
جاگن والیاں رَج کے لٹیا اے سوئے تسی وی او، سوئے اسیں وی آں لالی اکھیاں دی پئی دس دی اے روئے تسی وی او، روئے اسیں وی آں…..علی عباس کاظمی
14اگست پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جس پر فخر بھی کیا جاتا ہے اور درد بھی محسوس کیا جاتا ہے، یہ دن صرف آزادی کا دن نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی قربانی، ہجرت، جدائی، یادوں اور خوابوں کا دن ہے۔
بٹوارا :14اگست پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جس پر فخر بھی کیا جاتا ہے اور درد بھی محسوس کیا جاتا ہے، یہ دن صرف آزادی کا دن نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی قربانی، ہجرت، جدائی، یادوں اور خوابوں کا دن ہے۔ ہر سال جب یہ دن آتا ہے تو سبز ہلالی پرچموں کی بہار اور قومی نغموں کی گونج کے پیچھے تاریخ کی وہ تلخ لکیر بھی چھپی ہوتی ہے جس نے برصغیر کو دو ممالک میں تقسیم کر دیا، اس لکیر کے ایک طرف پاکستان وجود میں آیا اور دوسری طرف ہندوستان ایک نئی شناخت کے ساتھ ابھرا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس لکیر کے اِدھر اور اُدھر کیا کچھ بدلا، کیا کچھ چھوٹا اور کیا کچھ باقی رہ گیا؟ آزادی یا بٹوارہ؟
قیامِ پاکستان بلاشبہ ایک سیاسی جدوجہد کا نتیجہ تھا جس کی قیادت محمد علی جناح نے کی، مسلمانوں کا علیحدہ وطن کا خواب انگریزوں اور ہندو اکثریت کے درمیان خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے سے جڑا ہوا تھا۔ تاہم 14 اگست 1947 صرف آزادی کا دن نہ تھا یہ تقسیم کا دن بھی تھا، یہی وہ دن تھا جب لوگوں نے اپنے بچپن، اپنی زمینیں، اپنی گلیاں حتیٰ کہ اپنے پیاروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔تقسیم کی لکیر کوئی سادہ جغرافیائی لائن نہیں تھی یہ ایک جذباتی، تہذیبی، ثقافتی اور انسانی المیہ تھی۔ لاکھوں لوگ اپنے ہی گھروں میں اجنبی ہو گئے اور جس زمین پر ان کے آبا و اجداد صدیوں سے آباد تھے وہ اچانک ’دوسری طرف‘ چلی گئی۔
پاکستان جب معرضِ وجود میں آیا تو ایک نئے ملک کے تمام خواب، توقعات اور چیلنجز ساتھ لے کر آیا۔ سبز ہلالی پرچم پہلی بار سرکاری عمارتوں پر لہرایا، "پاکستان زندہ باد” کے نعرے گونجے، اور ریڈیو پاکستان نے اپنی پہلی نشریات پیش کیں۔ مگر اسی وقت کراچی، لاہور، راولپنڈی، سیالکوٹ اور دیگر شہروں میں ٹرینوں، قافلوں اور سڑکوں پر خون کی ندیاں بھی بہہ رہی تھیں۔پاکستان کے قیام کے پہلے چند ہفتے اس قدر پرآشوب تھے کہ قائداعظمؒ خود بھی اس پر شدید غم زدہ تھے۔ لاکھوں مہاجرین کی آباد کاری، خالی گھروں میں نئے بسنے والوں کا داخلہ اور پرانی بستیاں اجڑنے کا عمل ہر طرف ایک اجتماعی صدمے کا ماحول پیدا کر چکا تھا۔
دوسری طرف بھارت میں بھی کچھ مختلف نہیں تھا۔ دہلی، امرتسر، پنجاب، اور یوپی کے علاقوں میں مسلم آبادی کو شدت سے نشانہ بنایا گیا۔ ان کے گھروں کو جلایا گیا، بازار لوٹے گئے، خواتین کی عصمت دری کی گئی اور جان بچانے کے لیے ہزاروں مسلمانوں کو پاکستان کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔ہندوستان کی سرکاری تاریخ میں 15 اگست کو آزادی کا جشن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے مگر اس دن کی تہہ میں چھپی ہوئی ہجرت، فسادات، قتلِ عام اور انسانی المیے کی بازگشت آج تک محسوس کی جا سکتی ہے۔ مہاتما گاندھی جو خود تشدد کے خلاف آواز تھے ،تقسیم کے بعد ہونے والے خون خرابے پر دل شکستہ ہو چکے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے جشنِ آزادی میں شرکت سے انکار کیا اور دہلی میں روزے رکھ کر امن کی اپیل کرتے رہے۔
تقسیم کا سب سے اندوہناک پہلو انسانی المیہ تھا، اندازہ ہے کہ 10 سے 15 لاکھ افراد اس وقت مارے گئے اور تقریباً دو کروڑ لوگوں نے اپنی زندگیاں ایک سرحد کے اِدھر سے اُدھر کرتے گزاری۔ ان میں عورتیں، بچے، بوڑھے سب شامل تھے۔ قافلوں پر حملے، ٹرینوں میں لاشوں کی آمد اور بچھڑے ہوئے خاندانوں کی کہانیاں آج بھی دونوں ممالک کے بزرگوں کی یادداشتوں میں زندہ ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ لوگ آج بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ تقسیم ناگزیر تھی، ان کے مطابق اگر برصغیر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بہتر بنایا جاتا تو شاید مشترکہ ہندوستان کا خواب ممکن ہوتا۔ لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ تقسیم کے بغیر اس خطے میں ایک حقیقی جمہوریت اور مساوات ممکن نہ تھی۔ثقافتیں جو بٹ گئیں، مگر مٹ نہ سکیںتقسیم نے صرف زمینوں کو نہیں بانٹا، دلوں کو بھی توڑ دیا۔
ایک وقت تھا جب لاہور، دہلی، امرتسر، لکھنؤ، کلکتہ اور کراچی ایک مشترکہ تہذیب کے رنگ تھے۔ اردو زبان، موسیقی، شاعری، کپڑے، کھانے یہاں تک کہ لطیفے بھی ایک جیسے تھے۔ مگر1947 کے بعد ان رنگوں میں فرق ڈالنے کی کوشش کی گئی۔پاکستان میں "ہندوستانی” کہہ کر کسی چیز کو رد کیا جانے لگا اور بھارت میں "پاکستانی” کا مطلب نفرت بن گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی پاکستانی ڈرامے بھارت میں دیکھے جاتے ہیں، بھارتی فلمیں پاکستان میں مقبول ہیں، اور گانے، شاعری، کلام، اور کہانیاں دونوں طرف ایک ہی جذبے سے پڑھی اور سنی جاتی ہیں۔
ایک اہم پہلو ان لاکھوں مسلمانوں کا ہے جو تقسیم کے بعد بھی ہندوستان میں رہ گئے۔ آج بھی بھارت میں تقریباً 20 کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ ان کی اکثریت نے پاکستان جانے کے بجائے اپنے وطن میں رہنے کو ترجیح دی، ان کے لیے 14 اگست ایک پیچیدہ دن ہے۔ وہ پاکستان کے قیام کو اپنی تاریخ کا حصہ بھی سمجھتے ہیں مگر خود کو بھارت کا شہری بھی مانتے ہیں۔اسی طرح سکھوں کی ایک بڑی تعداد جن کا سب سے مقدس مقام ننکانہ صاحب پاکستان میں ہے خود کو اس تقسیم کا سب سے بڑا "غیر متعلقہ” فریق سمجھتی ہے۔ ان کے لیے تقسیم ایک ایسا زخم ہے جس نے نہ صرف ان کی زمین چھینی بلکہ ان کی شناخت کو بھی تقسیم کر دیا۔
آج 79سال بعد جب دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں بن چکے ہیں جب سرحدوں پر باڑ لگ چکی ہے جب ویزہ ایک خواب بن چکا ہے اور جب سفارتی تعلقات سرد مہری کی انتہا پر ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم تقسیم کی لکیر کو مٹانے کے بجائے اسے مزید گہرا کرتے جا رہے ہیں؟ نوجوان نسل کو تقسیم کی کہانی صرف کتابوں میں ملتی ہے مگر شاید وہ جذبات نہیں ملتے جو اس المیے کی اصل روح تھے۔ ہمیں اپنے نصاب، اپنے میڈیا اور اپنی گفتگو میں یہ احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ 14 اگست صرف جشن کا دن نہیں ایک لمحۂ فکریہ بھی ہے
14 اگست ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی ایک عظیم نعمت ہے مگر اس کی قیمت بھی بہت زیادہ تھی، لاکھوں جانوں کی قربانی، تہذیبوں کا بٹوارہ، دلوں کی جدائی اور آج تک کی سرد جنگ۔ اس دن کو مناتے وقت ہمیں اُن لوگوں کو نہیں بھولنا چاہیے جنہوں نے اپنے کل کو ہمارے آج پر قربان کیا۔تقسیم کی لکیر ہمارے درمیان ہے مگر اسے ذہن و دل پر حاوی نہ ہونے دیں۔ تاریخ کو یاد رکھنا ضروری ہے مگر اسی میں قید رہنا ایک نئی نسل سے زیادتی ہے۔ ہمیں آگے بڑھنا ہے مگر پیچھے دیکھ کر سیکھنا بھی ہے۔ 14 اگست اسی سیکھ کا دن ہے ۔ ۔ ۔ لکیر کے اِدھر بھی اور اُدھر بھی۔



