
ہمالیہ میں تباہ کن سیلاب، نیپال میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک، ہزاروں لاپتا، تبت میں بھی جانی نقصان
گزشتہ بدھ کو آنے والی اس تباہ کن آفت کے بعد سے سینکڑوں غیر ملکی شہریوں کا بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
سید عاطف ندیم-ادارت
کٹھمنڈو/لہاسا: ہمالیہ کے علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور شدید فلیش فلڈز کے نتیجے میں نیپال اور چین کے زیر انتظام تبت میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ نیپالی حکام کے مطابق صرف نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں۔
کٹھمنڈو میں حکام نے منگل کے روز بتایا کہ نیپال میں سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 1,058 ہو گئی ہے، جن میں 65 بچے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب چین کے زیر انتظام تبت میں ہلاکتوں کی تعداد گزشتہ کئی روز سے 16 بتائی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق تباہی کی مکمل شدت کا اندازہ لگانا ابھی ممکن نہیں کیونکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی اور تلاش کی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کے بارے میں معلومات اب بھی نامکمل ہیں۔
ہزاروں افراد لاپتا، غیر ملکی شہریوں کا بھی سراغ نہیں
نیپالی پولیس کے مطابق لاپتا افراد کی تعداد بڑھ کر تقریباً 5,100 ہو گئی ہے۔ تبت میں بھی لگ بھگ 550 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ بدھ کو آنے والی اس تباہ کن آفت کے بعد سے سینکڑوں غیر ملکی شہریوں کا بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
لاپتا افراد کی تعداد اور ان کی درست شناخت کے حوالے سے حکام کو مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ متعدد علاقوں سے معلومات ٹیلی فون کے ذریعے رشتہ داروں، دوستوں اور مقامی افراد کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق لاپتا افراد کی مکمل اور حتمی فہرست ابھی تیار نہیں ہو سکی، اس لیے آنے والے دنوں میں اعداد و شمار میں مزید تبدیلی کا امکان موجود ہے۔
سینکڑوں لاشوں کی شناخت ممکن نہ ہو سکی
سیلاب کی شدت کے باعث ہلاک ہونے والوں کی شناخت بھی امدادی اداروں اور پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔
نیپالی حکام کے مطابق برآمد ہونے والی متعدد لاشیں بری طرح مسخ ہو چکی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں تقریباً 390 لاشیں ایسی ہیں جن کی شناخت تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
حکام کے مطابق بعض متاثرہ علاقوں سے صرف انسانی ہڈیوں کے ٹکڑے یا جسم کے کچھ اعضا برآمد ہوئے ہیں، جس کے باعث روایتی طریقوں سے شناخت ممکن نہیں رہی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ان لاشوں اور انسانی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے تجزیے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس عمل میں وقت لگنے کا امکان ہے، جس کے باعث لاپتا افراد کے خاندانوں کو بھی اپنے پیاروں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
پن بجلی کے منصوبے بھی سیلاب کی زد میں آ گئے
سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد میں پن بجلی کے منصوبوں سے وابستہ سینکڑوں کارکن بھی شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق سیلاب نے 12 ہائیڈرو پاور پلانٹس کو تباہ کیا یا انہیں شدید نقصان پہنچایا۔ ان منصوبوں میں بعض پن بجلی گھر فعال تھے جبکہ بعض تعمیراتی مراحل میں تھے۔
حکام کے مطابق متعدد کارکن سیلاب کے اچانک آنے کے وقت متاثرہ علاقوں میں موجود تھے اور ان میں سے کئی اب بھی لاپتا ہیں۔
پن بجلی کے منصوبوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث متاثرہ علاقوں میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی صورتحال بھی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
خراب موسم نے امدادی کارروائیوں کو متاثر کیا
متاثرہ علاقوں میں خراب موسم اور مزید فلیش فلڈز کے خدشات نے امدادی اور ریسکیو کارروائیوں کو سست کر دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ شدید بارش، دشوار گزار پہاڑی علاقے اور متعدد مقامات پر بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے باعث متاثرہ علاقوں تک رسائی ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔
ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش اور متاثرہ خاندانوں تک امداد پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم موسم کی صورتحال کے باعث کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق تباہی کی مکمل شدت اور متاثرین کی حتمی تعداد کا اندازہ اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک لاپتا افراد کی معلومات کو مکمل طور پر مرتب نہیں کر لیا جاتا اور دور دراز متاثرہ علاقوں تک امدادی ٹیموں کی رسائی ممکن نہیں ہو جاتی۔
ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تعداد میں تبدیلی کا امکان
نیپالی حکام نے واضح کیا ہے کہ موجودہ اعداد و شمار ابتدائی معلومات اور اب تک موصول ہونے والی رپورٹس پر مبنی ہیں۔
لاپتا افراد کی بڑی تعداد اور متاثرہ علاقوں میں جاری تلاش کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
متاثرہ خاندان اپنے لاپتا عزیزوں کے بارے میں معلومات کے منتظر ہیں، جبکہ پولیس اور دیگر ادارے ہلاک شدگان کی شناخت اور لاپتا افراد کی فہرست مرتب کرنے میں مصروف ہیں۔
ہمالیائی خطے میں انسانی بحران
ہمالیہ کے علاقے میں آنے والے اس تباہ کن سیلاب نے نیپال اور تبت کے متاثرہ علاقوں میں ایک سنگین انسانی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
بڑے پیمانے پر جانی نقصان، ہزاروں افراد کے لاپتا ہونے، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور پن بجلی کے منصوبوں کو پہنچنے والے نقصان نے امدادی اداروں کے لیے صورتحال کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم خراب موسم اور مزید فلیش فلڈز کے خطرے کے باعث حکام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام کے مطابق آنے والے دن تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ لاپتا افراد کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے، ہلاک شدگان کی شناخت اور متاثرہ علاقوں میں تباہی کے مکمل پیمانے کا اندازہ لگانے کا عمل ابھی جاری ہے۔



