کے دوران ٹیم کے ساتھ موجود تھے، لیکن ایک روسی خاتون کوہ پیما کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں واپس نیچے لانے کے لیے لوٹنا پڑا۔

انہوں نے جذباتی انداز میں کہا:

"میں نرمل پُرجا کے ساتھ آگے جانا چاہتا تھا، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ میں ٹیم کا حصہ تھا، مگر واپس آ جانے کی وجہ سے میری جان بچ گئی۔”

نرمل پُرجا کون تھے؟

43 سالہ نرمل پُرجا جدید دور کے عظیم ترین کوہ پیماؤں میں شمار کیے جاتے تھے۔

وہ نیپال میں پیدا ہوئے، بعد ازاں برطانوی فوج کی مشہور بریگیڈ آف گورکھاز میں شامل ہوئے اور پھر برطانیہ کی خصوصی فورس رائل میرینز سپیشل بوٹ سروس (SBS) کا حصہ بھی رہے۔

فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اپنی تمام تر توجہ کوہ پیمائی پر مرکوز کر دی اور مختصر عرصے میں دنیا کے نمایاں ترین کوہ پیماؤں میں شامل ہو گئے۔

تاریخی عالمی ریکارڈ

نرمل پُرجا نے 2019 میں ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔

انہوں نے دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو محض چھ ماہ اور چھ دن میں سر کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، جبکہ اس سے پہلے یہی کارنامہ مکمل کرنے میں برسوں لگتے تھے۔

ان کی اس تاریخی مہم کو بعد میں عالمی شہرت یافتی دستاویزی فلم اور کتاب کی صورت میں بھی پیش کیا گیا، جس نے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔

آخری خواب ادھورا رہ گیا

حادثے سے چند روز قبل نرمل پُرجا نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا تھا کہ وہ دنیا کے پہلے انسان بننے کے قریب ہیں جو بغیر اضافی آکسیجن کے دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو دو مرتبہ سر کریں گے۔

براڈ پیک روانگی سے قبل ان کا آخری پیغام انتہائی جذباتی تھا۔

انہوں نے لکھا:

"براڈ پیک… میں تم سے صرف محفوظ واپسی کی دعا مانگتا ہوں۔”

یہ الفاظ اب ان کے مداحوں اور عالمی کوہ پیمائی برادری کے لیے ایک دردناک یادگار بن چکے ہیں۔

نیپال میں قومی سوگ کی فضا

نیپال کے وزیراعظم بلندر شاہ نے نرمل پُرجا اور دیگر کوہ پیماؤں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اس سانحے پر غمزدہ ہے۔

انہوں نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا:

"اگرچہ ان عظیم کوہ پیماؤں کا جسمانی سفر ختم ہو گیا، لیکن ان کی ہمت، جرات، عزم اور انسانی صلاحیتوں کی نئی حدود تلاش کرنے کا جذبہ ہمیشہ دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔”

براڈ پیک: دنیا کی خطرناک ترین چوٹیوں میں شامل

براڈ پیک کی بلندی 8,047 میٹر ہے اور یہ قراقرم کے عظیم سلسلۂ کوہ میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کے قریب واقع ہے۔

یہ دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہونے کے ساتھ ساتھ تکنیکی اعتبار سے نہایت مشکل اور خطرناک چوٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔

اسے پہلی مرتبہ 1957 میں آسٹریا کے کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے سر کیا تھا، تاہم اس کے بعد سے اب تک متعدد جان لیوا حادثات یہاں پیش آ چکے ہیں۔

عالمی کوہ پیمائی برادری سوگوار

براڈ پیک پر پیش آنے والا یہ المناک حادثہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری عالمی کوہ پیمائی برادری کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ نرمل پُرجا جیسے عظیم کوہ پیما کی موت نے دنیا بھر کے مہم جوؤں، کوہ پیماؤں اور کھیلوں کے حلقوں کو غمزدہ کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ سانحہ ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے کا خواب جتنا شاندار ہوتا ہے، اتنا ہی خطرناک بھی۔ براڈ پیک پر جان گنوانے والے تمام کوہ پیما اپنے اپنے شعبے کے تجربہ کار، باصلاحیت اور باہمت افراد تھے، جنہوں نے انسانی عزم اور حوصلے کی نئی مثالیں قائم کیں اور اب وہ اپنی جرات، قربانی اور مہم جوئی کے جذبے کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button