
آئی فون 18 پرو کی قیمت میں 100 ڈالر اضافے کا امکان، ایپل کے نئے فونز صارفین کے لیے کتنے مہنگے ہوں گے؟
پاکستانی کرنسی میں یہ رقم تقریباً 3 لاکھ 35 ہزار روپے بنتی ہے، تاہم پاکستان میں درآمدی ڈیوٹی، ٹیکسز، رجسٹریشن اور دیگر اخراجات کے باعث مقامی مارکیٹ میں قیمت اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
ایپل کی جانب سے نئی آئی فون 18 سیریز کو ستمبر میں متعارف کرائے جانے کی توقع ہے، تاہم نئی ڈیوائسز کی آمد سے قبل ہی ان کی ممکنہ قیمتوں کے حوالے سے اہم اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی رپورٹس کے مطابق آئی فون 18 پرو کی ابتدائی قیمت میں کم از کم 100 ڈالر اضافے کا امکان ہے، جس کے بعد اس کی قیمت تقریباً 1,200 ڈالر سے شروع ہوسکتی ہے۔
پاکستانی کرنسی میں یہ رقم تقریباً 3 لاکھ 35 ہزار روپے بنتی ہے، تاہم پاکستان میں درآمدی ڈیوٹی، ٹیکسز، رجسٹریشن اور دیگر اخراجات کے باعث مقامی مارکیٹ میں قیمت اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایپل کی جانب سے قیمتوں میں ممکنہ اضافے کی ایک بڑی وجہ عالمی سطح پر RAM اور دیگر میموری چپس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے لیے بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بھاری سرمایہ کاری نے میموری چپس کی طلب میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔
آئی فون 18 پرو کی ممکنہ قیمت کیا ہوگی؟
امریکی ٹیکنالوجی ویب سائٹ سی نیٹ کی رپورٹ کے مطابق بلومبرگ کے ٹیکنالوجی تجزیہ کار مارک گرمن نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ایپل ستمبر میں ہونے والی اپنی سالانہ تقریب کے دوران نئی مصنوعات کے ساتھ قیمتوں میں بھی اضافہ کرسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئی فون 18 پرو کی ابتدائی قیمت تقریباً 1,200 ڈالر ہوسکتی ہے، جو آئی فون 17 پرو کی ابتدائی قیمت کے مقابلے میں تقریباً 100 ڈالر زیادہ ہوگی۔
اگر یہ پیش گوئی درست ثابت ہوتی ہے تو ایپل کے نئے پرو ماڈل کی قیمت میں تقریباً 9 فیصد کے قریب اضافہ ہوگا، جو موجودہ عالمی معاشی حالات اور ٹیکنالوجی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی لاگت کے تناظر میں صارفین کے لیے اہم تبدیلی ہوگی۔
تاہم یہ بات اہم ہے کہ ایپل کی جانب سے نئی سیریز کی حتمی قیمتوں کا باضابطہ اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔
ستمبر میں آئی فون 18 سیریز کی رونمائی متوقع
ایپل عام طور پر سالانہ آئی فون لانچ ایونٹ میں اپنی نئی مصنوعات متعارف کراتا ہے۔ رواں سال بھی ستمبر میں ایک بڑے ایونٹ کے دوران آئی فون 18 سیریز کی رونمائی متوقع ہے۔
نئی سیریز میں آئی فون 18 کے مختلف ماڈلز کے ساتھ آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس خصوصی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں۔
صارفین کی دلچسپی صرف قیمتوں تک محدود نہیں بلکہ نئے آئی فونز کے کیمرہ سسٹم، مصنوعی ذہانت، بیٹری، ڈیزائن، کارکردگی اور ڈسپلے سے متعلق ممکنہ اپ گریڈز پر بھی مرکوز ہے۔
ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون بھی آسکتا ہے
رپورٹس میں ایک اور بڑی پیش رفت کا ذکر کیا گیا ہے کہ ایپل اپنے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کو بھی متعارف کراسکتا ہے۔
اس ڈیوائس کو ممکنہ طور پر آئی فون الٹرا کا نام دیا جاسکتا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی نام اور خصوصیات ایپل کی جانب سے اعلان کے بعد ہی واضح ہوں گی۔
فولڈ ایبل آئی فون روایتی آئی فونز کے مقابلے میں زیادہ مہنگا ہونے کی توقع ہے۔ اگر ایپل واقعی فولڈ ایبل فون کو اپنی پریمیم کیٹیگری میں شامل کرتا ہے تو اس کی قیمت موجودہ پرو ماڈلز سے نمایاں طور پر زیادہ ہوسکتی ہے۔
اس ڈیوائس کی آمد ایپل کے لیے بھی ایک اہم قدم ہوگی کیونکہ فولڈ ایبل اسمارٹ فون مارکیٹ میں پہلے ہی سام سنگ اور دیگر کمپنیاں کئی سال سے موجود ہیں۔
قیمت بڑھانے کی بڑی وجہ میموری چپس کی قلت؟
نئے آئی فونز کی ممکنہ مہنگائی کے پیچھے سب سے اہم عوامل میں عالمی سطح پر میموری چپس کی قیمتوں میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔
گزشتہ عرصے کے دوران مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں ہونے والی تیز رفتار ترقی نے ڈیٹا سینٹرز اور کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کی طلب میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔
اے آئی ماڈلز کو چلانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرورز، اسٹوریج اور ہائی پرفارمنس میموری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے میموری اور متعلقہ ہارڈویئر کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔
اس بڑھتی ہوئی طلب کا اثر عام صارفین کی استعمال ہونے والی مصنوعات تک بھی پہنچ رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی دوڑ نے میموری مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا
ایمیزون، مائیکروسافٹ، گوگل اور میٹا سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
ان کمپنیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز، سرورز اور اے آئی کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر تیار کیے جانے کے باعث ہائی بینڈوڈتھ میموری، DRAM، NAND اور دیگر میموری ٹیکنالوجیز کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔
اگر یہ دباؤ برقرار رہتا ہے تو اس کے اثرات صرف اسمارٹ فونز تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ لیپ ٹاپس، گیمنگ کنسولز، ٹیبلٹس اور دیگر الیکٹرانک مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
ایپل پہلے بھی قیمتیں بڑھا چکا ہے
ایپل کی جانب سے بعض مصنوعات کی قیمتوں میں پہلے ہی اضافہ کیا جاچکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی نے حالیہ مہینوں میں منتخب میک بکس، آئی پیڈز اور ہوم پوڈز کی قیمتوں میں اضافہ کیا، جبکہ بعض مصنوعات کی قیمت میں تقریباً 33 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔
اسی سلسلے میں بعض میک مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھائی گئیں۔ رپورٹ میں آئی میک کی قیمت تقریباً 1,300 ڈالر سے بڑھا کر 1,500 ڈالر کیے جانے کا ذکر ہے۔
اسی طرح بعض میک بک ماڈلز کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا، جبکہ میک بک پرو کے مختلف ماڈلز میں بعض صورتوں میں 300 ڈالر تک اضافہ رپورٹ ہوا۔
یہ پیش رفت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کا بوجھ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
کیا صرف ایپل ہی فون مہنگے کررہا ہے؟
ممکنہ قیمت میں اضافے کے حوالے سے ایپل اکیلی کمپنی نہیں ہے۔
ٹیکنالوجی مارکیٹ میں سام سنگ اور گوگل سمیت دیگر بڑی کمپنیاں بھی اپنے نئے فلیگ شپ اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں اضافے کی طرف گئی ہیں۔
اگر ایپل آئی فون 18 پرو کی قیمت میں 100 ڈالر کا اضافہ کرتا ہے تو یہ اضافہ حریف کمپنیوں کی جانب سے کیے گئے حالیہ قیمتوں کے اضافوں کے ساتھ ایک ہی رجحان کا حصہ سمجھا جاسکتا ہے۔
اسمارٹ فون مارکیٹ میں فلیگ شپ ڈیوائسز پہلے ہی مہنگی ہوچکی ہیں اور نئی ٹیکنالوجی، بہتر کیمرے، زیادہ طاقتور پروسیسرز، مصنوعی ذہانت اور زیادہ اسٹوریج جیسے فیچرز کی وجہ سے پیداواری لاگت بھی بڑھ رہی ہے۔
کیا مہنگا آئی فون صارفین کی خریداری کم کردے گا؟
آئی فون کی قیمت میں ممکنہ 100 ڈالر اضافے کے باوجود ماہرین کا خیال ہے کہ ایپل کے پاس قیمت بڑھانے کی نسبتاً زیادہ گنجائش موجود ہے۔
ٹیکنالوجی تجزیہ کار پاؤلو پیسکیٹور کے مطابق ایپل کے پاس ایک مضبوط صارف بنیاد، وسیع ایکو سسٹم اور مختلف مالیاتی سہولیات موجود ہیں، جن کی وجہ سے کمپنی قیمتوں میں اضافے کو نسبتاً آسانی سے مارکیٹ میں پیش کرسکتی ہے۔
ایپل صارفین کو ٹریڈ اِن، فنانسنگ اور ماہانہ اقساط جیسے آپشنز بھی فراہم کرتا ہے، جس سے ایک ساتھ بڑی رقم ادا کرنے کا بوجھ کم ہوسکتا ہے۔
صارف نیا فون خریدنے کے بجائے پرانا فون زیادہ عرصہ استعمال کرسکتے ہیں
اگرچہ ایپل کے وفادار صارفین کی ایک بڑی تعداد قیمت میں معمولی اضافے کے باوجود نئے آئی فون خرید سکتی ہے، تاہم زیادہ قیمت کا ایک دوسرا اثر بھی ہوسکتا ہے۔
کچھ صارفین نیا آئی فون خریدنے کے بجائے اپنے موجودہ فون کو مزید ایک یا دو سال استعمال کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔
یہ رویہ اس وقت زیادہ نمایاں ہوسکتا ہے جب صارفین کو نئے ماڈل میں اپنے موجودہ آئی فون کے مقابلے میں بہت بڑی تکنیکی بہتری محسوس نہ ہو۔
یعنی قیمت میں اضافے کے ساتھ ایپل کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ نیا آئی فون واقعی اتنی اضافی رقم کے قابل ہے۔
قیمت بڑھے گی تو صارفین کی توقعات بھی بڑھیں گی
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایپل آئی فون 18 پرو کی قیمت بڑھاتا ہے تو صارفین کی توقعات بھی اسی تناسب سے بڑھیں گی۔
ایک مہنگے فون سے صارفین صرف معمولی اپ گریڈ کی توقع نہیں کریں گے بلکہ وہ کیمرہ، بیٹری، مصنوعی ذہانت، ڈیزائن اور کارکردگی میں واضح بہتری دیکھنا چاہیں گے۔
خصوصاً پرو ماڈلز کے صارفین ایپل سے جدید ترین ٹیکنالوجی اور نمایاں فرق کی توقع رکھتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت آئی فون 18 کا اہم میدان بن سکتی ہے
نئی آئی فون سیریز کے لیے مصنوعی ذہانت ایک اہم خصوصیت بننے کی توقع ہے۔
اسمارٹ فون مارکیٹ میں گوگل، سام سنگ اور دیگر کمپنیاں پہلے ہی اے آئی فیچرز کو اپنے فلیگ شپ فونز میں نمایاں کر رہی ہیں۔
ایپل کے لیے بھی ضروری ہوگا کہ وہ اپنے اے آئی فیچرز کو زیادہ مؤثر اور عملی بنائے تاکہ صارفین کو نئے فون پر منتقل ہونے کی مضبوط وجہ فراہم کی جاسکے۔
اگر آئی فون 18 سیریز میں اے آئی سے متعلق نمایاں سہولیات، تیز رفتار پروسیسنگ اور بہتر آن ڈیوائس انٹیلی جنس متعارف کرائی جاتی ہے تو یہ قیمت میں اضافے کو کسی حد تک قابلِ قبول بنا سکتی ہیں۔
کیمرہ اور بیٹری بھی فیصلہ کن عوامل ہوں گے
آئی فون کی خریداری میں کیمرہ ہمیشہ سے ایک اہم عنصر رہا ہے، خاص طور پر پرو اور پرو میکس ماڈلز کے لیے۔
صارفین نئی نسل کے فونز میں زیادہ بہتر فوٹوگرافی، ویڈیو ریکارڈنگ، زوم، کم روشنی میں کارکردگی اور اے آئی پر مبنی امیج پروسیسنگ کی توقع کرسکتے ہیں۔
اسی طرح بیٹری ٹائمنگ بھی اہم ہوگی۔
اگر قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو صارفین یہ توقع کریں گے کہ نئی ڈیوائس زیادہ طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ بہتر بیٹری کارکردگی بھی فراہم کرے۔
نیا ڈیزائن یا نیا فارم فیکٹر اہم ثابت ہوسکتا ہے
آئی فون 18 سیریز میں ممکنہ نئے ڈیزائن یا فارم فیکٹر بھی صارفین کی دلچسپی کا مرکز ہوسکتے ہیں۔
خصوصاً اگر ایپل واقعی اپنا پہلا فولڈ ایبل آئی فون متعارف کراتا ہے تو یہ کمپنی کے لیے گزشتہ کئی سالوں کی سب سے بڑی ہارڈویئر تبدیلیوں میں شمار ہوسکتا ہے۔
فولڈ ایبل ڈیوائس ایپل کو پریمیم اسمارٹ فون مارکیٹ میں ایک نئی کیٹیگری فراہم کرے گی، تاہم اس کے ساتھ زیادہ قیمت کا چیلنج بھی موجود ہوگا۔
ایپل کے پاس قیمت کا بوجھ برداشت کرنے کی گنجائش بھی
رپورٹ میں ایپل کے منافع کے مارجن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کمپنی کے پاس قیمتوں میں اضافے کے کچھ اثرات خود برداشت کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ میموری اور دیگر پرزہ جات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا پورا بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کے بجائے ایپل اس کا ایک حصہ خود برداشت کرے۔
تاہم کمپنی کے لیے یہ فیصلہ بھی اہم ہوگا کہ وہ اپنے منافع کے مارجن، عالمی طلب اور صارفین کی قیمت برداشت کرنے کی صلاحیت کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتی ہے۔
ماہانہ اقساط صارفین کے لیے سہولت بن سکتی ہیں
آئی فون کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود ایپل کے پاس ایک اہم فائدہ اس کے فنانسنگ اور اپ گریڈ پروگرام ہیں۔
ماہانہ ادائیگی کے ذریعے صارفین کے لیے مہنگے فون کی خریداری نسبتاً آسان ہوسکتی ہے۔ اسی طرح پرانے آئی فون کو ٹریڈ اِن کرنے سے نئے فون کی مجموعی لاگت بھی کم ہوسکتی ہے۔
اس حکمت عملی کے ذریعے ایپل ممکنہ طور پر قیمتوں میں اضافے کے باوجود صارفین کی خریداری برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔
پاکستانی صارفین کے لیے قیمت مزید زیادہ ہوسکتی ہے
پاکستان میں آئی فون 18 پرو کی ممکنہ قیمت 1,200 ڈالر کے براہ راست روپے کے حساب سے تقریباً 3 لاکھ 35 ہزار روپے بنتی ہے، لیکن مقامی مارکیٹ میں حتمی قیمت اس رقم تک محدود نہیں ہوگی۔
پاکستانی صارفین کے لیے آئی فون کی قیمت پر درآمدی ڈیوٹیز، ٹیکسز، کسٹم چارجز، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور PTA رجسٹریشن جیسے عوامل اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
اسی لیے اگر عالمی سطح پر آئی فون 18 پرو کی قیمت 1,200 ڈالر مقرر ہوتی ہے تو پاکستان میں اس کی حتمی قیمت مقامی ٹیکس اور مارکیٹ حالات کے مطابق نمایاں طور پر مختلف ہوسکتی ہے۔
آئی فون 18 پرو میکس کی قیمت بھی بڑھنے کا امکان
اگر آئی فون 18 پرو کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو پرو میکس ماڈل کی قیمت بھی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
پرو میکس عموماً ایپل کے فلیگ شپ آئی فون لائن اپ میں سب سے مہنگے روایتی ماڈلز میں شامل ہوتا ہے۔ اس میں بڑے ڈسپلے، زیادہ جدید کیمرہ فیچرز اور دیگر پریمیم خصوصیات شامل ہوسکتی ہیں۔
اگر اس کے ساتھ فولڈ ایبل آئی فون بھی متعارف کرایا جاتا ہے تو ایپل اپنی پریمیم مصنوعات کے لیے قیمتوں کی ایک نئی سطح قائم کرسکتا ہے۔
ایپل کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہوگا؟
آئی فون 18 سیریز کے لیے سب سے بڑا چیلنج صرف بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت نہیں بلکہ صارفین کو قیمت میں اضافے کا جواز فراہم کرنا ہوگا۔
اگر صارفین کو نئے ماڈل میں نمایاں بہتری نظر آتی ہے تو وہ زیادہ قیمت قبول کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر نئی خصوصیات معمولی اپ گریڈ تک محدود رہیں تو صارفین اپنے موجودہ فون کو زیادہ عرصہ استعمال کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایپل کے لیے نئی سیریز کے فیچرز اور قیمت دونوں کا درست توازن انتہائی اہم ہوگا۔
ستمبر کی تقریب پر نظریں
اب ٹیکنالوجی کی دنیا کی نظریں ایپل کے ستمبر میں متوقع نئے پراڈکٹ ایونٹ پر مرکوز ہیں۔
اسی تقریب میں کمپنی کی جانب سے نئی آئی فون سیریز، پرو ماڈلز، ممکنہ فولڈ ایبل ڈیوائس اور دیگر مصنوعات سے متعلق حتمی معلومات سامنے آنے کی توقع کی جارہی ہے۔
قیمتوں، دستیابی اور فیچرز کے بارے میں حتمی فیصلہ ایپل کے باضابطہ اعلان کے بعد ہی واضح ہوگا۔
نتیجہ
آئی فون 18 سیریز کی آمد سے پہلے قیمتوں میں ممکنہ اضافے کی اطلاعات نے صارفین کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ اگر آئی فون 18 پرو واقعی 1,200 ڈالر کی ابتدائی قیمت کے ساتھ مارکیٹ میں آتا ہے تو یہ ایپل کے پریمیم اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں ایک نمایاں اضافہ ہوگا۔
تاہم ایپل کے لیے صرف قیمت بڑھانا کافی نہیں ہوگا۔ کمپنی کو صارفین کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ نئی ڈیوائس میں موجود ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، کیمرہ، بیٹری، کارکردگی اور ممکنہ نئے ڈیزائن کی خصوصیات اضافی قیمت کے قابل ہیں۔
دوسری جانب عالمی سطح پر اے آئی انفراسٹرکچر میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور میموری چپس کی طلب نے پوری الیکٹرانکس صنعت کے لیے لاگت کا نیا چیلنج پیدا کردیا ہے۔ اس لیے آئی فون 18 کی ممکنہ مہنگائی صرف ایپل کی حکمت عملی نہیں بلکہ عالمی ٹیکنالوجی سپلائی چین میں آنے والی تبدیلیوں کا بھی نتیجہ ہوسکتی ہے۔
اب حتمی فیصلہ ستمبر میں متوقع ایپل لانچ ایونٹ کے دوران ہوگا، جہاں آئی فون 18 سیریز کی قیمت، فیچرز اور ممکنہ فولڈ ایبل آئی فون سے متعلق تمام اہم تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔



