پاکستاناہم خبریں

پاکستان کی امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی سفارتی کوششیں تیز، مذاکرات کی بحالی پر مثبت توقعات

ایران پاکستان کا اہم ہمسایہ ملک ہے، جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات موجود ہیں

سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان دونوں فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور اسلام آباد کو امید ہے کہ امریکہ اور ایران اپنے اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات کی طرف واپس آئیں گے۔

بدھ کو معمول کی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان وزارتِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہا ہے اور اس کا مؤقف واضح ہے کہ مسائل اور تنازعات کا دیرپا حل طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران دونوں سے مسلسل رابطے میں ہے اور دونوں ممالک کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے کے بجائے مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس حوالے سے مثبت توقعات ہیں اور امید ہے کہ دونوں فریق بالآخر اپنے اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔

آرمی چیف کے دورۂ تہران سے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی

ترجمان دفترِ خارجہ نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے گزشتہ ماہ دورۂ تہران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے کے بعد آبنائے ہرمز اور خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیجی خطے سے عالمی منڈیوں تک توانائی کی ترسیل میں اس کی مرکزی حیثیت ہے۔ اس لیے اس آبی گزرگاہ سے متعلق کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

پاکستان کی جانب سے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر خصوصی توجہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسلام آباد خطے میں کسی وسیع تر فوجی تصادم کے ممکنہ نتائج سے آگاہ ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں اس کے اثرات صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا بھی اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔

ایران پر حملوں کی نئی لہر اور بڑھتی ہوئی تشویش

دوسری جانب امریکی فوج نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے ایران کے خلاف حملوں کی تازہ ترین لہر مکمل کر لی ہے، جس میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب، آئی آر جی سی، سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

ان حملوں کے بعد خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کی براہِ راست فوجی کشیدگی کو علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔

دفاعی اور سفارتی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ایک ایسے مرحلے تک پہنچنے سے روکا جائے جہاں سفارتی رابطوں کی گنجائش کم ہو جائے۔ اسی پس منظر میں پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی بحالی پر زور کو اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان ماضی میں بھی علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات میں مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کرتا رہا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ جنگ اور فوجی کارروائیاں عارضی طور پر کسی صورتحال کو تبدیل کر سکتی ہیں، تاہم پائیدار امن کے لیے سیاسی اور سفارتی حل ناگزیر ہوتا ہے۔

اسحاق ڈار کا امریکہ اور ایران سے معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ

پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی منگل کو امریکہ اور ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مفاہمتی یادداشت، یعنی ایم او یو، پر خلوصِ نیت کے ساتھ عمل درآمد کریں۔

وزیرِ خارجہ کے مطابق موجودہ کشیدگی میں پیش رفت کا واحد راستہ یہ ہے کہ دونوں فریق طے شدہ مفاہمت اور سفارتی فریم ورک پر سنجیدگی کے ساتھ عمل کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر امریکہ اور ایران اپنے باہمی اختلافات کے باوجود کسی مفاہمتی دستاویز پر اتفاق کر چکے ہیں تو اس پر عملی پیش رفت ہی اعتماد سازی اور کشیدگی میں کمی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایم او یو پر عمل درآمد کے مطالبے کا مقصد دونوں فریقوں کو یہ یاد دلانا ہے کہ فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سفارتی راستے کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی، اعتماد سازی یا سیاسی سمجھوتے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ فریقین اپنے سابقہ وعدوں پر عمل کریں۔

پاکستان کا کردار اور علاقائی استحکام

پاکستان امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد خود کو مذاکرات کی بحالی کے لیے رابطوں اور سفارتی کوششوں کے ایک ممکنہ ذریعہ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

ایران پاکستان کا اہم ہمسایہ ملک ہے، جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات موجود ہیں۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کی کوشش یہ ہو سکتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا راستہ برقرار رکھا جائے اور ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کی جائے جو کشیدگی کو وسیع تر علاقائی جنگ میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں، خلیجی ممالک کی سلامتی، سمندری تجارت اور عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور علاقائی تجارتی سرگرمیوں میں ممکنہ رکاوٹوں کا براہِ راست سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی تشویش کا مرکز

آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال کو بھی عالمی سطح پر انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ خلیجی خطے کی توانائی کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ اس سمندری راستے سے گزرتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا فوجی کشیدگی عالمی منڈیوں میں فوری بے چینی پیدا کر سکتی ہے۔

پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر سفارتی سرگرمیوں میں تیزی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام آباد نہ صرف اپنی قومی سلامتی بلکہ وسیع تر علاقائی اور اقتصادی استحکام کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے بیان اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے مؤقف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی موجودہ سفارتی پالیسی کا بنیادی نکتہ کشیدگی میں کمی، مذاکرات کی بحالی اور تمام فریقوں کی جانب سے سفارتی وعدوں پر عمل درآمد ہے۔

مذاکرات ہی واحد قابلِ عمل راستہ؟

موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اور ایران بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باوجود دوبارہ براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی طرف واپس آئیں گے۔

پاکستان نے اس حوالے سے امید ظاہر کی ہے کہ سفارتی کوششیں بالآخر نتیجہ خیز ثابت ہوں گی۔ طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان کی دونوں فریقوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور اسلام آباد کو مثبت توقع ہے کہ امریکہ اور ایران اپنے اختلافات کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔

علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کی بحالی آسان نہیں ہو گی، تاہم کشیدگی کے بڑھتے ہوئے خطرات خود دونوں فریقوں کو سفارتی راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا مقصد بھی بظاہر یہی ہے کہ جنگ کے امکانات کم کیے جائیں اور رابطوں کا سلسلہ برقرار رکھا جائے۔

پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی طرف واپس لانے کی کوششیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں فوجی اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسلام آباد کا پیغام واضح ہے کہ طاقت کے استعمال سے پیدا ہونے والے تنازعات کا پائیدار حل صرف بات چیت، اعتماد سازی اور سنجیدہ سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اب عالمی اور علاقائی سطح پر نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششیں امریکہ اور ایران کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز تک لانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا خطے میں جاری کشیدگی مزید پیچیدہ صورت اختیار کرتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button