
پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر عمل تیز کرنے کے لیے کمیٹی قائم، قانونی و معاشی معاملات کا جائزہ شروع
دوسری جانب ایران اپنی سرزمین پر منصوبے کے بڑے حصے کی تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور پاکستان کی جانب سے منصوبے کے حصے کی تعمیر نہ ہونے کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں۔
سید عاطف ندیم -ادارت
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایران کے ساتھ طویل عرصے سے زیرِ التوا گیس پائپ لائن منصوبے پر عمل درآمد کے امکانات کو آگے بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر قابلِ قبول حل تلاش کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کردی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کمیٹی منصوبے سے متعلق قانونی، معاشی اور انتظامی معاملات کا جائزہ لے گی اور ایسا حل تجویز کرے گی جس سے پاکستان اور ایران دونوں کے مفادات کو متوازن رکھا جاسکے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات، درآمدی گیس پر انحصار اور توانائی کے شعبے میں بلند اخراجات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ دوسری جانب ایران اپنی سرزمین پر منصوبے کے بڑے حصے کی تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور پاکستان کی جانب سے منصوبے کے حصے کی تعمیر نہ ہونے کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں۔
وزیراعظم کی جانب سے اہم کمیٹی کا قیام
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کا بنیادی مقصد ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو عملی شکل دینے کی راہ میں موجود رکاوٹوں کا جائزہ لینا اور قابلِ عمل راستہ تلاش کرنا ہے۔
حکومت کے مطابق کمیٹی دونوں ممالک کے لیے قابلِ قبول حل تجویز کرے گی، جس میں منصوبے سے متعلق معاشی اخراجات، ذمہ داریوں اور مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے گا۔
کمیٹی کی ذمہ داری صرف تعمیراتی معاملات تک محدود نہیں ہوگی بلکہ منصوبے سے جڑے قانونی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے گا، تاکہ پاکستان کے لیے ایسا راستہ اختیار کیا جاسکے جس سے بین الاقوامی قوانین اور پابندیوں سے متعلق ممکنہ پیچیدگیوں کو بھی سامنے رکھا جا سکے۔
ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ کیا ہے؟
ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ ایک طویل عرصے سے زیرِ بحث توانائی منصوبہ ہے جس کا مقصد ایران سے پاکستان کو قدرتی گیس فراہم کرنا ہے۔
اس منصوبے کو بعض اوقات پاک ایران گیس پائپ لائن یا آئی پی گیس پائپ لائن بھی کہا جاتا ہے۔
منصوبے کی مجموعی لمبائی تقریباً 1,900 کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔ منصوبے کے مکمل ہونے کی صورت میں ایران سے پاکستان کو روزانہ تقریباً 750 ملین سے ایک ارب مکعب فٹ گیس فراہم کیے جانے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔
اس مقدار میں گیس پاکستان کی توانائی کی ضروریات میں اہم حصہ ڈال سکتی ہے، خصوصاً بجلی کی پیداوار، صنعت، کھاد، گھریلو استعمال اور دیگر شعبوں میں۔
25 سال تک توانائی کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت
حکومتی مؤقف کے مطابق ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ طویل المدتی بنیادوں پر پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
اس منصوبے سے 750 ملین سے ایک ارب مکعب فٹ یومیہ گیس کی ممکنہ سپلائی پاکستان کے لیے توانائی کے ایک مستقل ذریعے کی حیثیت اختیار کرسکتی ہے۔
قدرتی گیس پاکستان کے بجلی، صنعتی اور گھریلو شعبوں کے لیے اہم ایندھن ہے۔ اگر گیس کی مقامی پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے تو ملک کو درآمدی ذرائع پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر اور توانائی کے مجموعی اخراجات پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اسی لیے ایران سے براہ راست گیس کی ممکنہ فراہمی کو پاکستان کے طویل المدتی توانائی منصوبوں میں اہمیت حاصل رہی ہے۔
ایران نے اپنی جانب سے 2 ارب ڈالر خرچ کرنے کا دعویٰ کیا
ایران کا مؤقف ہے کہ اس نے اپنی سرزمین پر گیس پائپ لائن کے حصے کی تعمیر کے لیے تقریباً 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
ایرانی حکام طویل عرصے سے پاکستان پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ اپنے علاقے میں منصوبے کا حصہ مکمل کرے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان گیس کی ترسیل شروع ہوسکے۔
پاکستان کی جانب سے منصوبے کی تعمیر میں تاخیر کے باعث یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور قانونی سطح پر حساس موضوع بن چکا ہے۔
حالیہ کمیٹی کے قیام کا ایک اہم مقصد اسی پیچیدہ صورتحال کا ایسا حل تلاش کرنا ہے جس سے دونوں ممالک کے مفادات کا تحفظ ہوسکے۔
پاکستان نے اپنی جانب سے تعمیر کیوں نہیں کی؟
پاکستان کی جانب سے منصوبے پر تعمیراتی کام شروع نہ کیے جانے کی بنیادی وجہ ایران پر عائد امریکی اور دیگر بین الاقوامی پابندیوں کو قرار دیا جاتا رہا ہے۔
ایران کے خلاف پابندیوں کے باعث پاکستان کے لیے منصوبے پر عملی پیش رفت کرنا پیچیدہ رہا ہے، کیونکہ گیس پائپ لائن کی تعمیر اور ایران سے گیس کی درآمد پاکستان کو بین الاقوامی پابندیوں اور ممکنہ قانونی و مالیاتی نتائج سے دوچار کرسکتی ہے۔
پاکستان نے اسی تناظر میں منصوبے کی تکمیل کے لیے مزید وقت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔
ستمبر 2024 کی توسیعی مدت بھی ختم ہوگئی
پاکستان کو منصوبے کی تعمیر کے لیے پہلے سے حاصل شدہ دس سالہ توسیعی مدت بھی دستیاب تھی، تاہم اس عرصے کے دوران بھی منصوبے پر تعمیراتی کام شروع نہیں کیا جاسکا۔
مذکورہ توسیعی مدت ستمبر 2024 میں ختم ہوگئی۔
اس کے بعد منصوبے کے حوالے سے قانونی اور مالی پیچیدگیاں مزید بڑھ گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اب اس معاملے کو ایک جامع قانونی اور معاشی جائزے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیر توانائی نے سینیٹ کو کیا بتایا؟
وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی ایران پاکستان گیس پائپ لائن سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لے رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کمیٹی میں منصوبے کے قانونی پہلوؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کے مفاد میں قابلِ عمل حل تلاش کیا جاسکے۔
وزیر توانائی کے مطابق دونوں ممالک کی قیادت اس معاملے سے پوری طرح آگاہ اور منسلک ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ ایسا حل سامنے آئے جو دونوں ممالک کے لیے قابلِ قبول ہو۔
انہوں نے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کی کہ پاکستان اور ایران اس معاملے کو بہتر انداز میں حل کرنے کے خواہاں ہیں۔
پاکستان کے لیے قانونی چیلنج کیا ہے؟
ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج بین الاقوامی پابندیوں کا معاملہ ہے۔
ایران پر عائد پابندیوں کے باعث پاکستان کے لیے ایران سے توانائی درآمد کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کرتے ہوئے عالمی مالیاتی نظام، بین الاقوامی قوانین اور ممکنہ پابندیوں کے اثرات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔
اسی لیے نئی کمیٹی کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ منصوبے کے ہر قانونی پہلو کا جائزہ لے اور ایسا طریقہ کار تجویز کرے جس سے پاکستان غیر ضروری قانونی یا مالی خطرات سے محفوظ رہ سکے۔
یہی وجہ ہے کہ حکومت فوری تعمیر کے بجائے پہلے قانونی، مالی اور سفارتی پہلوؤں کو واضح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
معاشی اخراجات اور ذمہ داریوں کا توازن
کمیٹی کی ایک اہم ذمہ داری منصوبے کے معاشی اخراجات اور دونوں ممالک کی ذمہ داریوں کا جائزہ لینا بھی ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان اس منصوبے کی نوعیت طویل المدتی ہے، اس لیے کسی بھی نئے فیصلے میں تعمیراتی لاگت، گیس کی قیمت، ترسیل کے اخراجات، مالی ذمہ داریوں اور ممکنہ جرمانوں سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
پاکستان کی معیشت کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ گیس کی ممکنہ درآمد سے حاصل ہونے والے فوائد اور منصوبے پر آنے والی مالی لاگت کے درمیان مناسب توازن قائم کیا جائے۔
پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات
پاکستان کو گزشتہ کئی برسوں سے توانائی کے شعبے میں متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ مقامی گیس کے ذخائر میں کمی، بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب، درآمدی ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور توانائی کے شعبے میں مالی دباؤ نے حکومت کے لیے متبادل اور طویل المدتی توانائی ذرائع کی تلاش کو اہم بنا دیا ہے۔
اس تناظر میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن ایک ممکنہ متبادل توانائی منصوبہ ہوسکتا ہے، بشرطیکہ اس سے متعلق قانونی اور بین الاقوامی پابندیوں کے معاملات قابلِ عمل انداز میں حل ہوجائیں۔
صنعت اور بجلی کے شعبے کو ممکنہ فائدہ
اگر منصوبہ مستقبل میں عملی شکل اختیار کرتا ہے اور گیس کی باقاعدہ سپلائی شروع ہوجاتی ہے تو اس سے پاکستان کے صنعتی اور توانائی کے شعبوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
قدرتی گیس بجلی گھروں، صنعتی یونٹس، کھاد سازی، ٹیکسٹائل، سیمنٹ، اسٹیل اور دیگر کئی شعبوں کے لیے اہم ایندھن ہے۔
مستقل اور نسبتاً قابلِ پیش گوئی گیس سپلائی سے صنعتوں کے پیداواری منصوبوں میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کا حتمی فائدہ گیس کی قیمت، سپلائی کی شرائط اور منصوبے کی معاشی قابلِ عملیت پر منحصر ہوگا۔
ایران کے لیے بھی منصوبہ معاشی اہمیت رکھتا ہے
ایران کے لیے یہ منصوبہ پاکستان کی ایک بڑی توانائی منڈی تک رسائی فراہم کرسکتا ہے۔
ایران کے پاس قدرتی گیس کے بڑے ذخائر موجود ہیں اور پاکستان اس کا ایک قریبی ہمسایہ ملک ہے۔ اس لیے ایران طویل عرصے سے پاکستان کو گیس برآمد کرنے میں دلچسپی ظاہر کرتا رہا ہے۔
پاکستانی مارکیٹ تک پائپ لائن کے ذریعے گیس کی رسائی ایران کے لیے توانائی کی برآمدات اور علاقائی تجارت میں ایک اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔
دوطرفہ تعلقات پر بھی اثرات
ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ صرف توانائی کا منصوبہ نہیں بلکہ دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان اور ایران طویل مشترکہ سرحد، مذہبی و ثقافتی روابط اور علاقائی مفادات رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوششیں جاری رہی ہیں۔
گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت دونوں ممالک کے معاشی تعلقات کو نئی سمت دے سکتی ہے، تاہم اس کے لیے سفارتی سطح پر بھی مسلسل رابطہ ضروری ہوگا۔
کمیٹی کے سامنے اہم سوالات
حکومت کی قائم کردہ کمیٹی کو منصوبے کے حوالے سے کئی اہم سوالات کا جائزہ لینا ہوگا۔
ان میں یہ امور شامل ہوسکتے ہیں:
- منصوبے کی موجودہ قانونی حیثیت کیا ہے؟
- ایران پر عائد پابندیوں کے تناظر میں پاکستان کے لیے کیا قانونی راستے موجود ہیں؟
- منصوبے کی تکمیل پر پاکستان کو کتنی مالی لاگت برداشت کرنا ہوگی؟
- ایران کی جانب سے پہلے کی گئی سرمایہ کاری اور پاکستان کی ذمہ داریوں کا کیا تعین ہوگا؟
- گیس کی قیمت اور طویل المدتی خریداری کے معاہدے کی شرائط کیا ہوں گی؟
- منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کس قسم کی بین الاقوامی ضمانتیں درکار ہوں گی؟
- پاکستان کے لیے ممکنہ جرمانوں یا دیگر قانونی ذمہ داریوں کا کیا حل ہوسکتا ہے؟
- منصوبہ موجودہ توانائی پالیسی اور مستقبل کی ضروریات سے کس حد تک ہم آہنگ ہے؟
ان سوالات کے جوابات سامنے آنے کے بعد ہی حکومت کے لیے کسی حتمی راستے کا تعین آسان ہوگا۔
ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے ممکنہ فوائد
اگر منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو پاکستان کو کئی ممکنہ فوائد حاصل ہوسکتے ہیں:
توانائی کے ذرائع میں تنوع
ایران سے گیس کی درآمد پاکستان کو توانائی کے مختلف ذرائع میں تنوع فراہم کرسکتی ہے۔
صنعتی سرگرمیوں میں بہتری
مناسب قیمت اور مستقل سپلائی کی صورت میں صنعتوں کو توانائی کی بہتر دستیابی حاصل ہوسکتی ہے۔
طویل المدتی توانائی منصوبہ بندی
750 ملین سے ایک ارب مکعب فٹ یومیہ ممکنہ سپلائی پاکستان کی طویل المدتی توانائی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
دوطرفہ تجارت میں اضافہ
توانائی کی تجارت سے پاکستان اور ایران کے درمیان مجموعی معاشی روابط بڑھ سکتے ہیں۔
علاقائی رابطوں میں بہتری
توانائی کے منصوبے دونوں ممالک کے درمیان علاقائی اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔
لیکن چیلنجز بھی برقرار
منصوبے کے ممکنہ فوائد کے باوجود کئی بڑے چیلنجز ابھی موجود ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ ایران پر بین الاقوامی پابندیاں ہیں۔
اس کے علاوہ منصوبے کی مالی لاگت، گیس کی قیمت، انفراسٹرکچر، تعمیراتی اخراجات، قانونی ذمہ داریاں اور ممکنہ بین الاقوامی ردعمل بھی اہم عوامل ہیں۔
حکومت کو ان تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لینا ہوگا تاکہ کسی ایسے فیصلے سے بچا جاسکے جو مستقبل میں پاکستان کے لیے مالی یا سفارتی مشکلات پیدا کرے۔
دونوں ممالک کی قیادت کا رابطہ
وزیر توانائی علی پرویز ملک کے مطابق پاکستان اور ایران کی قیادت اس معاملے میں پوری طرح سے منسلک ہے اور بہتر حل تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے۔
یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت اس منصوبے کو محض ایک پرانے معاہدے کے طور پر نہیں دیکھ رہی بلکہ اسے پاکستان کی مستقبل کی توانائی ضروریات اور ایران کے ساتھ معاشی تعلقات کے تناظر میں دوبارہ فعال کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
حکومت کی قائم کردہ کمیٹی کی سفارشات اس منصوبے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہوں گی۔ اگر کمیٹی قانونی اور معاشی طور پر قابلِ عمل راستہ تجویز کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو حکومت ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اگلے مرحلے کا تعین کرسکتی ہے۔
اس کے بعد ممکنہ طور پر منصوبے کی شرائط، تعمیراتی ذمہ داریوں، مالی معاملات اور پابندیوں سے متعلق معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان مزید بات چیت ہوگی۔
نتیجہ
ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے کمیٹی کا قیام ایک اہم پیش رفت ہے۔ کئی برس سے تعطل کا شکار اس منصوبے کو دوبارہ عملی بحث میں لانے کے لیے حکومت نے قانونی، معاشی اور توانائی کے پہلوؤں کا جامع جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان کے لیے اس منصوبے کی اہمیت اس کی ممکنہ گیس سپلائی اور مستقبل کی توانائی ضروریات کے تناظر میں ہے، جبکہ ایران کے لیے یہ ایک بڑی قریبی منڈی تک گیس برآمد کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی پابندیاں، مالی ذمہ داریاں اور منصوبے کی قانونی حیثیت ایسے عوامل ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
اب سب کی نظریں قائم کردہ کمیٹی کی سفارشات پر ہوں گی۔ اگر حکومت دونوں ممالک کے مفادات، پاکستان کی قانونی پوزیشن اور بین الاقوامی پابندیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قابلِ عمل راستہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ منصوبہ پاکستان کی توانائی پالیسی اور پاک ایران معاشی تعلقات میں ایک نئی پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے۔



