
رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز
برلن: جرمنی کے دارالحکومت برلن میں حالیہ پرائیڈ پریڈ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد ملک بھر میں انتہا پسندی، سماجی تقسیم اور داخلی سلامتی سے متعلق نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سکیورٹی ماہرین اور محققین کا کہنا ہے کہ صرف اسلامسٹ انتہا پسندی پر توجہ مرکوز کرنا مسئلے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا، کیونکہ جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی شدت پسندی بھی ایک سنگین چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہے اور دونوں انتہا پسندانہ نظریات کئی حوالوں سے ایک دوسرے سے مماثلت رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دونوں نظریات نہ صرف معاشرتی تقسیم کو گہرا کرتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے وجود اور سرگرمیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے بیانیے کو مزید تقویت دیتے ہیں، جس کے باعث معاشرے میں عدم اعتماد، نفرت اور تشدد کے رجحانات بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
برلن حملہ اور حملہ آور کا پس منظر
برلن میں ہونے والے حملے نے پورے جرمنی کو ہلا کر رکھ دیا۔ حکام کے مطابق حملہ آور کی شناخت 21 سالہ عبدالبالوت کے نام سے ہوئی، جو جرمن شہری تھا اور سکیورٹی اداروں کے نزدیک اسلامسٹ شدت پسند رجحانات رکھنے والے فرد کے طور پر جانا جاتا تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس نے ماضی میں شدت پسند تنظیم داعش میں شامل ہونے کی کوشش بھی کی تھی، جبکہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق وہ دو مختلف مقدمات میں سزا یافتہ رہ چکا تھا۔ حملے کے وقت وہ ایک اور مقدمے میں ممکنہ قید کی سزا سے متعلق عدالتی فیصلے کا انتظار کر رہا تھا۔
واقعے کے بعد جرمن سکیورٹی اداروں نے حملے کے محرکات، حملہ آور کے روابط، آن لائن سرگرمیوں اور ممکنہ معاونت کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ایل جی بی ٹی کیو پلس کمیونٹی کو نشانہ بنانے پر ماہرین کی تشویش
لندن میں قائم انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے پالیسی و تحقیق کے ڈائریکٹر جیکب گل کا کہنا ہے کہ ایل جی بی ٹی کیو پلس کمیونٹی کو نشانہ بنایا جانا غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ اسلامسٹ شدت پسند نظریات میں ہم جنس پرست افراد اور صنفی اقلیتوں کے خلاف شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں داعش نے اپنی نام نہاد "خلافت” کے دوران ایسے افراد کے خلاف انتہائی پرتشدد اقدامات کیے جن پر ہم جنس پرستی کے الزامات عائد کیے جاتے تھے۔
جیکب گل کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران لندن، اوسلو، زیورخ اور ویانا سمیت یورپ کے مختلف شہروں میں بھی پرائیڈ پریڈز یا ایل جی بی ٹی کیو پلس تقریبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں یا حملوں کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جو اس رجحان کی وسعت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اسلامسٹ اور دائیں بازو کی انتہا پسندی میں مماثلتیں
جیکب گل کے مطابق اگرچہ اسلامسٹ شدت پسند اور انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند ایک دوسرے کے مخالف دکھائی دیتے ہیں، تاہم ان کے نظریات میں کئی بنیادی مماثلتیں موجود ہیں۔
ان کے مطابق دونوں گروہ اس تصور کو فروغ دیتے ہیں کہ مختلف مذہبی اور ثقافتی برادریوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی ممکن نہیں۔ اسی سوچ کے تحت دونوں انتہا پسند گروہ معاشرے کو متضاد اور متحارب طبقات میں تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلامسٹ شدت پسند اکثر جرمنی میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، سماجی تنہائی اور اسلام سے متعلق منفی خبروں کو ریاستی تعصب کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں تاکہ نوجوانوں کو اپنے بیانیے کی طرف راغب کیا جا سکے۔
دوسری جانب، انتہائی دائیں بازو کے شدت پسند اسلامسٹ حملوں کو بنیاد بنا کر تمام مسلمانوں کو ایک ہی زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے معاشرتی تقسیم مزید گہری ہوتی ہے۔
دونوں نظریات ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں
جیکب گل کے مطابق دونوں انتہا پسندانہ نظریات ایک دوسرے کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلامسٹ شدت پسند دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی کارروائیوں کو پورے جرمن معاشرے کی نمائندگی قرار دیتے ہیں، جبکہ دائیں بازو کے شدت پسند اسلامسٹ حملوں کو تمام مسلمانوں سے منسوب کرتے ہیں۔
ان کے مطابق یہی باہمی ردعمل انتہا پسند گروہوں کی بھرتی، پروپیگنڈا اور نفرت انگیز بیانیے کو مضبوط کرتا ہے اور معاشرے میں اعتماد کی فضا کو نقصان پہنچاتا ہے۔
مشترکہ خصوصیات
جیکب گل کے مطابق دونوں انتہا پسندانہ نظریات میں کئی مشترکہ عناصر پائے جاتے ہیں، جن میں:
- مغربی لبرل جمہوری اقدار کی مخالفت
- سازشی نظریات پر یقین
- ریاستی اداروں اور حکومت پر عدم اعتماد
- خواتین کے حقوق سے متعلق منفی رویے
- ایل جی بی ٹی کیو پلس برادری کے خلاف مخالفت
- سماجی تنوع اور کثیرالثقافتی معاشرے کی مخالفت
انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں گروہوں کی مخالفت کی نظریاتی بنیادیں مختلف ہیں، تاہم ان کے عملی نتائج اکثر ایک جیسے سامنے آتے ہیں۔
ایل جی بی ٹی کیو پلس مخالف بیانیے کی مختلف بنیادیں
جیکب گل نے وضاحت کی کہ اسلامسٹ شدت پسند مذہبی تعبیرات کی بنیاد پر ہم جنس پرستی کو قابل قبول نہیں سمجھتے، جبکہ انتہائی دائیں بازو کے گروہ حیاتیاتی، نسلی یا قوم پرستانہ نظریات کے تحت اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
ان کے مطابق دائیں بازو کے بعض انتہا پسند یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم جنس پرستی اور صنفی تنوع معاشرے میں شرح پیدائش کو کمزور کرتے ہیں اور قومی شناخت کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ اسلامسٹ گروہ مذہبی بنیادوں پر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
جرمن سکیورٹی اداروں کی تشویش
جرمنی کے سکیورٹی ادارے گزشتہ کئی برسوں سے ایسے نوجوان اور پرتشدد رجحانات رکھنے والے انتہائی دائیں بازو کے گروہوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جو پرائیڈ پریڈز، ثقافتی تقریبات اور ایل جی بی ٹی کیو پلس برادری سے متعلق عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کی ترغیب دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہا پسندانہ نظریات کی روک تھام کے لیے صرف قانون نافذ کرنے والے اقدامات کافی نہیں بلکہ آن لائن پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز تقاریر، اشتعال انگیز مواد اور انتہا پسندانہ پروپیگنڈے کے خلاف بھی مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔
ذرائع ابلاغ کے کردار پر زور
جیکب گل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روایتی اور ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کو حساس معاملات کی رپورٹنگ میں احتیاط برتنی چاہیے۔
ان کے مطابق حملہ آور کی شہریت یا نسلی شناخت کو غیر ضروری طور پر مرکزی موضوع بنانے سے معاشرے میں تقسیم بڑھ سکتی ہے اور مختلف برادریوں کے درمیان بداعتمادی پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی کا مؤثر مقابلہ اسی صورت ممکن ہے جب میڈیا ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرے، غیر مصدقہ معلومات سے گریز کرے اور کسی ایک فرد کے جرم کو پوری برادری سے منسوب نہ کرے۔
سماجی ہم آہنگی کی ضرورت
ماہرین کے مطابق جرمنی جیسے کثیرالثقافتی معاشرے میں انتہا پسندی کا مقابلہ صرف سکیورٹی اقدامات سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے مختلف مذہبی، نسلی اور سماجی گروہوں کے درمیان مکالمہ، باہمی اعتماد اور مشترکہ اقدار کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔
جیکب گل کا کہنا ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان مشترکہ مفادات، جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی اور باہمی احترام کو اجاگر کرنے سے انتہا پسندانہ بیانیوں کی کشش کم کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشرتی ہم آہنگی، ذمہ دارانہ صحافت، مؤثر تعلیمی پروگرام، آن لائن نفرت انگیز مواد کی روک تھام اور کمیونٹی کی سطح پر تعاون ہی وہ عوامل ہیں جو جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک کو انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں۔



