یورپتازہ ترین

روس کے یوکرین پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے، کم از کم 12 افراد ہلاک، نیٹو طیارے بھی الرٹ

زیلنسکی نے بین الاقوامی شراکت داروں پر زور دیا کہ یوکرین کو فضائی دفاعی صلاحیتوں کے لیے مزید مدد فراہم کی جائے تاکہ شہری آبادی اور اہم انفراسٹرکچر کو حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

کییف/اوڈیسا: روس نے یوکرین پر ایک بار پھر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں کییف اور اوڈیسا سمیت ملک کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق رات بھر جاری رہنے والے حملوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔

یوکرینی فضائیہ کے مطابق روسی حملوں میں 200 سے زائد ڈرونز استعمال کیے گئے اور ملک بھر میں کم از کم 28 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے نتیجے میں شہری اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ متعدد علاقوں میں ہنگامی امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق دارالحکومت کییف میں ایک ریلوے ڈپو پر روسی میزائل حملے کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہوئے۔ حکام کے مطابق ملک کے دیگر علاقوں میں ہونے والے حملوں کو ملا کر ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کم از کم 12 ہو گئی، جبکہ زخمیوں کی تعداد درجنوں میں بتائی جا رہی ہے۔

کییف سمیت متعدد شہروں کو نشانہ بنایا گیا

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی حملوں کا سلسلہ صرف دارالحکومت تک محدود نہیں رہا بلکہ اوڈیسا، خارکیف، زاپوریژیا اور خیرسون سمیت کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

صدر زیلنسکی کے مطابق روسی حملوں کے نتیجے میں مختلف شہروں میں بنیادی ڈھانچے اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا، جبکہ مقامی انتظامیہ اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حملوں کی شدت اور جغرافیائی پھیلاؤ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین کو اپنے فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب موسم سرما کی آمد سے قبل توانائی اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

زیلنسکی نے بین الاقوامی شراکت داروں پر زور دیا کہ یوکرین کو فضائی دفاعی صلاحیتوں کے لیے مزید مدد فراہم کی جائے تاکہ شہری آبادی اور اہم انفراسٹرکچر کو حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اوڈیسا میں سرحدی گزرگاہ اور برآمدی انفراسٹرکچر متاثر

یوکرینی صدر کے مطابق اوڈیسا کے علاقے میں روسی حملوں کے نتیجے میں رومانیہ کی سرحد کے قریب واقع ایک سرحدی گزرگاہ اور برآمدی انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔

اوڈیسا اور اس کے گردونواح کو یوکرین کی تجارت اور برآمدات کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے، اس لیے علاقے میں انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے سے ملکی تجارتی سرگرمیوں اور سرحد پار نقل و حمل پر ممکنہ اثرات کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

یوکرینی حکام کی جانب سے متاثرہ تنصیبات کے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ حملوں کے بعد حفاظتی اور امدادی اقدامات بھی جاری رکھے گئے۔

روسی ڈرون حملوں میں اضافہ

دوسری جانب یوکرین کی فضائیہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ روس نے صرف اگست کے مہینے کے دوران جیٹ انجن سے چلنے والے 2,800 سے زائد ڈرونز استعمال کیے۔

ان کے مطابق جیٹ انجن سے چلنے والے ان ڈرونز کو رفتار اور تکنیکی خصوصیات کے باعث نشانہ بنانا نسبتاً زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

یوکرینی فضائیہ کے ترجمان کے مطابق اگست کے دوران استعمال کیے جانے والے ایسے ڈرونز میں سے تقریباً 60 فیصد کو تباہ کیا جا سکا، جبکہ دیگر اقسام کے ڈرونز کے مقابلے میں ان کی تباہی کی شرح کم رہی۔

یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے جدید اور تیز رفتار ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے فضائی دفاعی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔

موسم سرما سے قبل فضائی دفاع کی ضرورت

صدر زیلنسکی نے کہا کہ روسی حملوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلانا ہے اور متعدد شہروں میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موسم سرما کی آمد سے قبل یوکرین کو فضائی دفاعی نظام اور متعلقہ دفاعی صلاحیتوں کے لیے مزید بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے۔

یوکرینی حکومت طویل عرصے سے اپنے مغربی اتحادیوں سے فضائی دفاعی نظام، میزائل اور دیگر دفاعی سازوسامان کی فراہمی میں اضافے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

تازہ حملوں کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ مطالبات سامنے آئے ہیں کہ یوکرین کے بڑے شہروں، توانائی کے نظام، صنعتی تنصیبات اور اہم نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا جائے۔

ایسٹونیا کی فضائی حدود کے قریب ڈرونز، نیٹو طیارے الرٹ

ادھر بالٹک خطے میں بھی روسی حملوں کے اثرات اور فضائی سرگرمیوں کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی ہے۔

ایسٹونیا کے وزیر خارجہ مارگس ساخنا نے کہا ہے کہ رات کے وقت ڈرونز کی پروازوں کے بعد نیٹو نے اپنے جنگی طیاروں کو فوری طور پر فضا میں بھیج دیا۔

ان کے مطابق بعض ڈرونز ملک کی سرحد کے قریب پرواز کرتے ہوئے مختصر مدت کے لیے ایسٹونیا کی فضائی حدود میں بھی داخل ہوئے۔

مارگس ساخنا نے کہا کہ نیٹو نے صورتحال پر انتہائی تیزی سے ردعمل دیا اور فضائی نگرانی اور دفاعی اقدامات فوری طور پر فعال کیے گئے۔

ان کے بقول نیٹو اتحاد صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے رکن ممالک کی سلامتی اور علاقائی حدود کے دفاع کے لیے تیار ہے۔

جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات

یوکرین پر تازہ بڑے پیمانے کے روسی حملوں اور بالٹک خطے میں فضائی سرگرمیوں کے بعد جنگ کے ممکنہ علاقائی اثرات کے حوالے سے خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔

یوکرین میں جاری جنگ پہلے ہی یورپی سلامتی، توانائی کی صورتحال اور عالمی معیشت پر اثرات مرتب کر چکی ہے، جبکہ نیٹو رکن ممالک کی فضائی حدود کے قریب ڈرونز کی سرگرمیوں نے سکیورٹی اداروں کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔

تازہ حملوں نے ایک مرتبہ پھر یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیتوں، اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور جنگ کے ممکنہ علاقائی پھیلاؤ سے متعلق سوالات کو نمایاں کر دیا ہے۔

یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ حملوں کے نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ صورتحال سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button