
پاکستان آرمی ایوی ایشن کا براڈ پیک پر بڑا ریسکیو آپریشن، سات غیر ملکی کوہ پیماؤں کے جسدِ خاکی برآمد، اسکردو منتقل، لاپتہ افراد کی تلاش بدستور جاری
ریسکیو ٹیموں نے سات غیر ملکی کوہ پیماؤں کے جسدِ خاکی بحفاظت اسکردو منتقل کیے، جبکہ ایک امریکی خاتون کوہ پیما کی جزوی باقیات بھی جائے حادثہ سے نکال کر منتقل کی گئیں۔
شہریار خان-ادارت
اسکردو: گلگت بلتستان کے بلند و بالا پہاڑی سلسلے قراقرم میں واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک (8,051 میٹر) پر برفانی تودہ گرنے کے المناک حادثے کے بعد پاکستان آرمی ایوی ایشن، مقامی ریسکیو اداروں، کوہ پیماؤں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری بڑے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق لاپتہ 10 کوہ پیماؤں میں سے سات غیر ملکی کوہ پیماؤں کے جسدِ خاکی برآمد کر کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسکردو منتقل کر دیے گئے ہیں، جبکہ ایک امریکی خاتون کوہ پیما کی جزوی باقیات بھی ریسکیو ٹیموں نے بازیاب کر لی ہیں۔
یہ ریسکیو آپریشن انتہائی دشوار گزار، خطرناک اور بلند ترین پہاڑی علاقوں میں انجام دیا گیا، جہاں خراب موسم، شدید برفباری، منفی درجہ حرارت اور مسلسل برفانی تودے گرنے کے خطرات کے باوجود پاکستان آرمی ایوی ایشن کے پائلٹس اور ریسکیو اہلکاروں نے غیر معمولی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں جاری رکھیں۔
المناک حادثہ
براڈ پیک پر حالیہ دنوں میں شدید موسمی خرابی کے باعث ایک بڑا برفانی تودہ گرنے سے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما لاپتہ ہو گئے تھے۔ حادثے کے بعد فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، تاہم بلند پہاڑی علاقے کی دشوار گزار جغرافیائی صورتحال اور خراب موسم کے باعث امدادی کارروائیاں انتہائی پیچیدہ ثابت ہوئیں۔
حکام کے مطابق لاپتہ کوہ پیماؤں کا تعلق امریکہ، چین، نیپال، عمان اور پاکستان سے تھا، جو دنیا کی خطرناک ترین چوٹیوں میں شمار ہونے والی براڈ پیک کو سر کرنے کی مہم پر تھے۔
پاکستان آرمی ایوی ایشن کا مؤثر کردار
ریسکیو آپریشن میں پاکستان آرمی ایوی ایشن نے مرکزی کردار ادا کیا۔ خصوصی ہیلی کاپٹروں اور تربیت یافتہ عملے نے انتہائی بلند مقام پر پہنچ کر مرحلہ وار لاشوں کو منتقل کیا۔
ذرائع کے مطابق بلند پرواز، محدود آکسیجن، تیز ہواؤں اور مسلسل برفانی خطرات کے باوجود ہیلی کاپٹر آپریشن جاری رکھا گیا، جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی مشکل اور تکنیکی اعتبار سے پیچیدہ مشن تھا۔
ریسکیو ٹیموں نے سات غیر ملکی کوہ پیماؤں کے جسدِ خاکی بحفاظت اسکردو منتقل کیے، جبکہ ایک امریکی خاتون کوہ پیما کی جزوی باقیات بھی جائے حادثہ سے نکال کر منتقل کی گئیں۔
تین افراد کی تلاش جاری
حکام کے مطابق خراب موسم اور مسلسل برفانی تودے گرنے کے باعث ابھی تک:
- ایک پاکستانی کوہ پیما،
- ایک نیپالی کوہ پیما،
- اور امریکی خاتون کوہ پیما کی باقی ماندہ باقیات
برآمد نہیں کی جا سکیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی موسمی حالات بہتر ہوں گے، سرچ آپریشن دوبارہ مکمل شدت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا تاکہ باقی لاپتہ افراد یا ان کی باقیات کو تلاش کیا جا سکے۔
اسکردو میں خراجِ عقیدت
اسکردو پہنچنے پر جاں بحق کوہ پیماؤں کے جسدِ خاکی وصول کرنے کے لیے سول اور عسکری حکام، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں کے نمائندے اور متعلقہ ممالک کے سفارتی حکام موجود تھے۔
حکام نے جاں بحق کوہ پیماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا اور کہا کہ پاکستان حکومت اور متعلقہ اداروں نے ریسکیو آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے۔
سفارتی نمائندوں نے بھی پاکستان آرمی ایوی ایشن، مقامی انتظامیہ، ریسکیو اہلکاروں اور رضاکار کوہ پیماؤں کی پیشہ ورانہ خدمات اور انتھک کوششوں کو سراہا۔
دنیا کے مشکل ترین ریسکیو آپریشنز میں شمار
ماہرین کے مطابق آٹھ ہزار میٹر سے زائد بلندی پر ریسکیو کارروائیاں دنیا کے مشکل ترین امدادی آپریشنز میں شمار ہوتی ہیں۔
اتنی بلندی پر:
- آکسیجن کی شدید کمی،
- منفی درجہ حرارت،
- تیز رفتار ہوائیں،
- برفانی تودوں کا خطرہ،
- اور محدود پرواز کی صلاحیت
ریسکیو آپریشن کو انتہائی خطرناک بنا دیتے ہیں۔
اسی وجہ سے ایسے مشنز میں ہیلی کاپٹروں، خصوصی تربیت یافتہ پائلٹس اور ہائی الٹیٹیوڈ ریسکیو ٹیموں کی مہارت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
پاکستان کی کوہ پیمائی میں اہم حیثیت
گلگت بلتستان دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کا مرکز ہے، جہاں ہر سال مختلف ممالک سے سینکڑوں کوہ پیما کے ٹو، براڈ پیک، گاشربرم اور دیگر بلند چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے آتے ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق کوہ پیماؤں کی حفاظت، ریسکیو سہولیات اور ہنگامی امدادی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم بلند پہاڑی علاقوں میں موسم کی اچانک تبدیلی اور قدرتی خطرات ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہتے ہیں۔
حکام کا عزم
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ باقی لاپتہ افراد کی تلاش ترک نہیں کی گئی اور موسم بہتر ہوتے ہی آپریشن دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک تمام ممکنہ علاقوں کی مکمل تلاشی نہیں لے لی جاتی، سرچ اینڈ ریسکیو سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
دفاعی اور کوہ پیمائی کے ماہرین کے مطابق پاکستان آرمی ایوی ایشن، مقامی ریسکیو اداروں اور رضاکار کوہ پیماؤں کی مشترکہ کوششوں نے ایک بار پھر انتہائی دشوار حالات میں انسانی جانوں اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پاکستان کی صلاحیت اور پیشہ ورانہ مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ براڈ پیک کا یہ سانحہ دنیا بھر کی کوہ پیمائی برادری کے لیے ایک المناک یاد دہانی ہے کہ بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے کا جذبہ جتنا عظیم ہوتا ہے، اتنے ہی بڑے قدرتی خطرات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔



